‏شہر شہر کی خبر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏شہر شہر کی خبر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 11 اپریل، 2021

ڈسکہ کے زندہ عوام نے ووٹ چور، آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی چوروں سے بدلہ لیا . عطیع اللہ بیگ کا ڈسکہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آٸی کی شکشت پر وار


چلاس( پریس ریلیز) ڈسکہ کے زندہ عوام نے ووٹ چور، آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی چوروں سے بدلہ لیا۔ 


ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میاں عطیع اللّٰہ بیگ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں عوام اور ان کا ووٹ جیت گیا، ووٹ چور سلیکٹڈ مافیا ہار گیا۔


قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کی کامیابی پر مسلم لیگ ن کے رہنما میاں عطیع اللّٰہ بیگ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ کے زندہ عوام نے ووٹ چور، آٹا، چینی، بجلی، 

گیس، دوائی چوروں سے بدلہ لیا۔

مذید پڑھے اہم اور دلچسپ خبر ۔ عمران خان  کا دورہ گلگت 


ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسکہ کی دلیر عوام نے نواز شریف اور شہبازشریف کی عوامی خدمت اور حب الوطنی پر مہر لگائی۔

عوام نے فیصلہ سنا دیا کہ پاکستان میں ووٹ چوروں، پریذائیڈنگ افسران کے اغواکاروں کی کوئی جگہ نہیں، عوام نے فیصلہ سنادیا کہ سلیکٹڈ نیازی گھر جاؤ۔

‏انہوں نے مزید کہا ڈسکہ میں شیر کی کامیابی جمہوریت انصاف اورآئین کی فتح ھے

انگریزی میں خبریں پرھنے کے لیے ہمارا انگلش ویب نیوز پر کلک کریں

اللّٰہ کے فضل و کرم سے اھل  ِڈسکہ نے ووٹ کو عزت دی اسُکی حُرمت پر پہرہ دیا اور ووٹ چور نااھل کرپٹ حکمرانی کو مسترد کردیا مسلم لیگ ن کی حمزہ شہباز شریف مریم نواز شریف انتخابی ٹیم کو  بہترین ٹیم ورک پر مبارکباد پیش کرتا ہوں حق و صداقت کا ساتھ دینے پر این اے 75 کے جانبازوں ، تمام اتحادی سیاسی جماعتوں کو سلام کرتا ہوں

بدھ، 26 اگست، 2020

بابوسر روڈ کھلوانے کیلئے کوششیں جاری رکھے محکمہ داخلہ کی ھدایت پہ مجسٹریٹ بھی موقع پہ پہنچ گئے

 

محکمہ داخلہ کی ھدایات پہ ضلعی انتظامیہ دیامر نیشنل ھائی وے اتھارٹی کے ساتھ مل کے جل تھک وادی میں بابوسر روڈ کھلوانے کیلئے کوششیں جاری رکھے ھوئے ہے اور جلد ھی یہ سڑک ھر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دی جائے گی۔ یاد رہے کہ سیلاب کے باعث آج شام کو یہ سڑک بند ھو گئی تھی ۔ نیشنل ھائی وے اتھارٹی کو اپنی مشینری متاثرہ علاقے کو روانہ کرنے کے احکامات پہلے ھی صادر کئے جا چکے ہیں تاکہ جلد از جلد اس سڑک کو کھول کر پھنسے ہوئے مسافروں کیلئے راستہ کھول دیا جائے۔ محکمہ داخلہ کی ھدایت پہ مجسٹریٹ بھی موقع پہ پہنچ گئے ہیں اور کام کی نگرانی جاری ہے

پیر، 24 اگست، 2020

گلگت ۔ پرائیوٹ سکولز نیٹ ورک گلگت بلتستان کی نگران کابینہ کا اعلان


 

