‏کراچی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏کراچی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 9 نومبر، 2021

سندھ حکومت نے بہتر(72ٌ) گھنٹے میں نوٹس نہ لیا گیا تو سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا



سندھ حکومت نے   بہتر(72ٌ) گھنٹے میں نوٹس نہ لیا گیا تو سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا

کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی نے سندھ حکومت سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بہتر(72ٌ)گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا 


کراچی (عدنان سید  ) ۔۔کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن (لبرا) کے جنرل سیکرٹری عمران علی شاہ،جوائنٹ سیکرٹری سیدجنیداحمد،کراچی رپورٹرز فورم کے صدر میاں طارق جاوید، عابد عباسی و دیگر ایس بی سی اے میں یادداشت پیش کرنے کے لیے داخل ہونے سے روکنے ہاتھا پائی کی کوشیش،مغلظات بکنے اور بدتمیزی پر لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن نے شدید الفاظ میں مذمت کا اظہار کیا ہے،


کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی نے سندھ حکومت سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بہتر72))گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیااگر بہتر(72ٌ) گھنٹے  میں نوٹس نہ لیا گیا تو سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا منگل  کے روز سرکاری اداروں میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ خدمات سے روکنے اور داخلے پر پابندی کے خلاف لوکل باڈیزرپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایس بی سی اے بلڈنگ سوک سینٹر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ 


مظاہرے سے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی، جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان زاہد عسکری، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر فہیم صدیقی، کراچی رپورٹرز فورم کے صدر میاں طارق جاوید، کے یو جے کے رہنما یونس آفریدی، لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عمران علی شاہ، نائب صدر تنویر سید، جوئنٹ سیکرٹری سید جنید احمد، سیکرٹری مالیات عابد عباسی، رانا ریحان، احسن افتخار، احمد علی، ایاز خان، رضوان جلالی، فرقان فاروقی، راؤعبدالغفار،اسد علی کے یو جے دستور کے رکن عدنان بیگ اور پاکستان اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جاویدمینگل، ندیم شیخ، ایمپلائز یونین کے ڈی اے کے چیئرمین عبدالمعروف نے شرکت کی۔


 مظاہرے کے بعد فہیم صدیقی صدر کے یو جے سمیت لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار اور اراکین جب یاداشت جمع کرانے کے لئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مرکزی دفتر میں داخل ہونے لگے تو سیکورٹی اہلکار گل خان اور ذاکر لودھی نے دروازہ  پر تالا لگا دیا اور صحافیوں کو مغلظات بکیں جبکہ صحافیوں کو دھکے بھی دیئے گئے اس حوالے سے لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن نے تھانہ نیوٹاؤن میں ایف آئی آر درج کرانے کیلئے درخواست جمع کرادی ہے۔


شرکاء نے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلا جواز غیر اعلانیہ پابندی نہ ہٹائی گئی توا حتجاج دائرہ وسیع کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے سامنے کیا جائے گا، وزیراعلی سندھ، وزیربلدیات صحافیوں پر پابندیوں کا نوٹس لیں اور آئینی و قانونی حق دلوایا جائے۔

جمعرات، 26 نومبر، 2020

کراچی ۔ کراچی ; شہرِ کراچی بھر میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے*

کراچی میں جراٸم پیشہ افراد پھر سے سرگرم 


 کراچی ;  شہرِ کراچی بھر میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے*


