‏بین الااقومی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بین الااقومی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 1 جون، 2026

ایران کا جوابی وار، امریکی مبینہ فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کا جوابی وار، امریکی مبینہ فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ



تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے ایک ایسے فضائی اڈے (ایئر بیس) کو نشانہ بنایا ہے جسے مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے جزیرہ سیریک پر واقع ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری بیان میں اس فضائی اڈے کے عین محلِ وقوع (لوکیشن) کی وضاحت نہیں کی، تاہم کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کی گئی۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جوابی کارروائی ہرمزگان صوبے کے جزیرہ سیریک پر امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں لائی گئی، جسے ایرانی حکام نے کامیاب آپریشن قرار دیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف اس نوعیت کی جارحیت دوبارہ کی گئی تو اس کا مزید سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ خلیجی ممالک میں بھی ہائی الرٹ جاری ہے، جبکہ کویت کی جانب سے اپنی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر سیکیورٹی اور توانائی کی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پیر، 13 اکتوبر، 2025

غزہ میں دغمش قبیلے اور حماس کے درمیان خونریز تصادم: کون ہیں یہ مسلح قبائل اور کیوں اُٹھے؟

 

غزہ میں دغمش قبیلے اور حماس کے درمیان خونریز تصادم: کون ہیں یہ مسلح قبائل اور کیوں اُٹھے؟

غزہ ایک بار پھر خونریزی کا شکار ہے، لیکن اس بار لڑائی اسرائیلی بمباری یا سرحد پار حملے کی وجہ سے نہیں، بلکہ داخلی محاذ پر ہوئی۔ غزہ شہر کے جنوب میں حماس کی سکیورٹی فورسز اور دغمش قبیلے کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تصادم اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد غزہ میں ہونے والا سب سے پرتشدد داخلی تصادم تصور کیا جا رہا ہے۔

جھڑپیں کہاں اور کیسے شروع ہوئیں؟

عینی شاہدین کے مطابق، جنوبی غزہ میں اُردن کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک اسپتال کے قریب، حماس کے نقاب پوش جنگجوؤں اور دغمش قبیلے کے عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ یہ لڑائی بعد ازاں شدت اختیار کر گئی۔

بتایا گیا ہے کہ تل الحوا کے علاقے میں اس وقت جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، جب حماس کے تقریباً 300 مسلح جنگجوؤں نے ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا جہاں دغمش قبیلے کے مسلح افراد مورچہ زن تھے۔ یہ حملہ مبینہ طور پر قبیلے کے ایک اہم رہنما کی گرفتاری کی کوشش کے سلسلے میں کیا گیا۔

ہلاکتوں کی تفصیل

غزہ کی وزارتِ داخلہ کے مطابق، حماس کے سکیورٹی یونٹ نے غزہ شہر کے اندر دغمش قبیلے کی مسلح ملیشیا کو گھیرنے کی کوشش کی، جس دوران لڑائی بھڑک اٹھی۔ اس دوران حماس کے 8 سکیورٹی اہلکار اور دغمش قبیلے کے 19 ارکان مارے گئے۔

دغمش قبیلہ کون ہے؟ اور اتنا طاقتور کیوں ہے؟

دغمش قبیلہ غزہ کے طاقتور ترین قبائلی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قبیلہ نہ صرف مسلح ہے بلکہ اس کا دائرہ اثر کئی سالوں پر محیط ہے۔ یہ ماضی میں اغوا برائے تاوان، غیر قانونی اسلحے کی اسمگلنگ، اور عسکری کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

  • 2006 میں اسرائیلی فوجی گیلاڈ شالٹ کے اغوا میں دغمش خاندان کے عناصر کا ہاتھ بتایا گیا تھا۔

  • اسی طرح غیر ملکی صحافی ایلن جانسٹن کے اغوا کا الزام بھی انہی پر لگا تھا۔

  • دغمش قبیلہ مختلف مواقع پر خودمختار طور پر کارروائیاں کرتا رہا ہے، اور مقامی سطح پر ان کا رسوخ خاصا گہرا ہے۔

یہ قبیلہ روایتی قبائلی طاقت، اسلحہ، اور غیر رسمی مالی وسائل کے ذریعے ایک خودمختار قوت کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی وفاداریاں ہمیشہ حماس یا دیگر سیاسی دھڑوں سے نہیں رہیں۔

تنازع کی ممکنہ وجوہات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کی جڑ میں اختیارات کا ٹکراؤ، اثر و رسوخ کی جنگ، اور امدادی سامان کی تقسیم پر قبضہ شامل ہو سکتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق، حماس نے دغمش قبیلے پر اسرائیل کے ساتھ مبینہ تعاون کا الزام بھی عائد کیا، جس کے بعد اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

کیا یہ ایک نیا فیز ہے؟

یہ جھڑپیں ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہیں:
کیا غزہ میں حماس کی گرفت کمزور ہو رہی ہے؟
کیا مقامی قبائل اور ملیشیائیں دوبارہ سر اُٹھا رہی ہیں؟

اگرچہ حماس بدستور غزہ میں سب سے بڑی عسکری و سیاسی طاقت ہے، مگر داخلی اختلافات اور مقامی ملیشیاؤں کے ابھرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں سیاسی و عسکری توازن میں تبدیلی آ رہی ہے۔


نتیجہ

دغمش قبیلے کے خلاف حماس کی یہ حالیہ کارروائی صرف ایک قبائلی تصادم نہیں بلکہ غزہ میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر اسی نوعیت کے مزید تصادم سامنے آتے ہیں، تو یہ خطے میں موجودہ اقتدار کے ڈھانچے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتے ہیں۔

غزہ میں دغمش قبیلے اور حماس کے درمیان خونریز تصادم: کون ہیں یہ مسلح قبائل اور کیوں اُٹھے؟

غزہ ایک بار پھر خونریزی کا شکار ہے، لیکن اس بار لڑائی اسرائیلی بمباری یا سرحد پار حملے کی وجہ سے نہیں، بلکہ داخلی محاذ پر ہوئی۔ غزہ شہر کے جنوب میں حماس کی سکیورٹی فورسز اور دغمش قبیلے کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تصادم اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد غزہ میں ہونے والا سب سے پرتشدد داخلی تصادم تصور کیا جا رہا ہے۔

جھڑپیں کہاں اور کیسے شروع ہوئیں؟

عینی شاہدین کے مطابق، جنوبی غزہ میں اُردن کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک اسپتال کے قریب، حماس کے نقاب پوش جنگجوؤں اور دغمش قبیلے کے عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ یہ لڑائی بعد ازاں شدت اختیار کر گئی۔

بتایا گیا ہے کہ تل الحوا کے علاقے میں اس وقت جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، جب حماس کے تقریباً 300 مسلح جنگجوؤں نے ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا جہاں دغمش قبیلے کے مسلح افراد مورچہ زن تھے۔ یہ حملہ مبینہ طور پر قبیلے کے ایک اہم رہنما کی گرفتاری کی کوشش کے سلسلے میں کیا گیا۔

ہلاکتوں کی تفصیل

غزہ کی وزارتِ داخلہ کے مطابق، حماس کے سکیورٹی یونٹ نے غزہ شہر کے اندر دغمش قبیلے کی مسلح ملیشیا کو گھیرنے کی کوشش کی، جس دوران لڑائی بھڑک اٹھی۔ اس دوران حماس کے 8 سکیورٹی اہلکار اور دغمش قبیلے کے 19 ارکان مارے گئے۔

دغمش قبیلہ کون ہے؟ اور اتنا طاقتور کیوں ہے؟

دغمش قبیلہ غزہ کے طاقتور ترین قبائلی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قبیلہ نہ صرف مسلح ہے بلکہ اس کا دائرہ اثر کئی سالوں پر محیط ہے۔ یہ ماضی میں اغوا برائے تاوان، غیر قانونی اسلحے کی اسمگلنگ، اور عسکری کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

  • 2006 میں اسرائیلی فوجی گیلاڈ شالٹ کے اغوا میں دغمش خاندان کے عناصر کا ہاتھ بتایا گیا تھا۔

  • اسی طرح غیر ملکی صحافی ایلن جانسٹن کے اغوا کا الزام بھی انہی پر لگا تھا۔

  • دغمش قبیلہ مختلف مواقع پر خودمختار طور پر کارروائیاں کرتا رہا ہے، اور مقامی سطح پر ان کا رسوخ خاصا گہرا ہے۔

یہ قبیلہ روایتی قبائلی طاقت، اسلحہ، اور غیر رسمی مالی وسائل کے ذریعے ایک خودمختار قوت کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی وفاداریاں ہمیشہ حماس یا دیگر سیاسی دھڑوں سے نہیں رہیں۔

تنازع کی ممکنہ وجوہات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کی جڑ میں اختیارات کا ٹکراؤ، اثر و رسوخ کی جنگ، اور امدادی سامان کی تقسیم پر قبضہ شامل ہو سکتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق، حماس نے دغمش قبیلے پر اسرائیل کے ساتھ مبینہ تعاون کا الزام بھی عائد کیا، جس کے بعد اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

کیا یہ ایک نیا فیز ہے؟

یہ جھڑپیں ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہیں:
کیا غزہ میں حماس کی گرفت کمزور ہو رہی ہے؟
کیا مقامی قبائل اور ملیشیائیں دوبارہ سر اُٹھا رہی ہیں؟



اگرچہ حماس بدستور غزہ میں سب سے بڑی عسکری و سیاسی طاقت ہے، مگر داخلی اختلافات اور مقامی ملیشیاؤں کے ابھرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں سیاسی و عسکری توازن میں تبدیلی آ رہی ہے۔


نتیجہ

دغمش قبیلے کے خلاف حماس کی یہ حالیہ کارروائی صرف ایک قبائلی تصادم نہیں بلکہ غزہ میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر اسی نوعیت کے مزید تصادم سامنے آتے ہیں، تو یہ خطے میں موجودہ اقتدار کے ڈھانچے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتے ہیں۔