   گلگت ۔(ہنزہ ٹی )  پرائیویٹ سکولز نیٹ ورک گلگت بلتستان (پی ایس این) کی نگران کابینہ کا اعلان کردیاگیا ہے نگران کابینہ الیکشن کے انعقاد سمیت  بائی لاز کی تیاری اور منظوری دینے سمیت تمام اضلاع میں الیکشن کا انعقاد کیلئے الیکشن کمیٹی کی تشکیل  دے گی نگران کابینہ مشاورتی کونسل کا قیام بھی عمل میں لائے گی جو تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل سے متعلق تجاویز دے گی۔ نگران کابینہ کے صدر کیلئے سینئر صحافی اور ایڈ منسٹریٹر قراقرم پبلک سکول محمد عیسیٰ حلیم پر پہلے ہی اتفاق رائے کر کے  کابینہ کی تشکیل کا اختیار دیاگیا تھا  نگران صدر نے کابینہ کی تشکیل مکمل کرنے ہوئے شاہ مرزہ سینئر نائب صدر ر عبدالقیوم ،نائب صدر  ، فدا حسین جنرل سیکریٹری، عابد حسین جوائنٹ سیکریٹری، محمد سلیم فنانس سیکریٹری،  محمدفروز خان ڈپٹی فنانس سیکریٹری،زوہیب اختر کو سیکریٹری  انفارمیشن اور عاقب حسین کو ڈپٹی سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے کیلئے  انتخاب کیا گیا  جمعہ کے روز  مختلف اضلاع اور حلقوں میں خدمات سرانجام دینے والے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران،پرنسپلز سے ضروری مشاورت کے بعد نگران کابینہ سازی کا عمل مکمل کرلیاگیا ہے پی ایس این کے رکن تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے نگران کابینہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں فروغ تعلیم اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کیلئے خدمات سرانجام دینے والے تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہوئے  شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے۔

ہفتہ، 22 اگست، 2020

گلگت ۔ گلگت میں غیر مقامی بیکاریوں کو پولیس نے شہر بدر کردیا



 ایس ایچ او سٹی و ائرپورٹ کی کارروائی    

گلگت شہر میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے بھکاریوں کی کثیر تعداد موجود ہےاس بارے میں ایس ایس پی گلگت راجہ مرزہ حسن صاحب نے نوٹس لیتے ہوئے ان کو شہر بدر کے  احکامات دیئے ۔جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایس ایچ او سٹی و ائرپورٹ  نے  کارروائی کرتے ہوئے آج شہر بھر سے  تئیس(23) بھکاریوں کو دوبارہ شہر میں نظر نہ آنے کی سخت ہدایات دیتے ہوئے ان سب کو شہر سے نکال دیا گیا ۔تاکہ شہر میں  محرم ا لحرام  کے  دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھاجاسکے ۔

ایس ایس پی گلگت راجہ مرزہ حسن صاحب نے ایس ایچ اوز کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے شاباش دی ہے

بدھ، 19 اگست، 2020

گلگت شہر کے مختلف مقامات کے امام بارگاہوں کی سکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے دورہ کیا۔

 

گلگت۔ (ہنزہ ٹی وی )نوید احمد ڈپٹی کمشنر /ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گلگت نے محرم الحرام کو پر امن بنانے کے لیے گلگت شہر کے مختلف مقامات کے امام بارگاہوں کی سکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے دورہ کیا۔ ڈی سی گلگت کے دورے کے ہمراہ اے سی گلگت بھی موجود تھے۔  ڈی سی گلگت نے امام بارگاہوں کے منتظمین سے ملاقات کی اور کہا ہے کہ محرم الحرام کو پر امن بنانے لے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں  اور کویڈ۔ 19 پر عملدرآمد کرائیں امام بارگاہوں کے منتظمین اوررضاکاروں سے محرم الحرام کے انتظامات کے حوالے سے گفت شیندکی اور انتظامیہ کیساتھ ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کر ائی  اور کرونا ایس او پیز پر ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گاجس پر امام بارگاہوں کے منتظمین نے ڈی سی گلگت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاہے کہ محرم الحرام کو پر امن بنانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ہر وقت تعاون کریں گے۔ جس پر ڈی سی گلگت نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے سیکورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے ہر قسم کے اقدامات اٹھاینگے اور ڈی سی گلگت نے مزید کہا ہے کہ کہ محرم الحر ام کے دوران سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے چکنگ کے نظا م کو سخت سے سخت بنایا جائے گا۔اور یکم محرم سے پہلے تما م تر سہولیات فراہم کئے جا ئنگے۔ امام بارگاہوں میں رات کے اوقات میں مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے ان تمام مقامات پر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیے جائے گی تا کہ دوران مجالس کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس حوالے سے محکمہ برقیات کو تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہو ئے کہا ہے کہ رات کے اوقات میں مجالس کے لیے آنے والے راستوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ ضابط اخلاق کا خاص خیال رکھا جائے۔