شہر کا کوئی والی وارث نہیں قتل ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر شہری انتہائی تشویش میں مبتلا ۔۔۔۔۔۔جب کہ SHO'S  ایس ایچ او صاحبان ہفتہ وار  ایڈیشنل آئی جی ساٹفپیکٹ پیش کرتے ہیں  کہ ہمارے علاقے میں کوئی بھی جرائم نہیں ہو رہا ہے جبکہ دیکھا جائے اس کے برعکس تمام علاقوں میں جرائم پیشہ افراد روز بروز مضبوط ہوتے جا رہے ہیں جرائم کے اڈے کے متعلقہ تھانو کی سرپرستی میں کھلے عام چل رہے ہیں  کراچی کے شہر بھر میں لینڈ مافیا مضبوط نیٹ ورک قائم کر چکا ہے چائنہ چائنا کٹنگ کر کے تمام سرکاری زمینوں کو فروخت کیا جا رہا ہے لینڈ مافیا سرگرم طریقے سے اپنا کاروبار کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ پولیس کی طرف سے لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی بالکل کم %00.02. وزیراعظم پاکستان عمران خان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ ایڈیشنل آئی جی سندھ سے اپیل کی جاتی ہے کہ فوری طور پر تمام  ۔۔SHO'S۔۔۔سے قرآن شریف پر آپ ہاتھ رکھوا کر حلف لیا جائے کے ہم اپنے اپنے علاقوں سے تمام جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کریں گے لسانیت پرستی اور زبان اور اپنی ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنا کام سرانجام دیں گے، 


آج کراچی شہر میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں زخمی اور علاقہ افراد کی،


 وقت:20:45تاریخ 2020-11-23دن:پیر

کراچی:سہراب گوٹھ ٹرمینل کے قریب فائرنگ ایک شخص زخمی جناح ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔چھیپاذرائع۔

زخمی ہونے والے شخص کی شناخت فضل شاہ ولدتیمور شاہ عمر35سال۔چھیپاذرائع۔


وقت:21:19تاریخ 2020-11-23دن:پیر

کراچی:کورنگی عوامی کالونی کے قریب فائرنگ ایک شخص شدید زخمی۔چھیپا ذرائع۔

زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیاجارہاہے۔چھیپا ذرائع۔

زخمی ہونے والے شخص کی شناخت رشید ولدشبیرعمر19سال۔چھیپا ذرائع۔


وقت:22:20تاریخ 2020-11-23دن:پیر

کراچی:بلدیہ24کی مارکیٹ کے قریب فائرنگ ایک شخص ہلاک۔چھیپا ذرائع۔

ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کیاجارہاہے۔چھیپا ذرائع۔

ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عبدل ولد مصطفی عمر20سال۔چھیپا ذرائع۔


وقت:23:03تاریخ 2020-11-23دن:پیر

کراچی:لانڈھی فیوچرموڑکے قریب فائرنگ ایک شخص زخمی جناح ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔چھیپاذرائع۔

زخمی ہونے والے شخص کی شناخت وقارعلی ولدرحیم داد عمر26سال۔چھیپاذرائع۔


وقت:23:03تاریخ 2020-11-23دن:پیر

کراچی:جہانگیرروڈ2نمبر کے قریب فائرنگ ایک شخص زخمی جناح ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔چھیپاذرائع۔

زخمی ہونے والے شخص کی شناخت عبدل علی ولدمحمد یوسف عمر30سال۔چھیپاذرائع۔

چھیپا ایمبولینس۔1020📞


خدارا ملک پہلے ہی اندرونی خطرات کا شکار ہے ملک میں امن و امان کے لئے کچھ کیجئے خاص کر کے کراچی کے لئیے کچھ کیجئے

بدھ، 23 ستمبر، 2020

چیرمین پیپلز پارٹی بلاور بٹھو زرداری نے جی بی ایل کے ٹیکٹ ہولڈرز کا اعلان کیا

 مکمل تفصیل ٹیکس کا مندرجہ زیل ہے

ہنزہ ۔ ہنزہ ٹن لاٸن نیوز نیٹ ورک ۔چیرمین پی پی پی بلاور بٹھوزرداری  ۔ نے جی بی ایل اے کےالیکشنز کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا حلقہ ون سےامجد ایڈوکیٹ ۔ حلقہ دو سے جمیل احمد حلقہ تین سے افتاب نگر حلقہ چاراورپانچ کا اعلان نہیں کیا 

۔حلقہ 6 ہنزہ سے ظہوراحمد۔ مہدی شاہ وزیرجعفر پیرکرم علی شاہ کےفرزند کو ٹیکٹ دینےطکااعلان کیا ۔ چلاس سے بشیر استور سے نصیر اور یاسین کے محمد ایوب کو پارٹی  ۔