منگل، 30 ستمبر، 2025

تاریخ اس غداری کو یاد رکھے گی


 تاریخ اس غداری کو یاد رکھے گی




ٹرمپ ،آصم منیر اور شہباز شریف کی اسرائیل کے حوالے سے تفصیل گفتگو کے بعد فوٹو




ٹرمپ کی قیادت میں؟ ہرگز نہیں! — یہ منصوبہ سراسر ناانصافی ہے
نیویارک میں ہونے والی ایک حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقات نے جلد ہی بین الاقوامی اور مقامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دے دیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ اہتمام یہ اجلاس اور اس کے بعد سامنے آنے والے بیانات نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہنگامہ کھڑا کیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی عوامی غم و غصے کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا — خصوصاً جب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی شرکت اور ممکنہ طور پر کسی متنازعہ مؤقف کی حمایت کے اشارے سامنے آئے۔
---
## ملاقات کا پسِ منظر اور تنازعہ
ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ، جسے بعض حلقے "غزہ پلان" کہتے ہیں، فلسطینی عوام کے حقوق کے بارے میں سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نوآبادیاتی طرزِ فکر اور ناجائز قبضے کو بظاہر جائز بنانے کی کوشش ہے — ایک ایسا طریقۂ کار جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
---
## عوامی ردِعمل — ایک بے مثال غصّہ
چند گھنٹوں کے اندر ہی ایکس (سابق ٹویٹر) پر عوامی غصے کا طوفان امڈ آیا۔ مشتعل صارفین نے شہباز شریف پر الزام لگایا کہ وہ:
* "واشنگٹن کو خوش کرنے" کی کوشش میں ہیں،
* "پاکستان کے فلسطین پر دیرینہ مؤقف کو دفن" کر رہے ہیں،
* اور "صرف ایک ٹوئٹ میں اسرائیل کو جائز حیثیت دینے" کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے سخت سوال اٹھایا:
> "ہم پاکستانی یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ فلسطینی عوام کیا چاہتے ہیں۔ جب 70 ہزار شہری مارے جا چکے ہیں تو غزہ کو غیر مسلح کیسے کیا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل ایک سیکیورٹی حصار برقرار رکھے گا؟"
یہی وہ بنیادی تشویش ہے جو عوامی ناراضگی کی جڑ بن گئی — کہ کون فیصلہ کرے گا، اور آیا اس فیصلے میں مظلوم فلسطینی عوام کی رائے اور سلامتی کی ضمانت شامل ہے یا نہیں۔
---
## سوشل میڈیا کا کردار اور ریاستی پالیسی
سوشل پلیٹ فارمز نے اس واقعے کو ایک عوامی فورم میں تبدیل کر دیا جہاں شہری، دانشور، صحافی اور سیاستدان ایک ساتھ بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ حکومتوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے: خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی بیانات عوامی اعتماد کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں تو ہی پائیدار رہ سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کی بات سنیے — ورنہ ردِعمل طویل مدتی سیاسی اور سماجی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
---
## سوالات جو ابھی جواب طلب ہیں
* کیا پاکستان اپنے تاریخی مؤقف سے پیچھے ہٹے گا یا اس معاملے میں مستقل پالیسی جاری رکھے گا؟
* اگر کسی معاہدے کی جانب پیش قدمی ہوتی ہے تو فلسطینیوں کی نمائندگی اور ان کی سلامتی کو کیسے یقین دہانی کرائی جائے گی؟
* بین الاقوامی دباؤ اور سفارتی مفادات کا توازن انسانیت اور انصاف کے تقاضوں کے ساتھ کیسے قائم رکھا جائے؟
نتیجہ
فلسطین کا مسئلہ محض سیاسی مذاکرات یا علاقائی مفادات کا معاملہ نہیں؛ یہ بنیادی انسانی حقوق، وطن کے تحفظ اور انصاف کا سوال ہے۔ اگر کسی منصوبے سے مظلوم فلسطینی عوام کی بقا، خودمختاری یا بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اسے قبول کرنا ناممکن ہے — اور تاریخ ایسے فیصلوں کو "غداری" کے طور پر یاد رکھے گی۔ موجودہ غم و غصہ محض ردِعمل نہیں، بلکہ ایک آواز ہے جو انصاف، شفافیت اور انسانی وقار کے ساتھ فیصلوں کا تقاضا کرتی ہے۔
نیویارک میں ہونے والی ملاقات اور اس کے بعد ایکس پر اٹھنے والے غصے نے پاکستان کے ایک طویل المدتی مؤقف کو سوالیہ نشان بنا دیا — عوامی نعروں میں یہ پیغام واضح ہے: فلسطینی عوام کی رائے اور سلامتی کے بغیر کوئی معاہدہ قابلِ قبول نہیں۔

جمعہ، 26 ستمبر، 2025

شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ٹرمپ کے کوٹ پر لگی ’لڑاکا طیارے کی پن‘ سے جڑے سوال اور جواب اور وائٹ ہاس کی وضاحت

 





وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات: شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات، سوشل میڈیا پر پن کا مطلب زیرِ بحث

دنیا بھر کے عالمی رہنما ان دنوں امریکہ میں موجود ہیں جہاں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس جاری ہے۔ اس اہم موقع پر عالمی سفارت کاری بھی اپنے عروج پر ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

انہی ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی وائٹ ہاؤس آمد ہوئی، جہاں انہوں نے امریکی صدر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے موضوعات پر سرکاری طور پر زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن سوشل میڈیا پر اس ملاقات کی تصاویر اور مناظر خاصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔





سوشل میڈیا پر پن کی گونج: ایک علامت، کئی مفہوم

ان تصاویر میں امریکی صدر کے کوٹ پر لگی ایک خصوصی پن نے پاکستانی اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی۔ اس پن میں امریکی جھنڈے کے ساتھ ساتھ ایک جنگی طیارہ بھی دکھایا گیا تھا، جسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر کئی صارفین اس پن کو بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک "علامتی پیغام" کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ شاید ٹرمپ نے یہ پن پہن کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو کوئی سفارتی اشارہ دینے کی کوشش کی ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان، بلکہ بھارت سے بھی ایسے صارفین سامنے آئے ہیں جو اس پن کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایک بھارتی صارف نے شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:

"ٹرمپ نے جنگی جہاز کی پن کیوں لگائی؟"


"ایران کا سعودی-پاکستان دفاعی اتحاد کا خیرمقدم: خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی فضا کی علامت"

 

پس منظر: انڈیا-پاکستان کشیدگی اور امریکی صدر کا مبہم بیان

یہ بات یاد رہے کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ مختصر مگر شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے۔ جولائی میں ایک تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جھڑپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

"ہم نے انڈیا اور پاکستان کی جنگ رکوائی، اس دوران پانچ جنگی طیارے مار گرائے گئے۔"

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے، اور کس نے گرائے۔ اس مبہم بیان نے بھی اس وقت خاصی بحث کو جنم دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی وضاحت: پن کا پس منظر کیا ہے؟

ملاقات کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد جب سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں بڑھنے لگیں تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ:

"صدر ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات کے دوران اپنے کوٹ پر سونے سے بنی ہوئی ایف-22 ریپٹر جنگی جہاز کی پن لگائی تھی۔"

یعنی یہ پن نہ تو پاکستان یا بھارت کے لیے کوئی اشارہ تھی اور نہ ہی کسی مخصوص واقعے سے متعلق تھی، بلکہ ترک صدر سے ملاقات کے موقع پر پہنی گئی ایک مخصوص علامت تھی۔

سیاق و سباق اہم ہوتا ہے

یہ بھی واضح رہے کہ امریکی صدر نے ترک صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد ہی پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف سے بھی جمعرات کے روز ملاقات کی، لہٰذا غالب امکان یہی ہے کہ وہی پن ان دونوں مواقع پر پہن رکھی گئی ہو۔



نتیجہ: علامتیں سیاست میں اہم مگر سیاق ضروری

اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عالمی سیاست میں علامتی چیزیں، جیسے کہ لباس، پنز، یا جسمانی زبان، کیسے گہرے مفاہیم اور قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ان کا اصل مطلب وہ نہیں ہوتا جو ہم بظاہر سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر فوری ردعمل کے بجائے حقائق کا انتظار اور سیاق و سباق کو سمجھنا ایک ذمہ دارانہ رویہ ہے۔



جمعرات، 25 ستمبر، 2025

"ایران کا سعودی-پاکستان دفاعی اتحاد کا خیرمقدم: خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی فضا کی علامت"

 
تصویر میں ایک سرکاری استقبالیہ تقریب دکھائی گئی ہے، جہاں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف (درمیان میں) ایران کے دورے پر ہیں اور ایرانی صدر یا اعلیٰ حکام کے ساتھ پریڈ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ پس منظر میں ایرانی فوجی دستہ مکمل پروٹوکول کے ساتھ صف بستہ کھڑا ہے، جو اس موقع کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے




یران، سعودی عرب اور پاکستان: خطے میں بدلتے اتحادوں کی نئی تصویر

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں پرانے مخالفین اب سفارتی گرمجوشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایران کے صدر مسعود پژشکیان کی جانب سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جو کہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ تہران اور ریاض کے ماضی کے تلخ تعلقات کے تناظر میں ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، لیکن چین کی ثالثی میں رواں سال دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ علاقائی ایشوز پر بھی تعاون میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔

اسی تسلسل میں، قطر میں حالیہ اسلامی سربراہی اجلاس کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر کی ملاقات نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت پر ہوئی جب خطے میں اسرائیل اور فلسطین تنازع نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا 'باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ' بھی اسی خطے کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی نقشے کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت طے پایا ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر بیرونی جارحیت کی جاتی ہے، تو اسے دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے اس معاہدے کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دے رہا ہے، بجائے اس کے کہ صرف ماضی کی رقابتوں پر سیاست کی جائے۔