  




گلگت کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس نے کرونا سے متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے داخلہ اور ماہانہ فیسوں میں بھر پور رعایت کا اعلان کر دیا ہے

 

گلگت   (ہنزہ نیوز آن لائن ) گلگت کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس نے کرونا سے متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے داخلہ اور ماہانہ فیسوں میں بھر پور رعایت کا اعلان کر دیا ہے ۔گلگت کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کے پرنسپل کے دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام طلبہ جن کے خاندان یا گھر کا کوئی فرد کرونا وباءسے متاثر ہو اہے تو ایسے طالب علموں کو جی سی سی ای میں داخلوں اور ماہانہ فیس میں بھر پور رعایت دی جائے گی اور سال 2020میں داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات اسپیکج سے مستفید ہو سکیں گے ۔جی سی سی ای کے پالیسی کے تحت قابل اور مستحق طلبہ و طالبات پہلے سے ہی مختلف پیکجز سے مستفید ہو رہے اور وظائف بھی دی جا رہی ہیں جبکہ کرونا وباءکے دوران جی سی سی ای نے سب سے زیادہ 40فیصد تک ماہانہ فیسوں میں رعایت دی ہے ۔

حرم الحرام مجالس روٹس کو کلیئر کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کا آغاز کردیا ہے چیف کوآرپوریشن آفیسر بلدیہ عظمیٰ گلگت عابد حسین میر


لگت (ہنزہ نیوز آن لائن) چیف کوآرپوریشن آفیسر بلدیہ عظمیٰ گلگت عابد حسین میر نے کہاکہ محرم الحرام مجالس روٹس کو کلیئر کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کا آغاز کردیا ہے روڈ پر تعمیراتی میٹرئیل، تجاوزات،کے خاتمے کیلئے بلڈنگ انسپکٹرز ہنگامی بنیادوں پر کام کریں گے جبکہ صفائی کے بعد کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے اہلکا ر چوکس کردار ادا کررہے ہیں محرم الحرام کے دوران شہر میں خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے میٹ انسپکٹر،  فوڈ انسپکٹر، اور میونسپل مجسٹریٹ بلدیہ فورس کے ہمراہ انتظامی رٹ کو قائم رکھنے کیلئے الرٹ ہیں، مجالس عز ا کے دوران کسی بھی مشکل صورتحال کے تدارک کیلئے میونسپل عملہ اور بلدیہ فورس چوکنا رہی گی اور فوری معلومات کی رسائی کیلئے میونسپل میڈیا سیل فعال کردار ادا کررہا ہے عوام سے گزارش ہے کہ کسی بھی خبر اور ایکشن کی تصدیق کیلئے براہ راست الفا کنٹرول یا میڈیا سیکشن سے رابطہ کریں تاکہ انہیں درست معلومات مل سکیں، انہوں نے کہا کہ ایڈ منسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت کیپٹن (ر) اسامہ مجید چیمہ کے قیادت میں میونسپل کارپوریشن گلگت اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی شہری مسائل کے حل کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہیں عوامی خدمت ہی ہمارا نصب العین ہے 



یڈ منسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت کیپٹن (ر) اسامہ مجیدچیمہ نے کہا کہ محرم الحرام عزاداروں کیلئے تمام دستیاب سہولیات مہیا کریں گے

 