 ٹیکٹ دینےکا اعلان کیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بی جے پی پارٹی پارٹی ٹکٹوں کا دعوی کیا تھا۔

 GBLA 1: امجد حسین

 جی بی ایل اے 2: جمیل احمد

 جی بی ایل اے 3: آفتاب ہیڈر

 GBLA 4: اانتظار

 GBLA 5: انتظار

 جی بی ایل اے 6: ظہور کریم

 جی بی ایل 7: سید مہدی شاہ

 جی بی ایل اے 8: محمد علی AL شاہ

 جی بی ایل اے 9: وظیر وقار

 جی بی ایل 10: وظیر مبارک خان

 جی بی ایل 11: ادائیگی کرنا

 جی بی ایل 12: ایران ندیم

 جی بی ایل 13: عبدل حمید خان

 جی بی ایل 14: ادائیگی کرنا

 جی بی ایل 15: بشیر احمد خان

 جی بی ایل 16: حاجی دلبر خان

 جی بی ایل 17: عبد الغفار خان

 جی بی ایل اے 18: معاوضہ

 جی بی ایل 19: پیر جلال شاہ

 GBLA 20: انتظار

 جی بی ایل 21: محمد ایوب

 جی بی ایل 22: محمد جعفر

 جی بی ایل اے 23: گلام علی ہیڈر

 GBLA 24: ENGR۔  اسماعیل۔



ہفتہ، 22 اگست، 2020

کراچی ۔واٹر بورڈ کا کارنامہ ملیر کھوکھر آپار سعودآبادچمن کالونی سے شارع فیصل جانے والا رستہ بند سینکڑوں گیلن پانی یومیہ ضائع ہورہا ہے، اہم راستہ تالاب بن گیا

 




کراچی  (انیلہ خان )واٹر بورڈ کا کارنامہ ملیر کھوکھر آپار سعودآبادچمن کالونی سے شارع فیصل جانے والا رستہ بند

سینکڑوں گیلن پانی یومیہ ضائع ہورہا ہے، اہم راستہ تالاب بن گیا۔

چار ماہ کے دوران دس مرتبہ لیک ہونے والی پانی کی لائن کو کوئی حتمی سدباب نہیں ہوسکا


لائن سے لیک ہونے والے پانی نے تالاب کی سی شکل اختیار کرلی ہے۔ 

علاقہ مکین سرکل ریلوے کی پٹریوں سے گاڑی گذار کر شارع فیصل پہنچتے ہیں۔

ایمبولینسوں اور مریضوں کو لیکر جانا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ علاقہ مکین


دفتری اوقات کار میں شدید ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے۔ 

آواٹر بورڈ کے ایکسین فون کالز ریسو کرنے سے قاصر ہیں 

لیک ہونے والی لائن کا پائیدار حل کیا جائے تاکہ دوبارہ لیک نہ ہو علاقہ مکینوں کی ایم ڈی واٹر بورڈ سے اپیل

اتوار، 9 اگست، 2020

کراچی . ک‏ کراچی شہر کو وفاق کے زیر انتظام فیڈرل ٹریٹی اور حیدرآباد کو سندھ کا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ سندھ گونر راج کے نفاز کے لیے تیاریاں مکمل "

 ‏ کراچی (خان انیلا) شہر کو وفاق کے زیر انتظام فیڈرل ٹریٹی اور حیدرآباد کو سندھ کا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ


کراچی ویژن 2050 تیار کر لیا گیا، 2020 سے 2050 تک کراچی ماسٹر پلان کی تیاری شروع۔


کراچی کو مستقل طور پر وفاق کے زیر کنٹرول رکھا جائے گا۔

ابھرے گا اب میرا پاکستان ⁦🇵🇰⁩


کراچی کو مستقل طور پر وفاق کے زیر کنٹرول رکھا جائے گا فاٹا کی سینٹ نشستیں ختم کرکے کراچی کو الاٹ کی جائے گی