یہ نئی پیشرفتیں اس بات کی غماز ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ممالک اب سرد جنگی ذہنیت سے باہر آ کر سٹریٹجک مفادات، سلامتی اور علاقائی استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایران، سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک اگر واقعی مشترکہ اہداف پر کام کریں تو نہ صرف دہشتگردی اور بیرونی مداخلت کا سدباب ممکن ہے بلکہ خطے میں معاشی ترقی کے در بھی کھل سکتے ہیں۔

بدھ، 24 ستمبر، 2025

بریکنگ نیوز: اسرائیل کو سنگین نتائج کی دھمکی سعودی عرب، ترکی اور ایران کا سخت ردعمل — نیتن یاہو کی مغربی کنارے سے متعلق کسی بھی کارروائی پر عرب لیگ کی "تاریخی جوابی کارروائی" کی وارننگ

 


🔴 بریکنگ نیوز: اسرائیل کو سنگین نتائج کی دھمکی

سعودی عرب، ترکی اور ایران کا سخت ردعمل — نیتن یاہو کی مغربی کنارے سے متعلق کسی بھی کارروائی پر عرب لیگ کی "تاریخی جوابی کارروائی" کی وارننگ








عرب لیگ کی جانب سے تاریخی کارروائی کا عندیہ، نیتن یاہو کی پالیسی پر شدید ردعمل



کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے طوفان کی طرف بڑھ رہا ہے؟ عرب ممالک کی اسرائیل کو وارننگ

نیتن یاہو کے مغربی کنارے پر ممکنہ الحاق کی کوشش پر سعودی عرب، ترکی اور ایران کا سخت موقف — عرب لیگ اسرائیل کے خلاف تاریخی اقدام پر غور کر رہی ہے۔


🧭 پسِ منظر: مغربی کنارے کا تنازع کیا ہے؟

مغربی کنارہ (West Bank) فلسطینی علاقوں کا وہ خطہ ہے جو 1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یہ علاقہ بین الاقوامی طور پر فلسطینی ریاست کا حصہ تصور کیا جاتا ہے، مگر اسرائیل نے یہاں پر مختلف اوقات میں یہودی بستیاں قائم کی ہیں، جنہیں عالمی برادری کی اکثریت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حالیہ برسوں میں کئی بار عندیہ دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم (الحاق) کرنا چاہتے ہیں، جس سے نہ صرف فلسطینی قیادت بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

یہ اقدام دو ریاستی حل (Two-State Solution) کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دہائیوں سے اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔






🏛️ عرب لیگ کا ممکنہ ردعمل: ماضی میں ایسے مواقع پر کیا ہوا؟

عرب لیگ نے ماضی میں اسرائیلی اقدامات پر بیانات تو ضرور دیے ہیں، مگر عملی سطح پر ردعمل اکثر محدود رہا ہے۔ 1967، 1982 اور 2000 میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف عرب ممالک نے مختلف سطحوں پر احتجاج اور سفارتی دباؤ تو ڈالا، مگر کوئی مشترکہ "تاریخی کارروائی" کم ہی دیکھنے کو ملی۔

البتہ حالیہ برسوں میں فلسطین کاز کے لیے خلیجی ممالک میں عوامی سطح پر ہمدردی میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ بعض عرب ریاستوں (جیسے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش) نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی قائم کر لیے ہیں (ابراہام معاہدے)۔

تاہم، اگر سعودی عرب، ترکی اور ایران بیک وقت کھل کر اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں، تو یہ ایک غیر معمولی اور ممکنہ طور پر اثر انگیز سفارتی محاذ بن سکتا ہے۔


ہنزہ ۔ مساٸلستان میں سیاسی لوگ اور الیکشن میں ووٹ پر قابل غور تحریر ۔



🔍 تجزیہ: اس وارننگ کے سیاسی اور سفارتی اثرات

سعودی عرب، ترکی اور ایران تینوں علاقائی طاقتیں ہیں، مگر ان کے آپسی تعلقات اکثر کشیدہ رہے ہیں۔ اگر یہ ممالک مغربی کنارے کے الحاق کے خلاف متحد ہو کر قدم اٹھاتے ہیں، تو اس کا اثر نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ جیسے اس کے اتحادیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ممکنہ اثرات:

  • سفارتی دباؤ: اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی ادارے اسرائیل پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

  • علاقائی کشیدگی: فلسطین میں مزاحمتی تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے، اور خطے میں ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

  • امریکہ کے لیے چیلنج: اگر عرب لیگ واضح اور مشترکہ موقف اپناتی ہے، تو امریکہ کو اپنی پالیسی میں توازن پیدا کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھتا ہے۔

  • سعودی عرب کا کردار: اگرچہ سعودی عرب نے اسرائیل سے براہ راست تعلقات قائم نہیں کیے، مگر یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے جب وہ واضح طور پر اسرائیل کے خلاف کسی "تاریخی اقدام" کی حمایت کرے۔

پیر، 10 جون، 2024

 ‏مودی کی الیکشن میں جیت بھارت کے مسلمانوں کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا چیلنج
بھارت کے مسلمان کئی برس سے مودی کے عتاب کا شکار ہیں 



ہندوستان 

انتخابی مہم کے دوران بھی مودی سرکار نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو طنز و تنقید کا نشانہ بنایا، راجھستان میں انتخابی ریلی کے دوران مسلمانوں کو ”درانداز“ قرار دیا


مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کیخلاف نفرت پر مبنی حملوں پر سوسائٹی کی جانب سے الیکشن کمیٹی کو خط بھی لکھا گیاجس میں مودی سرکار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا


 بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے سول سوسائٹی پر حملوں میں تیزی آئی


انتخابی مہم کے دوران مودی کی جانب سے جہا! د ووٹ جیسی اصلاحات کا کھلے عام استعمال مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیلئے باعث تشویش رہا


مودی نے حکومت کا حصہ بنتے ہی گجرات میں مسلمانوں کے خو-ن سے ہولی کھیلی جس پر انہیں قصائی کا خطاب بھی دیا گیا


جس بات کو بین الاقوامی سطح پر کم توجہ ملی وہ یہ حقیقت ہے کہ سنگھ پریوار جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یار (آر ایس ایس) کی زیر قیادت عسکریت پسند ہندوتوا تنظیموں کا مجموعہ ہے ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے 


ایک واضح طور پر ہندو ملک بننا ہندوستانی ریاست کو اس کے آئین میں تصور کیے جانے والے مخالف میں بدل دے گا


 اس سے کروڑوں ہندوستانیوں کو خطر-ہ لاحق ہو جائے گا کیونکہ اس کا مطلب بنیادی اداروں، اصولوں اور ان قوانین کو معطل کرنا ہے جو سیکو_لر_ازم اور جمہوریت کی خصوصیت رکھتے ہیں 


مودی کے تیسری بار اقتدار پر بیٹھنے سے یہ خطر_ہ بڑھ جائے گا کہ گزشتہ دس سالوں سے ہندو قوم پرست ذہنیت اپنے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرے گی 


حیدرآباد کے رہائشی  رونق شاہی نے ڈی ڈبلیو سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ،

”میرے خیال میں مسلمان ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ غیر محفوظ ہیں ''


 جو حالا ت مودی سرکار نے بنا دیے ہیں  مجھے یقین ہے کہ برا ہی ہو گا، رونق شاہی


مودی کے تیسری بار برسراقتدار آنے کے امکانات کے بعد بھارت میں موجود اقلیتیں بالخصوص مسلمان اس خو_ف میں مبتلا ہیں کہ مودی اپنے ہندوتوا نظریے کی تکمیل کیلئے ایک بار پھر ظلم و بر_بریت کا بازار گرم کرے گا


مودی کے اقتدار سنبھالنے بعد مسلمانوں سے پہلے شہریت کے حقوق چھینے گئے تھے اب یہ خطر_ہ بڑھ گیا ہے کہ ان کے بنیادی زندگی کے حقوق بھی سلب کردیئے جائیں گے


بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کے اقتدار میں آنے کا یہ مطلب بھی واضح ہے کہ خطے میں امن و سلامتی کے امکانات معدوم ہو جائیں گے


مودی سرکار نے دور اقتدار میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات بڑھائے اور اس بار امکانات ہیں کہ وہ اس حد سے آگے جائینگے


مقبوضہ کشمیر جس کی خصوصی حیثیت مودی کے اقتدار میں ہی ختم کی گئی تھی ان کیلئے بھی مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے حالات مزید بگاڑ کی جانب سے جائینگے


مودی اگر تیسری بار اقتدار میں آنے سے حالات مزید خراب ہونگے، اس صورتحال میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اب بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر زیادہ باریک نظر رکھنے کی ضرورت ہے

منگل، 22 ستمبر، 2020

یمن ۔ ایک یمنی بچے نے انتہاٸی گہرے کنوے سے لوبڑی کے بچے کو بغیر رسی کے ریسکیو کیا دنیا نے اس کے عمل کو سرہا گیا

 

یمن (ہنزہ آن لاٸن نیوز نیٹ ورک) یمن اس وقت جنگ زدہ ہے ۔  عام حالات میں زندگی بسر کرنے والا فرد اور جنگی حالات میں زندگی بسر کرنے والے انسانوں کی زہنی کیفیت بہت مختلف ہوتی ہے جنگ زدہ نفسا نفسی , غم و غصے کی کیفیت میں مدتلا ہوتا ہے ۔ مگر ایک یمنی بچے نے وہ کر دیکھا جو بر امن اور سیولاٸیز کہلانے والے ممالک کے جانباز بھی نہیں کر پاتے ۔ ایک لوبڑی جس دیکھ کر ہی اکثر لو گ