گلگت (سید اسد اللہ غازی)  ایڈ منسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت کیپٹن (ر) اسامہ مجیدچیمہ نے کہا کہ محرم الحرام عزاداروں کیلئے تمام دستیاب سہولیات مہیا کریں گے تمام امام بارگاہوں کی سکیورٹی یقینی بنائیں گے، مجلس عزا کے دوران بجلی کی ترسیل جاری رہے گی، شہریوں کو پینے کا صاف پانی کی فراہمی کیلئے متعلقہ ادارہ عملی اقدامات کریں گے مجالس کے دوران کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے محکمہ صحت بنیادی کردار ادا کرے گا شہر کی صفائی، امام بارگاہوں اور جلوس کے گزرگاہوں کی صفائی یقینی بنانے کیلئے بلدیہ اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی اقدامات تیز کریں گے محرم الحرام کے مجالس کے دوران ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے مرکزی امامیہ کونسل کے سا تھ ضلعی انتظامیہ مربوط رابطہ رکھے گی فل روف سکیورٹی کے انتظامات کئے جائیں گے گلگت صوبے کا ہیڈ کوآرٹر ہے اور دیگر اضلاع سے گلگت کی اہمیت زیادہ ہے یہاں امن ہوگا تو دیگر اضلاع پر مثبت اثرات مرتب ہونگے جبکہ ملکی سطح پر ہم گلگت میں پرامن محرم کے انعقا د پر رول ماڈل ثابت ہونگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ڈپٹی کمشنر گلگت نوید احمد کے ہدایات پر محکمہ پولیس، ہیلتھ، محکمہ برقیات، محکمہ واسا، مینٹننس،تعمیرات، بلدیہ، اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کا مشترکہ اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ یکم محرم الحرام سے 15 محرم الحرام تک ضلعی انتظامیہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ ملکر پرامن انداز میں محرم الحرام کے انعقادکیلئے اقدامات کریں گے اس سلسلے میں تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے محکمانہ زمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھائیں گے، مجالس عشرہ کے دوران بجلی کی ترسیل یقینی بنانے کیلئے برقیات والے ہنگامی شیڈو ل بنائیں گے، امام بارگاہوں، مساجد، ما تمی راستوں اور گزرگاہوں پر روشنی کیلئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں گے، جبکہ محرم کے دوران صاف پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے واسا خصوصی شیڈول مرتب کرے تاکہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم نہ ہونے پڑے، انہوں نے تعمیرات کے سائٹ ڈویلپمنٹ آفیسر سے کہاکہ وہ مجالس اور جلوس کے راستوں میں جاری ترقیاتی کام مکمل کرتے ہوئے کلوٹس کو بھی کلیئر کرے تاکہ شہریوں کو پانی کی ترسیل میں مشکلات درپیش نہ ہو، اجلاس میں چیف کوآرپوریشن آفیسر عابد حسین میر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مبین، خاتون ایس ڈی پی او، انجینئر مشتاق برقیات، انجینئر مظہر حسین تعمیرات، واسا، مینٹیننس، گلگت ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے سیف الدین شیخ، مجاہد حسین، اور متعلقہ سیکٹر مجسٹریٹس نے اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر تمام لائن ڈیپارٹمنتس کے آفیسران نے یقین دہانی کرائی کہ وہ محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاکہ عزاداروں اور شہریوں کو مشکلات درپیش نہ، اسسٹنٹ کمشنر نے تما م سیکٹر مجسٹریٹس کو ہدایات دیں کہ وہ میونسپل حدود میں واقع تما م امام بارگاہوں کو دورہ کرکے رپورٹ دیں، محلہ ماتمی انجمنوں سے ملیں، امام بارگاہوں کی سکیورٹی سمیت تمام معاملات باریک بینی سے دیکھیں ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ مرکزی امامیہ کونسل کے ساتھ ملکر محرم الحرام کے دوران ایس او پیز کے تحت مجالس کا انعقاد اور اختتام پزیر ہو، اس سلسلے میں علماء کا تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے اجلاس کے آخر میں اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن (ر) اسامہ مجید چیمہ نے تمام شرکاء کا اجلاس میں شریک ہونے پر انکا شکریہ ادا کیا۔


گلگت کیپٹن(ر) اسامہ مجید چیمہ کا محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کے امام بارگاہوں کا تفصیلی دورہ ، اپنے دورے کے دوران انہوں نے محلہ جاتی امامیہ انجمنوں کے صدور سے ملاقاتیں کیں