وفاقی حکومت پہلے مرحلے میں سندھ میں گورنر راج نافذ کر کے صوبائی حکومت کو  برطرف کر کے پولیس میں آئی جی سندھ سے لے کر ایس ایس پی اور کراچی کے تمام پولیس اسٹیشن کے عملے کو تبدیل کیا جائے گا۔  جس کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کر کے  کراچی کو وفاقی علاقہ ڈکلیئر کر کے چیف ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائے گا سندھ اور کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے چھ مہینوں تک دفعہ 144 نافذ کر کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار رکھا جائے گا۔ گورنر راج سے پہلے رینجرز اور ایف سی کے اضافی دستے کراچی اور سندھ  بھیجے جائیں گے  ریلی نکالنے ہڑتال  کرنے اور  امن امان خراب کرنے والے ملک دشمن قوم پرست اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کارکنوں کی گرفتاریاں ہوں گی۔ قوم پرست رہنماؤں اور  سرگرم قوم پرست کارکنوں کی لسٹیں تیار کرلی گئی ہے اداروں کی جانب سے رپورٹ مین ظاہر کیا گیا ہے کہ قوم پرست بڑے پیمانے پر غیر سندھیوں پر حملہ آور ہو سکتے ہیں اس لئے ان کے اوپر سخت نظر رکھیں  جائے۔

حکومت وفاقی بلدیاتی ایک نافذ کرے گی کراچی میں District ختم کرکے 40 ٹائون اور 320 یونین کمیٹیاں بنائے جائیں گے ہر سال وفاقی پول سے کراچی بلدیاتی حکومت کو 50ارب روپیہ دیا جائے گا۔

تعلیم،صحت، پولیس، لینڈ اینڈ یوٹیلائزیشن، کسٹم۔ ٹیکس اینڈ روینیو، ساحلی کوسٹل ایریاز، معدنیات، کے ڈی اے، فشریز، انڈسٹریل ایریاز وفاق کے کنٹرول میں رہے گی اس کے علاوہ پانی، سیوریج، ٹریفک، ٹرانسپورٹ،پارک اینڈ گراؤنڈ، مارکیٹ بازار پارکنگ، سیاحت، سبزی منڈی، برساتی نالے، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی حکومت میئر کراچی کے اختیارات اور کنٹرول میں دیے جائیں گے۔

کراچی وفاق کے کنٹرول میں آنے کے  بعد وفاقی حکومت کو 472ارب روپے اضافی آمدنی ہوگی ملک معاشی لحاظ سے مستحکم ہوگا۔

 اربن اور رورل کوٹہ سسٹم ختم کر کے 

موجودہ وفاقی کوٹہ سسٹم لاگو کیا جائے گا، کراچی میں رورل کوٹہ سے نوکری حاصل کرنے والے ایک لاکھ ملازمین کو سندھ واپس بھیجا جائے گا  جس کے بعد کراچی سمیت ملک بھر کے نوجوانوں کو وفاقی کوٹہ پر روزگار کے نئے مواقع ملے گی۔