گولی مارکر کھال بیجھنے کی چکر میں ہوتے ہیں یمنی بچنے نے تین یا چار منزل جیتنی گہرٸی کنوے سے لوبڑی کے بچے کو کمر پر باندہ کر اپنی مد د آپ کے تحت بغیر کسی رسی کے اس کو ریسکیو کیا اس کے اس عمل کو پوری دنیا میں سرہا جا رہا ہے ۔


کعبہ کی صفائی اور حجر اسود اور دیگر متبرک مقامات کو معطر کرنے کی رُوح پرور تقریب ہوئی

 




مکہ مکرمہ(ہنزہ نیوز آن لاٸن نیٹ ورک۔22 ستمبر2020ء)

 خانہ کعبہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مقدس ترین مقام ہے۔ یعنی خدا کے گھر کی صفائی اور تطہیر کا عمل دن میں کئی بار دُہرایا جاتا ہے۔ حرم شریف کوبھی ہر وقت معطر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد حجر اسود اور ملتزم (کعبے کا احاطہ) کو بھی معطر کرنے اور غلاف کعبہ کی صفائی کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔گزشتہ روز بھی غلاف کعبہ کی صفائی اور حجر اسود اور دیگر متبرک مقامات کو معطر کرنے کی رُوح پرور تقریب ہوئی۔ جس میں حرمین شریف کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ اور امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبداالرحمن السدیس نے بھی حصہ لیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے حجر اسود کو معطر کرنے کا فریضہ سر انجام دیا۔ خانہ کعبہ کو معطر کرنے کے عمل میں مسجد الحرام کی انتظامیہ کے سیکرٹری الحرام احمد المنصوری اور سیکریٹری برائے انتظامی و مالی امور ڈاکٹر سعد اور ڈیوٹی ڈائریکٹر حمود العیادہ بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر خانہ کعبہ کے غلاف کو بھی معطر کیا گیا۔ جبکہ حجر اسود اور ملتزم کو بہترین خوشبویات سے معطر کرنے کے عمل میں شیخ عبدالرحمن السدیس نے بھی حصہ لیا۔ مسجد الحرام کی انتظامیہ کی جانب سے احاطہ حرم مکی کو معطر کرنے کے لیے خوشبویات کا ایک الگ ادارہ قائم ہے جو وقتاً فوقتاً خانہ کعبہ کو معطر کرنے کا عمل دُہراتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ حج سیزن کے اختتام پر غلاف کعبہ کا اُٹھا ہوا حصہ نیچے کرنے کی متبرک تقریب ہوئی جس میں 40 ماہرین کی ٹیم نے حصہ لیا۔ مسجد الحرام کی انتظامیہ نے حج موسم ختم ہونے پر غلاف کعبہ کا اٹھا ہوا حصہ اتار کر شاذروان کے سونے کے ہکس سے باندھ دیا۔ شروعات شاذروان کے سونے کے ہک نصب کرکے کی گئی۔ غلاف کعبہ اور حلقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے رسی کا انتظام کیا ۔اگلےمرحلے میں تین میٹر اٹھا ہوا غلاف نیچے کیا گیا اور پھر سونے کے ہک سے باندھ دیا گیا۔ اس کے بعد غلاف کعبہ کی صفائی کا اہتمام کیا گیا۔ حجر اسود اور رکن یمانی کے فریم لگائے گئے۔ یہ سارے امور باریک بینی سے انتہائی مہارت انجام دیے گئے۔ واضح رہے کہ ہر سال حج کے موقع پریکم ذی الحجہ کو غلاف کعبہ تین میٹراوپر اُٹھایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد حج کے دوران غلاف کعبہ کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ حج کے بعد غلاف کو کعبہ کے نچلے حصے شاذروان سے دوبارہ جوڑ دیا جاتا ہے 


پاکستان کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی امریکی شازش ۔ پختوں استعمال کرینگے ۔ کے پی کے میں بلوچستان کے جیسے حالات پیدا کرینگے سی پیک امریکہ کے نقصا ہے ۔ امریکی عہدار کا بیان


 

اتوار، 20 ستمبر، 2020

واشینٹن ۔امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا


واشینٹن ۔(۔ہنزہ آن لائن نیوز ) امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے انہوں نے مسلم عرب ممالک اوراسرائیل کے درمیان کامیاب مزاکرات کے بعد خلیج اور اسرائل میں تعلقات استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا متحدہ عرب عمارت کے بعد بہرین اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ حالیہ مزاکرات میں بلواستہ اور بلاواستہ اہم کام کیا اس کے علاوہ افغانستان سے امریکی فوج اور طالبان مزاکرات سے امریکی قوم کو بھی خوش کیا اس بنا پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔


واشینٹن ۔ا مریکہ 'ٹف اور سمارٹ' طالبان سے معاملات نمٹا رہا ہے: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ ہم طالبان کے ساتھ معاملات کو بہت اچھی طرح نمٹا رہے ہیں۔ طالبان کا مؤقف سخت ہے۔ وہ سمجھ بوجھ سے کام لے رہے ہیں اور بہت ہوشیار ہیں، لیکن آپ کو علم ہے کہ 19 برس گزر چکے ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ وہ لڑائی سے تھک چکے ہیں ۔انہوں  نے جمعے کو طالبان کے 'ٹف' اور 'سمارٹ' ہونے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغان عسکریت پسند گروپ کے ساتھ معاملات کو اچھی طرح نمٹا رہا ہے۔۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ امریکی فوج نے 11 ستمبر 2001 کو افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کی سخت گیر حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ طالبان نے دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اس ہفتے کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹرمپ نومبر کی تین تاریخ کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے کوشاں ہیں اور امریکہ کی طویل ترین افغان جنگ ختم کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ٹرمپ انتظامیہ نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی امداد افغانستان میں امن معاہدے کے لیے استعمال کی جائے گی ۔پروگرام  کے مطابق امریکہ مئی 2021 تک افغانستان سے تمام فوج نکال لے گا تاہم اس کے لیے طالبان کو سلامتی کے حوالے سے بعض ضمانتیں دینی ہوں گی ۔طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن کے لیے پہلی رسمی ملاقات منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئی جس کی افتتاحی تقریب میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شرکت کی تھی

 

جمعہ، 18 ستمبر، 2020

خنجراب بارڈر 30 ستمبر تک ایس او پیز پر عمل پیرا ہو کر کھولا رہے گا ۔ وزارت داخلہ

 



خنجراب باڑر 18 ستمبر سے 30 ستمبر تک کھلا رہے گا وزرات داخلہ نے اپنے مراسلے میں بتا یا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نے متعلاع کیا ہے پا ک چین سرحد 18ستمبر سے 30ستمبر تک مکمل ایس او پیز پر عمل پیرا ہو کر کھولا جا رہاہے 

ہفتہ، 29 اگست، 2020

دنیا کا واحد قومی ترانہ اسرائیل کا ھے جس میں کھلے عام دہشت گردی اور سینوں میں نیزے گاڑھنے اور عام خون بہانے کو کامیابی قراردیا گیا ھے.

دنیا کا واحد قومی ترانہ اسرائیل کا ھے جس میں کھلے عام دہشت گردی اور سینوں میں نیزے گاڑھنے اور عام خون بہانے کو کامیابی قراردیا گیا ھے 🇮🇱🇮🇱🇮🇱🇮🇱🇮🇱🇮🇱🇮🇱🇮🇱🇮🇱

(یہ تحریرحالیہ  متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے پس منظر میں لکھی گئی ھے اسے ضرور پڑھ کر اپنے حلقہ اثر میں پہنچائیے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا دہشت گردی عام کرنے کے مترادف ھے

 اسرائیلی قومی ترانے کا انگریزی ترجمہ (موصولہ)

* The Israeli National Anthem *

Do Arabs know its translation.

 

 כל עוד בלבב פנימה
 י יהודי הומיה
 ולפאֲתי מזרח קדימה
 עין לציון צופייה -

 עוד לא אבדה תקוותנו
 התקווה בת שנות אלפיים
 להיות עם חופשי בארצנו
 ארץ ציון וירושלים

 Translation of the hymn:

 * As long as there is a Jewish soul * in the heart!

 - * yearning forward, towards the east *

 - * Our hope is not made yet *!

 - * A thousand years dream on our land *

 - * The land of Zion and Jerusalem *

 - * Let those who are our enemy shudder *
 
 - * Let all the inhabitants of (Egypt and Canaan *) tremble

 - * Let the inhabitants of Babylon shudder *

 - * To loom over their skies, panic and terror from us *

 - * When we plant our spears in their chests *!
 
 - * And we see their blood being shed *
 
 * And their heads cut off *!

 - * Then we will be God's chosen people where God willed *

 A question worth asking:
 Who were the original terrorists, the beheadings, and the bloody ones?