گلگت (سید اسد اللہ غازی)ڈپٹی کمشنر گلگت کے ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر/ ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گلگت کیپٹن(ر) اسامہ مجید چیمہ کا محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کے امام بارگاہوں کا تفصیلی دورہ ، اپنے دورے کے دوران انہوں نے محلہ جاتی امامیہ انجمنوں کے صدور سے ملاقاتیں کیں اور عالمی وبا کے تدارک کیلئے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے جانب سے جاری SOPs پر عملدرآمد ، امن و آمان کے قیام،ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد سمیت دیگر اہم ایشوز پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔۔مرکزی امامیہ کونسل نے اسسٹنٹ کمشنر کے دورے اور انتظامات کے حوالے سے اقدامات پر اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے جانب سے جاری اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ۔۔۔واضح رہے محرم الحرام کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے اپنے انتظامت مکمل کرلئے ہیں 

ہفتہ، 18 جولائی، 2020

گلگت۔ ضلع گلگت کی جغرافیائی حدود میں وال چاکنگ پر دفعہ 144 عائد، خلاف ورزی کے مر تکب افراد کے خلاف سخت قانونی کاورئی کا فیصلہ۔

پر یس نوٹ
گلگت۔ ضلع گلگت کی جغرافیائی حدود میں وال چاکنگ پر دفعہ 144 عائد، خلاف ورزی کے مر تکب افراد کے خلاف سخت قانونی کاورئی کا فیصلہ۔
 تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈپٹی کمشنر ضلع گلگت نوید احمد کے احکامات پر ضلع کے تینوں سب ڈویژنوں گلگت، دنیور اور جگلوٹ میں ہر قسم کی وال چاکنگ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس ضمن میں دفعہ 144ضابطہ فوجداری کا نفاذ کر دیا گیا اور چھاپہ مار ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئیں جو خلاف ورزی کے مرتکب افراد کیخلاف کاروائی کے لیے سر گرم عمل رہیں گی۔ واضح رہے انتخابی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی مختلف امیدواران کے جانب سے مختلف مقامات پر وال چاکنگ دیکھنے میں آئی تھی جس پر شہریوں نے اعتراض کرتے ہوئے کاورائی کا مطالبہ کیا تھا اور آج ان کی درخواست پر کاورائی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے ایسے تمام اقدامات پر پابندی عائد کر دی ہے اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کاورائی کا فیصلہ کیا ہے علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر گلگت نے تینوں سب ڈویژن کے لیے ایسی تمام ممنوعہ وال چاکنگ کو مٹانے کے حوالے سے بھی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو آج سے کاورائی کا آغاز کریں گی۔ ضلع گلگت کے عوامی سماجی اور سیاسی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر گلگت نوید احمد کے اس امر کو خوب سراہا ہے اور ان کی اس مہم میں بڑ ھ چڑ ھ کر ان کے ساتھ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ
ڈپٹی کمشنر گلگت کا شہر کے کو ہلوں میں گند گی پھلنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے تمام کو ہلوں کی فوری صفائی کرنے کے احکاما ت بھی  جاری کر دئیے گئے۔

                                                                                      شاہد حسین
                                                                                       پبلک ریلیشن آفیسر ڈپٹی کمشنر آفس
                                                                                                    گلگت
ٹیکرز۔۔۔۔۔۔
گلگت۔ ضلع گلگت کی جغرافیائی حدود میں وال چاکنگ پر دفعہ 144 عائد، خلاف ورزی کے مر تکب افراد کے خلاف سخت قانونی کاورئی کا فیصلہ۔
گلگت۔ہفتہ کے روز ڈپٹی کمشنر ضلع گلگت نوید احمد کے احکامات پر ضلع کے تینوں سب ڈویژنوں گلگت، دنیور اور جگلوٹ میں ہر قسم کی وال چاکنگ پر پابندی عائد کر دی گئی۔
گلگت۔ اس ضمن میں دفعہ 144ضابطہ فوجداری کا نفاذ کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوید احمد
گلگت۔انتخابی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی مختلف امیدواران کے جانب سے مختلف مقامات پر وال چاکنگ دیکھنے میں آئی تھی۔
گلگت۔ شہریوں نے اعتراض کرتے ہوئے کاورائی کا مطالبہ کیا تھا
گلگت۔ ڈپٹی کمشنر گلگت نے تینوں سب ڈویژن کے لیے ایسی تمام ممنوعہ وال چاکنگ کو مٹانے کے حوالے سے بھی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں
گلگت۔عوامی سماجی اور سیاسی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر گلگت نوید احمد کے اس امر کو خوب سراہا ہے اور ان کی اس مہم میں بڑ ھ چڑ ھ کر ان کے ساتھ دینے کا عندیہ دیا ہے۔
گلگت۔ڈی سی گلگت کا شہر کے کو ہلوں میں گند گی پھلنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے تمام کو ہلوں کی فوری صفائی کرنے کے احکاما ت بھی  جاری کر دئیے گئے۔