کراچی کی حدود میں تحصیل میرپور ساکرو، کیٹی بندر، گڈانی، حب، مکمل شامل کر لیے جائیں گے  تھانہ بولا خان ، ٹھٹہ تحصیل کا بڑا علاقہ بھی کراچی میں شامل کر کے گجو اور نوری آباد تک کا اضافہ کیا جائے گا بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر وہاں دو نئے شہر بسائے جائیں گے۔  حب ، دھابیجی اور نوری آباد میں ملک کے سب سے بڑے 3 انڈسٹریل زون اور میر پور ساکرو میں پورٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے 2030 تک 10 لاکھ افراد کو روزگار ملے گا. حب اور کڈانی تحصیلوں کو کراچی میں شامل کرنے کے بدلے بلوچستان حکومت کو 10 ارب دیے جائیں گے جہاں 12 لاکھ  پلاٹوں پر مشتمل پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا جس میں 2 لاکھ پلاٹ بلوچستان کے لئے رکھے جائیں گے, گڈانی بیچ کو انٹرنیشنل اسٹائل میں تبدیل کرنے کے لئے کمپنیوں سے دو مہینے پہلے ہی وفاقی حکومت رابطہ کر چکی ہے کراچی ایم نائین موٹروے پر ملک کا سب سے بڑا انٹرنیشنل ایئرپورٹ تعمیر ہوگا جب کہ وفاقی حکومت پہلے ہی سمندر کے نزدیک بیراج بنانے کا اعلان کر چکی ہے جہاں سے کراچی کو پانی دیا جائے گا جب کہ موٹروے پر بننے والی نئی آبادیوں کے لئے کی کینجھر جھیل  سے پانی کی لائن بچھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ کراچی کے دو جزیروں پر عالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہانگ کانگ طرز کا جدید انٹرنیشنل شہر آباد کیا جائے گا جس سلسلے میں کمپنیوں سے 50 ارب ڈالر کی ڈیل آخری مراحل میں ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کے 325 سے زائد انڈسٹریل  سرمایہ دار دابیجی نوری آباد اور حب انڈسٹریل زون میں 500 نئے کارخانے لگائے گی جب کہ انٹرنیشنل ملٹی نیشنل کمپنیاں اور دیگر ادارے تقریبا 56 ارب ڈالر انویسٹ انڈسٹریل زون میں کریں گی۔ موٹروے ایجوکیشن سٹی میں نئی یونیورسٹیاں بنائی جائے گی"

جمعرات، 18 جون، 2020

کراچی .کراچی کے 3 اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی تیار*

*کراچی کے 3 اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی تیار*

ضلع غربی کی 13 شرقی کی 16 کورنگی کی 14 یونین کونسل سیل ہوں گی
ضلع شرقی، ضلع غربی، کورنگی کی 43 یوسیز میں سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا۔

*جو علاقے بند ہونگے ان کے نام یہ ہے*

محمد علی سوسائٹی، بہادر آباد، عیسیٰ نگری کے متاثرہ علاقے بھی سیل ہوں گے۔

ناصر کالونی، عوامی کالونی، ماڈل کالونی، الفلاح، ڈگرگ روڈ، کے علاقے بھی بند ہوں گے۔

کورنگی، لانڈھی،  ملیر، شاہ فیصل، کے متاثرہ علاقوں میں بھی لاک ڈاؤن ہوگا۔

ناتھا خان، کھوکھراپار، بھٹائی کالونی، زمان ٹاؤن، چکرا گوٹھ کی کچھ گلیاں سیل ہوگی۔

تین ہٹی، جہانگیر روڈ  نمبر 1، 2، سولجر بازار، نمائش کے متاثرہ علاقے بند ہوں گے۔

گلستانِ جوہر بلاک 13، پی ای سی ایچ بلاک 2، 6 کے متاثرہ حصے سیل ہوں گے۔

گلشنِ اقبال، صفورا گوٹھ، عسکری فور، کہ متاثرہ علاقے بھی سیل ہونگے۔

بلتی محلہ، مارٹن کوارٹرز،  فاطمہ جناح کالونی میں کرونازدہ علاقے بند ہوں گے۔

بدھ، 22 اپریل، 2020

کراچی ہنزہ سے تعلق رکهنے والے طلبا و طالبات کرونا ٹسٹ کے منتظر ہیں . رشید ارشد میڈیا کوآر ڈینٹر سی اہم جی بی سے اپیل

کراچی . ہنزہ سے تعلق رکهنے والے طالب علم جن میں اکثریت طالبا ت کی کرونا ٹسٹ نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان سفر نہیں کر سکتے ہیں ہوسٹل سے نکالا گیا ہے بچے کچے پیسے ختم ہوئے ہیں . گلگت بلتستان حکومت کا منتخب بندہ جو ہنزہ نگر کے طالبعلموں کا ٹسٹ کرواتا ہے وہ ہمارے ساته تعاون نہیں کر رہا ہے . کراچی سے طالبا کا ہنزہ ٹی وی سے رابطہ حکام تک ان کی آواز پہنچانے کا مطالبہ