 If you please, contribute to publishing it in various languages ​​and re-transmit it۔

اسکا اردو ترجمہ:-- 

جب تک دل میں یہودی روح ہے٭
یہ تمنا کے ساتھ مشرق کی طرف بڑھتا ہے٭
ہماری امید ابھی پوری نہیں ہوئی٭
اپنی زمین پر ایک ہزار سال کا خواب ٭
اپنے خوابوں کی دنیا یوروشلم ٭
ہمارے دشمن یہ سن کے ٹھٹھر جائیں٭
مصر اور کنعان کے سب لوگ ، لڑ کھڑا جائیں٭
بیبو لون ( بغداد) کے لوگ ٹھٹھر جائیں ٭
ان کے آسمانوں پر ہمارا خوف اور دہشت چھائی رہے٭
جب ہم اپنے نیزے ان کی چھا تیوں میں گھاڑ دیں گے٭
اور ہم ان کا خون بہتے ہوئے٭
اور ان کے سر کٹے ہوئے دیکھیں٭
تب ہم اللہ کے پسندیدہ بندے ہونگے جو چاھتا ہے *

 عرب حکو متیں اس قومی عزم ، دہشتگردی کےارادے،  خون خرابے اور اسکےحلف کے باوجود اسرائیل کو تسلیم اور اس کے قومی ترانے پر احتراماً کھڑے ہوکے سر جھکاتے ہیں —— اس بے شرمی اور بےغیرتی کا کیا کریں؟
ضروری نوٹ:--
(اس سے سب مسلمانوں کو آگاہ ضرور کریں تاکہ ہر مسلم اسرائیل کے دہشت گردانہ عزائم کو سمجھے اور انہیں ہلکا لے کر بے خبری میں مارا نہ جائے)

 

بدھ، 12 اگست، 2020

اسلام آباد (ہنزہ نیوزآن لائن) وزیراعظم عمران خا ن سے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے ٹیلیفونک رابطہ، کورونا وبا کی تازہ ترین صورتحال اور پاکستان میں انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، تفصیلات کے مطابق منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کا بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے

اسلام آباد (ہنزہ نیوزآن لائن) وزیراعظم عمران خا ن سے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے ٹیلیفونک رابطہ، کورونا وبا کی تازہ ترین صورتحال اور پاکستان میں انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، تفصیلات کے مطابق منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کا بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے

کیپشن شامل کریں
چیئرمین بل گیٹس سےٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے جس میں کووڈ 19 کی تازہ ترین صورتحال اور پاکستان میں انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہےوزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال اور اموات اور کورونا کیسز میں کمی سے آگاہ
 کیا وزیراعظم عمران خان نے کہا
 کہ حکومت کی سمارٹ لاک
 ڈاؤن پالیسی دباؤ پر قابو پانے میں موثر رہی ہے بروقت اور محتاط اقدامات کی بدولت وبا کے معیشت پر اثرات کم کرنے میں کامیاب ہوئے ملک سے پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ بل گیٹس فاؤنڈیشن کے کورونا کے دوران تعاون سے پاکستان کو مدد ملی پولیو کے لیے قائم انفراسٹرکچر سے کرونا کا موثر مقابلہ کیا بل گیٹس نے کہاکہ پولیو کے خاتمے کے لیے مہم کادوبارہ آغاز حوصلہ افزا ہے مہم کے دوران کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں گی پاکستان نے کورونا وبا کے دوران پسماندہ طبقات کی موثر دیکھ بھال کی ہے کورونا سے مقابلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔، وزیراعظم عمران خان اور بل گیٹس نے مشترکہ ترجیحات پر باہمی تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

پیر، 3 اگست، 2020

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ‏. ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ , ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﮐﺎﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎﺑﮭﯽ ﻣﻌﺘﺮﻑ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻻﮎ ﮈﺍﻭﻥ ﮐﯽ ﺟﺲ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﭘﺮﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﺮﭼﮯ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ‏( ہنزہ نیوز ﺍٓﻥ ﻻﺋﻦ ‏) ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ , ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﮐﺎﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎﺑﮭﯽ ﻣﻌﺘﺮﻑ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻻﮎ ﮈﺍﻭ
ﻥ ﮐﯽ ﺟﺲ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﭘﺮﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﺮﭼﮯ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻭﺍﻝ ﺳﭩﺮﯾﭧ ﺟﺮﻧﻞ ﮐﺎﮐﮩﻨﺎﮨﮯﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﭙﺮﭘﺎﻭﺭﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﺳﮯ ﻧﻤﭩﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﻈﺮﺍٓﺗﯽ ﮨﮯﺗﻮﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﺻﺤﺖ ﻭﺍﻻ ﻣﻠﮏ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮍﯼ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻗﺎﺑﻮﭘﺎﻧﮯﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﭼﮑﺎﮨﮯ۔
ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻭﺍﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﺟﺮﻧﻞ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯﮐﯿﺴﺰ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﮐﻤﯽ ﺍٓﺋﯽ۔ﺍﺧﺒﺎﺭ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﺍﯾﺸﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯﻭﺑﺎ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﻠﮏ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ﺩﻭﻣﺎﮦ ﻗﺒﻞ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﺴﺰ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 7000 ﯾﻮﻣﯿﮧ ﺳﮯﮔﺮﮐﺮ 553 ﭘﺮﺍٓﮔﺌﯽ۔

ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺑﺎ ﭘﺮﻗﺎﺑﻮﭘﺎﻧﮯﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺟﯿﺴﯽ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﮯ۔ﺍﺧﺒﺎﺭﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﻭﻣﻐﺮﺑﯽ ﮨﻤﺴﺎ ﺋﮯ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭﺍﯾﺮﺍﻥ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺰ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺧﺒﺎﺭﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻻﮎ ﮈﺍﻭﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﯽ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮯ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯﮨﻮﺋﮯ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺍﺭﮦ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﮐﻮﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﯿﺎ۔
ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﯽ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﭘﺮ ﺳﺨﺘﯽ ﺳﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ،ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻤﺮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﺎ ﺑﺎﮬﺮ ﺟﺎﻧﺎﺍﻭﺭﺳﺨﺖ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﯽ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮨﯿﮟ۔ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﮯﭘﮭﯿﻼﻭﮐﺎﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﯽ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﭘﺮ ﻋﻤﻠﺪﺭﺁﻣﺪ ﭘﺮ ﮨﮯ۔

ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﺍٓﺝ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ 330 ﮐﯿﺴﺰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺋﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ 8 ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ۔

بدھ، 10 جون، 2020

بین الاقوامی ،سعودی عرب . ریاض سے ملتان آنے والی پی آئی اے کا تیارہ فنی خرابی کے باوجود پاکستان لا یا گیا اور کراچی میں اتارا مسافر سراپا احتجا ج

سودی عرب ریاض (نمائندہ خصوصی )پی کے 8726 فلائٹ آج دوپہر 12 بجہ ریاض  سعودی عرب سے ملتان کے لیئے اڑا آدھا گھنٹا سفر کے بعد جھاز کے انجن سے عجیب آواز آنے لگے جس کی وجہ سے جھاز مسافروں میں بیچینی پھیلنے لگی تو کیپٹن نے فنی خرابی کا کہہ کر مسافروں کو خاموش کروایا تقریبن 4 گھنٹے سفر کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر خیریت سے لینڈ کروایا گیا
4گھنٹے ایئرپورٹ پر طویل انتظار کے بعد متبادل جھاز کا انتظام کیا گیا
ابھی جھاز تھوڑی ہی دیر فضا میں اڑا ہی تھا کہ دوسرے جھاز کو بھی فنی خرابی کی وجہ سے دوبارہ کراچی ایئرپورٹ پر اتارا گیا اب مسافر جھاز سے اتر چکے ہیں اور سراپا احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمیں ہمارے سامان دیئے جائیں ہم کسی تیسری جھاز میں نہیں بیٹھینگے مگر پی آئی ای انتظامیہ مسافروں کو باھر جانے کی اجازت نہیں دے رہی مسافر حضرات نے بھی کہا کچھ بھی ھو جائے اب تیسری جھاز میں نہیں بیٹھینگے
مسافروں نے کہا اگر کچھ ھوجائے تو موجودہ حکومت اور پی آئی ای انتظامیہ مسئول ہے

اتوار، 7 جون، 2020

کرونا واٸرس کا دنیا بھر میں صورت حال کہاں کتنی اموات ہوٸی کتنے ریکور ہوٸیے جانیے اس رپورٹ میں

کوروناوائرس/عالمی صورتحال
دنیابھرمیں کوروناوائرس سے69لاکھ26ہزار558سےزائدافرادمتاثر
دنیابھرمیں کوروناوائرس سے4لاکھ472افرادہلاک
دنیابھرمیں کوروناسےمتاثرہ33لاکھ89ہزار218سےزائدافرادصحت یاب
واشنگٹن:امریکامیں کوروناوائرس سے19لاکھ 80 ہزار879افرادمتاثر
واشنگٹن:امریکامیں کوروناوائرس سےہلاکتوں کی تعداد1لاکھ11ہزار858
لندن:برطانیہ میں کوروناوائرس سےاموات کی تعداد40ہزار465ہوگئی
برازیل میں کوروناسے 35ہزار211افرادہلاک،6لاکھ51ہزار980مریض
روم:اٹلی میں کوروناوائرس سےاموات کی تعداد33ہزار846ہوگئی
پیرس:فرانس میں کوروناوائرس سےہلاک افرادکی تعداد29ہزار142
میڈرڈ:اسپین میں کوروناوائرس سےہلاک افرادکی تعداد27ہزار135
بیلجیم میں کوروناسے9580،جرمنی8769،ایران  میں8209ہلاکتیں
نیدرلینڈز6011،ترکی4669،سویڈن4656،سوئٹزرلینڈمیں1921ہلاکتیں
کینیڈامیں7772،میکسیکو13170،پرتگال1474،انڈونیشیامیں1801افرادہلاک
بھارت میں 6946،سعودی عرب676،بنگلادیش846،یواےمیں275ہلاکتیں
روس میں کوروناوائرس سے5725افرادہلاک،4لاکھ58ہزار689مریض
UPD

پیر، 18 مئی، 2020

کرونا وائرس سائنسی حقائق اور سرمایہ دارانہ نظام

اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہر شعبہ زندگی سے سرمایہ پرستی اور سرمایہ داریت کے نظام کا خاتمہ ہو اور عالمگیر انسانی فطرت  کے فلسفہ کے تحت قومی بنیادوں پر آزاد اور مستحکم نظام تشکیل دیے جائیں تاکہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی فارما کمپنیوں اور اقوام متحدہ کی چھتری تلے قائم اس استحصالی نظام  سے نجات مل سکے 