جمعرات، 14 مئی، 2020

اسلام آباد . حکومت حالات کو کنٹرول میں محسوس کر رہی ہے . اس لیے لاک ڈاون میں بتدریج نرمی لا رہی ہے

حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد زندگی کسی حد تک معمول پر آچکی ہے مگر اس کے ساتھ یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان میں بہت تیزی کے ساتھ سب کچھ کھولا جارہا ہے اور نادانستہ طور پر کووڈ 19 کے حوالے سے ایک متنازع 'ہرڈ امیونٹی' پالیسی کی جانب بڑھا جارہا ہے۔

ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی مدافعت کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک کی آبادی کے بڑے حصے میں وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کے لیے انہیں اس سے متاثر ہونا دیا جائے، جس سے صحتیاب ہونے کے بعد ان کے اندر اس بیماری کے خلاف مدافعتی اینٹی باڈیز بن جائیں گی
دنیا کی کوئی بھی حکومت کھلے عام اس متنازع پالیسی کی حمایت نہیں کرتی کیونکہ اس سے انسانی زندگیوں کو خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحریر جاری ہے‎

ہرڈ امیونٹی کے پیچھے یہ خیال ہوتا ہے کہ کسی آبادی کے 70 فیصد حصے کو کسی بیماری جیسے کووڈ 19 کا شکار ہونے دیا جائے، جس سے ان کے اندر وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوگی اور اتنی زیادہ آبادی میں مدافعت ہیدا ہونے سے باقی افراد بھی محفوظ ہوجائیں گے، جس کے نتیجے میں یہ وبا بتدریج ختم ہوجائے گی۔

پاکستان میں کوئی بھی حکومتی عہدیدار تسلیم نہیں کرتا کہ اس متنازع حکمت عملی پر بطور پالیسی آپشن بات کی گئی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت ہرڈ امیونٹی پر غور کررہی ہے، تو انہوں نے کہا 'بالکل بھی نہیں، یہ حکومتی پالیسی نہیں، ہم نہ تو اس خیال کو آگے بڑھا رہے ہیں اور نہ ہی اس پر بات چیت کررہے ہیں'۔

مگر حزب اختلاف کی جماعتوں کو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے اور منگل کو مسلم لیگ نواز کے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے سینیٹ میں خطاب کے دوران خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت خود کو ہرڈ امیونٹی کی پالیسی کی جانب لے جارہی ہے۔

تحریر جاری ہے‎

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا۔

اعلیٰ حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ اموات کی کم شرح نے لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے عمل میں مدد دی۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ اموات کی کم تعداد پر سمجھا جارہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں لاک ڈاؤن موثر رہا اور بیماری کی شرح کو دبا دیا یا کسی طرح پاکستانی شہریوں میں اس انفیکشن کے خلاف مزاحمت پیدا ہوگئی ہے

یہ عہدیداران ہرڈ امیونٹی کے خیال پر اجلاسوں میں تبادلہ خیال کی تردید کرتے ہیں مگر یہ ضرور کہتے ہیں کہ جلد یا بدیر وائرس سے تحفظ مل جائے گا اور اموات کی کم شرح یقین دہانی کراتی ہے کہ کووڈ 19 کی صورتحال قابو میں ہے۔

تحریر جاری ہے‎

ایک عہدیدار نے کہا 'وائرس آگے بڑھتا رہا تو ہر ایک میں اس کے خلاف مدافعت پیدا ہوجائے گی'۔

مگر کیا حکومت فکرمند نہیں کہ وہ کس خطرناک راستے کی جانب بڑھ رہی ہے؟ تو ایک عہدیدار نے کہا کہ متعدد ممالک آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کو نرم کررہے ہیں حالانکہ بیماری کی شرح پر ابھی قابو نہیں پایا گیا 'دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے'۔

مگر کیا یہ ہرڈ امیونٹی کی جانب بتدریج بڑھنے کا عمل ہے؟ عہدیدار کا اصرار تھا کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کھل جائیں۔

اگرچہ ایسے واضح سائنسی شواہد تو موجود نہیں، مگر عہدیدار نے کہا کہ کووڈ 19 پر فیصلے کرنے والوں نے کچھ چیزوں کو نوٹس کیا ہے، مثال کے طور پر امریکا میں کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں اس بیماری کی شرح نیویارک کے مقابلے میں کم ہے 'ان دونوں ریاستوں کا موسم نیویارک کے مقابلے میں زیادہ گرم، اسی طرح نئی دہلی اور کراچی میں کووڈ کے پھیلاؤ کی شرح یکساں ہے، مگر نئی دہلی میں اموت کی شرح کراچی سے کم ہے،، یعنی جہاں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے، وائرس کا اثر اتنا ہی کم ہوتا ہے، تو ہمارے پاس لاک ڈاؤن میں نرمی سے بہتر کوئی متبادل نہیں رہ جاتا'۔

ہرڈ امیونٹی کا تصور نیا نہیں، برطانیہ نے اسے پہلے اپنایا تھا اور وبا کے آغاز میں اس وقت ترک کردیا جب یہ تخمینہ سامنے آیا کہ اس سے طبی نظام پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

بھارت میں بھی اسے اپنانے کے لیے منصوبہ پیش کیا گیا۔

اسی طرح بین الاقوامی میڈیا میں سویڈن کا ذکر بھی ایسے ملک کے طور پر کیا جاتا ہے جس کی پالیسی اس سوچ کے بہت قریب ہے۔

سویڈن میں کسی قسم کا لاک ڈاؤن نہیں لگایا گیا، بس شہریوں کو سماجی دوری کی مشق پر زور دیا گیا جبکہ معمر افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔

جیسے اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس پالیسی کے پیچھے یہ خیال ہوتا ہے کہ آبادی کا بہت بڑا حصہ وائرس کا شکار ہوگا تو صحتیاب ہونے پر مریضوں میں ایسی اینٹی باڈیز بن جائیں گی جو کچھ عرصے تک اس وائرس سے محفوظ رکھیں گی۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ نئے کورونا وائرس کے شکار افراد میں اس قسم کی مدافعت (امیونٹی) بنتی ہے یا نہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ابھی ایسے شواہد موجود نہیں جن سے معلوم ہو کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد میں ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں، جو دوسری بار بیمار ہونے سے بچاسکیں۔

درحقیقت اس پالیسی پر عملدرآمد خطرے سے خالی نہیں، جب اتنی بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوں گے تو ہسپتالوں میں علاج کے لیے جگہ ہی نہیں ملے گی اور توقعات سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

پاکستان میں اس حوالے سے دیکھا جائے تو ملک کی آبادی 22 کروڑ سے زیادہ ہے اور 70 فیصد آبادی (جو ہرڈ امیونٹی کے لیے ضروری ہے) 15 کروڑ 46 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔

یعنی 15 کروڑ سے زائد پاکستانی شہری بیمار ہوں گے تو ہرڈ امیونٹی پر عملدرآمد ہوگا۔

اس کو مزید پھیلایا جائے تو اس وقت پاکستان میں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق کووڈ 19 سے ہلاکتوں کی شرح 2.2 فیصد ہے، مگر ممکنہ طور پر اس بیماری سے ہلاکتوں کی شرح اس سے کم ہوگی۔

ایک وبائی امراض کے ماہر کے مطابق پاکستان میں کووڈ کیسز کی اصل تعداد مصدقہ کیسز سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہے اور اس سے ہرڈ امیونٹی سے ہلاکتوں کی شرح کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یعنی ابھی اگر شرح 2.2 فیصد ہے تو کیسز کی تعداد میں دگنا اضافے سے یہ شرح 1.1 فیصد پر آجاتی ہے، اگر کیسز کو 10 گنا زیادہ سمجھا جائے تو یہ اموات کی شرح 0.22 فیصد ہوجاتی ہے، یعنی ہرڈ امیونٹی سے اموات کی شرح کا تعین O.22 سے ایک فیصد تک لگانا ہوگا۔