کرونا وائرس، سائنسی حقائق اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام
Covid 19 نے WHO کو عالمی وبا قرار دیا تو اس کے پیچھے مین سٹریم میڈیاکی خبروں سے ہٹ کر میڈیکل سائنس کی بنیاد پر آئیے اس کاتجزیہ کرتے ہیں۔

By Saqib mehfooz Published on May 16, 2020 Views 53

کرونا وائرس، سائنسی حقائق اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام
تحریر: ثاقب محفوظ ۔ پشاور

کرونا وائرس (Covid 19)  کے متعلق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO), امریکہ اور یورپی ممالک نے عالمی میڈیا کے ذریعے جو خوف  پھیلا رکھا ہے وہ اب بھی لاک ڈاؤن کی شکل میں موجود ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس نئی بیماری یا یوں کہیے کہ پرانی بیماری کی اس نئی شکل کو ایک عالمی وبا قرار دیا ہےاور اسے COVID19 کا نام دیا ہے۔ ویسےتو مین سٹریم میڈیاپراس کے بارے میں بہت کچھ موجود ہے۔ لیکن آج ہم اس کا میڈیا سے ہٹ کر میڈیکل سائنس کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں۔
امریکہ کے مرکزی ادارہ برائے امراض (CDC) کے اعداد و شمار کے مطابق ایسی تمام وجوہات جو فلوکا باعث بنتی ہیں، کی وجہ سے سال (17-2016) میں 5 لاکھ۔ (18-2017) میں 8لاکھ۔ (19-2018) میں 5 لاکھ۔ اور اب (20-2019) کے فلو کے مخصوص موسم میں، جس میں کرونا وائرس کی وجہ سے بیمار مریض  بھی شامل ہیں، اب تک 5 لاکھ 25 ہزار مریض ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ نئی وبا کے منظر عام پر آنے کی وجہ سے مریضوں کی اوسط تعداد جنھیں ہسپتالوں میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے، میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنےکو نہیں ملا۔
دوسری طرف امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے(JAMA)  کی 13 مارچ 2020 کے شمارہ کے اداریے میں یہ بات درج ہے کہ اٹلی کے علاقے لمبارڈی (جو کہ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متأثر ہوا ہے) کے تمام ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ فلو کے موسم میں  %90-%85  فلو کے مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔ اس نئی بیماری سے یقینا انتہائی نگہداشت کے وارڈز پر  بوجھ ضرور پڑا ہےلیکن اس مخصوص سیزن میں وہاں مریضوں کا انتہائی نگہداشت وارڈز میں داخل ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن حقائق یہ ہیں کہ اگر  ہم اطالوی قومی ادارہ صحت (National Health Institute of Italy) کے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تویہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اٹلی میں 31 مارچ 2020 تک کل 11500 اموات رجسٹرڈ ہوئیں۔ جن میں فقط %12 یعنی 1380  اموات کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ میں موت کی وجہ کرونا وائرس لکھا گیا ہے جب کہ 10120مریض انفلوئنزہ جیسی بیماری والے گروپ میں تو ہیں لیکن ان کی موت کی وجہ کرونا وائرس نہیں ہے۔
اب ہم برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں پر جنوری 2020 میں حکومت کے قائم کردہ ماہرین کے ایک مشاورتی بورڈ (New & Emerging Virus Threat Advisory Group) کی طرف سے ایک تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ جس کے مطابق آنے والے  2 ماہ کے دوران امریکہ  میں 22 لاکھ اور برطانیہ میں 5 لاکھ اموات کرونا وائرس کی وجہ سے ہو سکتی ہیں.
اسی طرح کی ایک اور رپورٹ امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے مرکزی ادارے ( CDC) کی طرف سے بھی جاری ہوتی ہے۔ جس کے مطابق امریکہ میں 17 لاکھ اموات ہو سکتی ہیں۔
انھی رپورٹس کو بنیاد بنا کر برطانیہ نے کورونا وائرس کو انتہائی خطرناک متعدی بیماری کے زمرے میں شامل کرکے اپنے ملک کے شعبہ صحت کی ویب سائٹ پر ڈالا اور یہی چیز وجہ بنی اس شدید لاک ڈاؤن کی جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔
لیکن کچھ ماہ بعد جب امریکہ، برطانیہ، یورپ  اور دیگر ممالک کے اعدادوشمار سامنے آئے تو برطانوی حکومت نے حقیقت کو جانتے ہوئے کرونا وائرس Covid 19  کو ایک سادہ سا فلو قرار دیا اور نہایت خاموشی سےکرونا وائرس کی بیماری کو انتہائی خطرناک متعدی امراض کے زمرے سے نکال کر ایک عام فلو قرار دیا۔ اور حال ہی میں روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق غلط اعداد وشمار دینے کی پاداش میں امپیریل کالج آف لندن کے پروفیسر نیل فرگوسن کو اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونا پڑا
26 مارچ کو شعبہ طب کے ایک نامور جریدے New England Journal of Medicine  اور 27 مارچ کی The Lancet کی اشاعت میں چین میں کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہونے والے ابتدائی پانچ سو مریضوں کے ڈیٹا کا جو تجزیہ کیا گیا اس سے یہ بات سامنے آئی کہ کرونا وائرس Covid 19 اتنا خطرناک مرض نہیں جتنا  سمجھا جا رہا تھا بلکہ اس کی شرح اموات فقط %0.1 ہے۔ یعنی 1000 مریضوں میں فقط 1 مریض کے مرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم ترین معاملہ ٹیسٹ کٹ کا بھی ہے۔ اس ٹیسٹ کٹ کے موجد کیری مولس جو کہ نوبل انعام یافتہ بھی ہیں۔ ان کی ہدایات اور ٹیسٹ  کٹ بنانے والی کمپنی کے تعارفی کتابچے کے مطابق اس کا استعمال تحقیق  کےلیے ہونا چاہیے نہ کہ تشخیص کےلیے۔ اور یہ  کٹ فقط جینیاتی مادے کا بتاتی ہے جس کی وجہ سے ملتے جلتے RNA وائرسز میں غلطی کا احتمال بہر حال موجود رہتا ہے۔
امریکہ میں بیماریوں کے روک تھام کے مرکزی ادارے (CDC) نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ابتدا میں جو کٹس متعارف کروائیں وہ اس قدر ناقص تھی کہ وائٹ ہاؤس کی کوارڈینیٹر برائے کرونا وائرس ڈاکٹر بیریکس (Dr Birix) کو بھی مجبوراً کہنا پڑا کہ یہ ٹیسٹ کٹ %50 تک غلط نتیجہ دے سکتی ہیں ایسی ہی کچھ دیگر رپورٹس کی بنیاد پر فن لینڈ کی منسٹری آف ہیلتھ  نے 20 مارچ  کو  ان کٹس کے استعمال پر پابندی لگادی۔
اس کے علاوہ ان کٹس کا ایک اور مسلہ False Negative اور False Positive کا بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بیمار شخص کا نتیجہ صحت مند شخص جیسا اور ایک صحت مند شخص کا نتیجہ بیمار شخص جیسا بھی آسکتا ہے۔ اگرچہ نئی کٹس کے مطابق دوسری صورتحال کا امکان کم ہے لیکن بہر حال امکان موجود ضرور ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے (JAMA)  کی 27 فروری کی اشاعت  میں موجود ہے کہ ووہان Wuhan  میں چار مریضوں کا ٹیسٹ منفی آیا تھا اور انہیں مریضوں کا دوبارہ 13 دن بعد  ٹیسٹ انہیں کٹس پر کیا گیا جو کہ مثبت تھا۔ اسی طرح پانچ مارچ کو New England journal of Medicine میں شائع ہوا کہ امریکہ کے ابتدائی مریض کی ناک سے نمونہ لیا گیا تو نتیجہ مثبت آیا  لیکن اسی مریض کے منہ سے جب نمونہ لیا گیا تو اس کا نتیجہ منفی آگیا۔  یعنی ایک ہی مریض کے دو مختلف نتائج۔ اسی طرح کے کئی اور ٹیسٹ بھی رپورٹ ہوئے۔
برطانیہ میں ایک پرائیویٹ ادارہ Cochrane Collaboration ہے۔ جس کی وجہ شہرت یہ ہے کہ یہ ادارہ کسی بھی فارما کمپنی سے کوئی مالی امداد نہیں لیتا اور نہ ہی ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرتا ہے  جن کا تعلق کسی فارما کمپنی سے ہو یا ان کا سابقہ ملازم رہ چکا ہو۔ اس ادارہ کے موجودہ سربراہ پیٹر گوڈزے ( Peter Gotzhe)  کا ایک مضمون "کیا ہم بڑے پیمانے پرخوف کا شکار ہیں" (Are We Victims Of Mass Panic) کے عنوان سے برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) کی 6 مارچ کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں  "کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی. عجیب بیماری ہے کہ بہت سارے لوگ بغیر کسی علامت کے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف کسی 80 سال بوڑھے شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے جس کو دل کی بیماری یا اور کوئی مہلک بیماری بھی ہے۔ اب ایسے شخص کی موت کے بارے یہ رائے قائم کرنا مشکل ہے کہ اس کی موت کرونا وائرس سے ہی ہوئی ہے یا دل کے عارضے سے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ چین نے اپنے مریضوں کا ٹیسٹ ہی نہ کرایا ہوتا یا اس بیماری کا کوئی ٹیسٹ ایجاد ہی نہ ہوا ہوتا۔ تو زندگی رواں دواں رہتی۔ ٹھیک ہے کچھ اموات ہوتیں لیکن غیر محسوس طریقے سے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق انفلوئنزا کی وجہ سے سالانہ ساڑھے چھ لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ جب کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کنفرم اموات کی شرح اس کے مقابلہ میں کافی کم ہے"
اسی طرح پروفیسر مائیکل لیویٹ Prof Michael Levitt جو کہ حیاتیاتی فزکس کے ماہر اور نو بل انعام یافتہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس Covid 19 عام نزلہ زکام سے زیادہ خطرناک مرض نہیں ہے۔ اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والی اموات ہر سال فلو سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہیں۔ درحقیقت کرونا سے صرف وہی لوگ مر رہے ہیں جو پہلے ہی مختلف بیماریوں سے مرنے کے قریب تھے انہوں نے مزید کہا کہ کرونا کو عالمی وباء قرار دینا  دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے ۔
امریکہ کے ایک اور ڈاکٹر سکاٹ جینسن Dr Scott Jenson جو کہ سینیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست مینیسوٹا کی سٹیٹ میڈیکل ہیلتھ کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک انٹرویو  میں کہا کہ ایک 88  سالہ  مریض جو فلو انفیکشن  کی وجہ سے ہلاک ہوا تو منسٹری آف ہیلتھ کی طرف سے ان پر دباؤ تھا کہ اس کی موت کی وجہ کرونا وائرس Covid 19 ظاہر کریں جب کہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ ان کے ایک تازہ انٹرویو کے مطابق حکومتی اداروں اور میڈیا نے جو خوف پھیلایا ہے اس کی وجہ سے مینیسوٹا اسٹیٹ میں خودکشی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