اگر 0.22 فیصد کو دیکھا جائے تو 70 فیصد یعنی 15 کروڑ سے زائد آبادی میں یہ تعداد 3 لاکھ 40 ہزار 174 بنتی ہے جبکہ ایک فیصد شرح اموات 15 لاکھ 46 لاکھ 246 بنتی ہے۔

یہ ایک سرسری تخمینہ ہے جس میں متعدد سائنسی عناصر کو شامل نہیں کیا گیا مگر اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ پالیسی کتنی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔

طبی ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی وقت ہم سب وائرس سے محفوظ ہوجائیں گے ، مگر مسئلہ وقت کا ہے۔

اگر کوئی آبادی ویکسین کی دستیابی سے قبل امیونٹی کی جانب بڑھتی ہے تو اس کی قیمت انسانی جانوں کی شکل میں ادا کرنا ہوگی جو کہ تباہ کن بھی ہوسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین کی جانب سے وبا کو پھیلنے سے روکنے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ طبی مراکز پر بوجھ بہت زیادہ نہ بڑھ سکے۔

کے پی کے کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کہتے ہیں 'مجھے ہرڈ امیونٹی کی پروا نہیں بلکہ اس بات کی پروا زیادہ ہے کہ ہمارے ہسپتال مریضوں کے بوجھ کو کیسے سنبھالیں گے'۔

مگر ایسا لگتا ہے کہ حکومت حالات کو کنٹرول میں محسوس کرتی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) سے منسلک ایک عہدیدار نے کہا 'طبی مراکز حالات پر اچھی طرح قابو پارہے ہیں'۔

این سی او سی کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں آج 21 ہزار ہسپتال بیڈز کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص ہیں جبکہ اس وقت زیرعلاج مریضوں کی تعداد ساڑھے 6 ہزار سے زائد ہے۔

اسی طرح کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے دستیاب وینٹی لیٹرز کی تعداد 1400 ہے جبکہ 93 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں، یعنی ابھی گنجائش موجود ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ عالمی سطح پر کووڈ 19 کے شکار افراد کو وینٹی لیٹرز پر رکھے جانے کی شرح 4.8 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں ابھی یہ شرح 2.5 فیصد ہے، یہ اعدادوشمار حکام جیسے ڈاکٹر ظفر مرزا اور تیمور سلیم جھگڑا میں محتاط خوش امیدی کا باعث ہیں، مگر کیا یہ سلسلہ آگے بھی برقرار رہ سکے گا؟

لگ بھگ تمام عہدیداران متفق ہیں کہ اگلے 2 سے 4 ہفتے بہت اہم ہیں کیونکہ اس عرصے میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اثرات سامنے آئیں گے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ رمضان میں مساجد کو کھولنے کے اثرات عید پر واضح نظر آئیں گے۔

رواں ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اثر جون کے دوسرے ہفتے میں دیکھا جاسکے گا اور جیسا حالیہ دنوں میں ایس او پیز اور سماجی دوری کی خلاف ورزیاں نظر آرہی ہیں، وہ طبی مراکز پر خطرناک حد تک دباؤ میں اضافے کا عندیہ دیتی ہیں۔

ایک عہدیدار نے اعتراف کیا 'اگر ہسپتالوں میں اچانک رش بڑھ گیا تو ہم مسائل کا شکار ہوں گے، اگر ہسپتالوں کے 75 فیصد سے زیادہ بستر کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے درکار ہوں گے تو ہمیں سنگین بحران کا سامنا ہوگا'۔

ایک اور عہدیدار نے کہا کہ بیمار افراد اور اموات کی تعداد اب تک تخمینے سے کم رہی ہیں 'اگر اگلے چند ہفتوں تک اعدادوشمار تخمینے سے زیادہ ہوگئے تو ہمارے لیے خطرناک صورتحال پیدا ہوجائے گی'۔