انسانی زندگی کے بچاؤ اور بقاء  کے نام سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات پر جو لاک ڈاؤن جاری ہے۔ وہ ایک طرف تو شدید خوف و ہراس  قائم کیے ہوئے ہے اور دوسری طرف  کمزور ملکوں کے معاشی اقتصادی نظاموں کو مزید قرضوں کی معیشت میں پھنسانے کا باعث بھی بن رہا ہے۔ کیا لاک ڈاؤن ہی واحد حل ہے؟ جی نہیں! ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ اس کمزور جراثیم کے خلاف لاک ڈاؤن کے علاوہ بھی حکمت عملی موجود ہے۔  جس کی مثال سویڈن اور جاپان ہیں۔انہوں نے بغیر لاک ڈاؤن کے ہی کامیابی حاصل کی۔ جاپان کا اگر ہم تجزیہ کریں تو  یہ وائرس جاپان میں 16 جنوری کو نمودار ہوا  جبکہ اٹلی میں31جنوری کو پہلا کیس سامنے آیا تھا۔جاپان نے نہ تو لاک ڈاؤن کیا اور نہ ہی خوف پھیلایا بلکہ جاپان نے کلسٹر ماڈل اپنایا۔ ابتدا میں انھوں نے کچھ ایسے لوگوں کے نمونے لیے جو کہ کسی بیمار شخص کے قریب رہ چکے تھے لیکن حیرت انگیز طور پر ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن میں وائرس پایا گیا اگر وہ کسی مریض شخص کے قریب رہے ہوں۔ اس انکشاف کو مد نظر رکھ کر انھوں نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ تمام مریضوں میں بیماری منتقل کرنے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس مفروضے کو بنیاد بنا جاپان کے شعبہ صحت نے ابتدا میں ان گروپوں کا پتا لگایا جو زیادہ بیماری پھیلانے کے مرتکب ہوئے اور ان کو آئسولیشن میں رکھا۔ جب کہ اسی کے ساتھ ساتھ عوام کو ماسک پہننے، کم ہوا دار بند جگہوں پر نہ جانے اور بہت زیادہ رش سے اجتناب کرنے کی تاکید کی۔ لیکن انڈسٹری، سکول اور کالجز اور دفاتر کو بند نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان میں آج کے دن تک کل 13000 کے لگ بھگ لوگ اس مرض کا شکار ہوئے اور کل 682 لوگوں کی اموات ہوئیں۔  اسی طرح سویڈن نے بھی بہت معمولی پابندیاں لگائیں لیکن لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ اور ہرڈ امیونٹی (Herd Immunity)  کی حکمت عملی کے ذریعے سے اس کا مقابلہ کیا۔ ہرڈ امیونٹی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایک نارمل انسان کی قوت مدافعت  اس قابل ہوتی ہے کہ وہ کسی قسم کی بیماری کا مقابلہ کرسکے۔ پھر ایسی بیماریاں جس کی وجہ سے شرح اموات کم ہوں اس میں یہ طریقہ کار زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اور جب معاشرے کی ایک مخصوص تعداد (٪60-٪70)  اس بیماری  کا شکار ہوجاتی ہے تو انسانی جسم میں اس جراثیم کے خلاف ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں کہ یا تو اس کا حملہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے یا پھر اس کی شدت اتنی کم ہوجاتی ہے کہ مزید نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہتا۔سٹاک ہوم جو کہ سویڈن کا دارالخلافہ ہے، ہرڈ ایمونٹی کے قریب ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہاں نئے مریضوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ شرح اموات میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے۔
لاک ڈاؤن سے آپ صرف بیماری کو ملتوی کر سکتے ہیں لیکن ختم نہیں کر سکتے۔ لاک ڈاؤن صرف ایک محدود مدت کے لیے فاعدہ مند تو ہوسکتا ہے کہ بیماری کو تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کرکے آپ مطلوبہ تیاری کرلیں لیکن یہ مستقل حل ہر گز نہیں ہے بلکہ زیادہ نقصان کا باعث ہے۔ لیکن سرمایہ داری نظام اور اس کی پشت پر کھڑا میڈیا ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ ہرڈ امیونٹی کو موقع دیا جائے کیوں کہ پھر وہ خوف نہیں بیچا جا سکتا جو کہ وہ بیچنا چاہتا ہے اور اس کی آڑ میں وہ دنیا کو مزید غلام بنانا چاہتا ہے
ایک قابل ذکر نکتہ یہ  بھی ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے تک دنیا بھر کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ  کے ارد گرد ہی رہتی ہے لیکن جب عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے کرونا وائرس سے متأثرہ معیشتوں کے لیے امداد کا اعلان کیا جاتا ہے تو 15مارچ تک مریضوں کی تعداد اچانک 3 لاکھ اور پھر 9 لاکھ تک پہنچ جاتی ہےاور اب بھی بدستور یہ تعداد بڑھ رہی ہے یعنی وائرس اور امداد کے نام پر قرضوں کے جال کا کوئی نہ کوئی گٹھ جوڑ ضرور ہے
اب ہمارے سامنے عالمی آلہ کار میڈیا کے بجائے سائنسی ثبوت اور ڈیٹا موجود ہے تو یہ حقیقت واضح ہوتی  ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ بن کر کرونا وائرس کو کائنات کا دشمن نمبر ایک ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے  اور اس کے خاتمے کے لیے کثیر القومی فارما کمپنیوں کو امریکہ کی چھتری تلے ایسے تیار کر رہا ہے جیسے ماضی  میں اسلحہ ساز کمپنیوں کی پشت پناہی پر امریکہ ویتنام عراق لیبیا اور شام پر کیمیائی ہتھیار رکھنے یا استعمال کرنےکے جھوٹے الزامات لگا کر حملہ آور ہوا تھا ۔ اس مرتبہ میدان اور کمپنیاں مختلف ہیں۔ کبھی اگر اسلحہ ساز کمپنیوں کی پشت پناہی پر امریکی نظام عالمی سرمایہ دار اتحادیوں کے ذریعے حملہ آور ہوتا تھا۔ تو آج اس نے کثیر القومی فارما کمپنیوں کے ذریعے مختلف میدان کا انتخاب کیا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ امریکہ کی اسلحہ کی صنعت اور ٹیکنالوجی عالمی مارکیٹ میں چیلنج ہو چکی ہے اور اس کی اجارہ داری ختم ہوچکی ہے  اب دنیا کے بہت سارے ممالک اسلحہ بناتے اور فروخت کرتے ہیں اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے جو اسلحہ ایکسپورٹ کرتا ہے۔
اب اگر ہم عالمی فارما کمپنیوں کا نظام دیکھیں تو امریکہ اور اس کے یورپین اتحادیوں کے علاوہ عالمی سطح پر ان کا کوئی خاطر خواہ مد مقابل موجود نہیں ہے اور اس کی ایک وجہ سوشلسٹ بلاک کے ممالک کااپنے ابتدائی دور  میں صحت عامہ کے شعبے کو کمرشل بنیادوں پر استوار نہ کرنا ہے۔
تاہم یہ ماضی کی بات ہے اب تو کیوبا کے علاوہ ان ممالک میں بھی صحت کا شعبہ صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے بلکہ چین ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کا بہت بڑا ایکسپورٹر ہے۔ اب ان کے ہاں بھی علاج کافی مہنگا  ہے تاہم اپنے ابتدائی مزاج کی وجہ سے ان کی کمپنیوں کا کوئی خاطر خواہ عالمی نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔
لہذا اس میدان کے انتخاب کی ایک وجہ تو یہ بھی ہےاور اس کی ابتدائی اقساط 70 کی دہائی سے عالمی سرمایہ دار فارما کمپنیوں کی طرف سے شروع ہو چکی تھیں اور 80 کی دہائی سے انہوں نے یکے بعد دیگرے تسلسل کے ساتھ ایک سیریز میدان میں اتاری۔ مثلا ایڈز , زیکا(Zica)،اینتھراکس، H1N1  وغیرہ اور اب کرونا وائرس Covid 19 . برٹش میڈیکل جنرل (BMJ) کے مطابق سوائن فلو سے عالمی فارما کمپنیوں نے 7 ارب ڈالر کمائے اور سوائن فلو کی گائیڈ لائن بھی WHO نے جاری کی تھیں اور جن 3 سائنسدانوں نے اس کی ہدایات مرتب کی تھیں ان کو (Roche) اور (GSK)  فارما نے فنڈز فراہم کیے تھے بعد ازاں ان تینوں سائنسدانوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ سوائن فلو اتنا خطرناک نہیں تھا۔ جس طرح سے اسے پیش کیا گیا تھا۔ اور اب Covid 19 کی تیاری  پچھلی دہائی سے جاری ہے۔ بل گیٹس نے 2015 میں اپنی ایک پریزنٹیشن میں ایک کروڑ انسانوں کی ہلاکت کی تنبیہ کی تھی اور پھر اس وائرس کی پروڈکشن پر گیٹس فاؤنڈیشن کے مالی تعاون سے کام شروع ہوا ۔
اکتوبر 2019 کو نیویارک میں ایونٹ (Event 201) کے نام سے سے  ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں حیاتیاتی  جنگ کا ایک نقشہ بنایا گیا اور پھر اس سے نمٹنے کی باقاعدہ ٹریننگ دی گئی اور پھر دو ماہ بعد ہی یہ وائرس مارکیٹ میں آگیا۔
اب اس لاک ڈاؤن کا فاعدہ ایک طرف جہاں عالمی فارما کمپنیاں اٹھائیں گی تو دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے بھی اس سے مستفید ہوں گے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا چکا ہے اور اس کے لیے مطلوبہ فنڈنگ بھی ہو چکی ہے ۔
اس سلسلے میں مین سٹریم میڈیا کے ذریعے خوف کو بڑی سطح پر  بیچا جا چکا ہے اور مزید بھی بیچا جارہا ہے تاکہ دنیا کی اربوں کی آبادی ویکسین کو آب حیات سمجھ کر خریدنے کے لیے بے تاب ہو جائے اور دنیا بھر کے ملکوں کے وسائل اور بجٹ میں باقاعدہ کرونا وائرس کے لیے فنڈز متعین ہو جائیں اور عالمی سطح پر ایسے قوانین متعارف کرائے جائیں کہ مختلف سروسز اور بین الاقوامی سفر کے لیے ویکسین کی شرط کو  لازمی قرار دیا جائے
اب رہا یہ سوال کہ سائنسی میڈیکل جریدوں اور ڈاکومنٹس کے حوالہ جات ، نوبل انعام یافتہ پروفیسروں کی دوٹوک رائے،جاپان اور سویڈن کی کامیابی پر مین سٹریم میڈیا میں خاموشی کیوں ہے؟ اور WHO ان حقائق پر خاموش کیوں ہے؟ تو بات یہ ہے کہ WHO اور آلہ کارمیڈیا کی ان حقائق پر خاموشی اس کے پس پشت سرمایہ پرستانہ استحصال کو بے نقاب کر رہی ہے۔
لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہر شعبہ زندگی سے سرمایہ پرستی اور سرمایہ داریت کے نظام کا خاتمہ ہو اور عالمگیر انسانی فطرت  کے فلسفہ کے تحت قومی بنیادوں پر آزاد اور مستحکم نظام تشکیل دیے جائیں تاکہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی فارما کمپنیوں اور اقوام متحدہ کی چھتری تلے قائم اس استحصالی نظام  سے نجات مل سکے جن کے ہر خوبصورت نعرے اور عمل کے پیچھے صرف سرمایہ کمانے اور استحصال کرنے کا ہی  مقصد کارفرما ہوتا ہے۔
By Saqib mehfooz Published on May 16, 2020 Views 53

کرونا وائرس، سائنسی حقائق اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام
تحریر: ثاقب محفوظ ۔ پشاور

کرونا وائرس (Covid 19)  کے متعلق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO), امریکہ اور یورپی ممالک نے عالمی میڈیا کے ذریعے جو خوف  پھیلا رکھا ہے وہ اب بھی لاک ڈاؤن کی شکل میں موجود ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس نئی بیماری یا یوں کہیے کہ پرانی بیماری کی اس نئی شکل کو ایک عالمی وبا قرار دیا ہےاور اسے COVID19 کا نام دیا ہے۔ ویسےتو مین سٹریم میڈیاپراس کے بارے میں بہت کچھ موجود ہے۔ لیکن آج ہم اس کا میڈیا سے ہٹ کر میڈیکل سائنس کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں۔
امریکہ کے مرکزی ادارہ برائے امراض (CDC) کے اعداد و شمار کے مطابق ایسی تمام وجوہات جو فلوکا باعث بنتی ہیں، کی وجہ سے سال (17-2016) میں 5 لاکھ۔ (18-2017) میں 8لاکھ۔ (19-2018) میں 5 لاکھ۔ اور اب (20-2019) کے فلو کے مخصوص موسم میں، جس میں کرونا وائرس کی وجہ سے بیمار مریض  بھی شامل ہیں، اب تک 5 لاکھ 25 ہزار مریض ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ نئی وبا کے منظر عام پر آنے کی وجہ سے مریضوں کی اوسط تعداد جنھیں ہسپتالوں میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے، میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنےکو نہیں ملا۔
دوسری طرف امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے(JAMA)  کی 13 مارچ 2020 کے شمارہ کے اداریے میں یہ بات درج ہے کہ اٹلی کے علاقے لمبارڈی (جو کہ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متأثر ہوا ہے) کے تمام ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ فلو کے موسم میں  %90-%85  فلو کے مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔ اس نئی بیماری سے یقینا انتہائی نگہداشت کے وارڈز پر  بوجھ ضرور پڑا ہےلیکن اس مخصوص سیزن میں وہاں مریضوں کا انتہائی نگہداشت وارڈز میں داخل ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن حقائق یہ ہیں کہ اگر  ہم اطالوی قومی ادارہ صحت (National Health Institute of Italy) کے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تویہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اٹلی میں 31 مارچ 2020 تک کل 11500 اموات رجسٹرڈ ہوئیں۔ جن میں فقط %12 یعنی 1380  اموات کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ میں موت کی وجہ کرونا وائرس لکھا گیا ہے جب کہ 10120مریض انفلوئنزہ جیسی بیماری والے گروپ میں تو ہیں لیکن ان کی موت کی وجہ کرونا وائرس نہیں ہے۔
اب ہم برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں پر جنوری 2020 میں حکومت کے قائم کردہ ماہرین کے ایک مشاورتی بورڈ (New & Emerging Virus Threat Advisory Group) کی طرف سے ایک تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ جس کے مطابق آنے والے  2 ماہ کے دوران امریکہ  میں 22 لاکھ اور برطانیہ میں 5 لاکھ اموات کرونا وائرس کی وجہ سے ہو سکتی ہیں.
اسی طرح کی ایک اور رپورٹ امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے مرکزی ادارے ( CDC) کی طرف سے بھی جاری ہوتی ہے۔ جس کے مطابق امریکہ میں 17 لاکھ اموات ہو سکتی ہیں۔
انھی رپورٹس کو بنیاد بنا کر برطانیہ نے کورونا وائرس کو انتہائی خطرناک متعدی بیماری کے زمرے میں شامل کرکے اپنے ملک کے شعبہ صحت کی ویب سائٹ پر ڈالا اور یہی چیز وجہ بنی اس شدید لاک ڈاؤن کی جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔
لیکن کچھ ماہ بعد جب امریکہ، برطانیہ، یورپ  اور دیگر ممالک کے اعدادوشمار سامنے آئے تو برطانوی حکومت نے حقیقت کو جانتے ہوئے کرونا وائرس Covid 19  کو ایک سادہ سا فلو قرار دیا اور نہایت خاموشی سےکرونا وائرس کی بیماری کو انتہائی خطرناک متعدی امراض کے زمرے سے نکال کر ایک عام فلو قرار دیا۔ اور حال ہی میں روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق غلط اعداد وشمار دینے کی پاداش میں امپیریل کالج آف لندن کے پروفیسر نیل فرگوسن کو اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونا پڑا
26 مارچ کو شعبہ طب کے ایک نامور جریدے New England Journal of Medicine  اور 27 مارچ کی The Lancet کی اشاعت میں چین میں کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہونے والے ابتدائی پانچ سو مریضوں کے ڈیٹا کا جو تجزیہ کیا گیا اس سے یہ بات سامنے آئی کہ کرونا وائرس Covid 19 اتنا خطرناک مرض نہیں جتنا  سمجھا جا رہا تھا بلکہ اس کی شرح اموات فقط %0.1 ہے۔ یعنی 1000 مریضوں میں فقط 1 مریض کے مرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم ترین معاملہ ٹیسٹ کٹ کا بھی ہے۔ اس ٹیسٹ کٹ کے موجد کیری مولس جو کہ نوبل انعام یافتہ بھی ہیں۔ ان کی ہدایات اور ٹیسٹ  کٹ بنانے والی کمپنی کے تعارفی کتابچے کے مطابق اس کا استعمال تحقیق  کےلیے ہونا چاہیے نہ کہ تشخیص کےلیے۔ اور یہ  کٹ فقط جینیاتی مادے کا بتاتی ہے جس کی وجہ سے ملتے جلتے RNA وائرسز میں غلطی کا احتمال بہر حال موجود رہتا ہے۔
امریکہ میں بیماریوں کے روک تھام کے مرکزی ادارے (CDC) نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ابتدا میں جو کٹس متعارف کروائیں وہ اس قدر ناقص تھی کہ وائٹ ہاؤس کی کوارڈینیٹر برائے کرونا وائرس ڈاکٹر بیریکس (Dr Birix) کو بھی مجبوراً کہنا پڑا کہ یہ ٹیسٹ کٹ %50 تک غلط نتیجہ دے سکتی ہیں ایسی ہی کچھ دیگر رپورٹس کی بنیاد پر فن لینڈ کی منسٹری آف ہیلتھ  نے 20 مارچ  کو  ان کٹس کے استعمال پر پابندی لگادی۔
اس کے علاوہ ان کٹس کا ایک اور مسلہ False Negative اور False Positive کا بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بیمار شخص کا نتیجہ صحت مند شخص جیسا اور ایک صحت مند شخص کا نتیجہ بیمار شخص جیسا بھی آسکتا ہے۔ اگرچہ نئی کٹس کے مطابق دوسری صورتحال کا امکان کم ہے لیکن بہر حال امکان موجود ضرور ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے (JAMA)  کی 27 فروری کی اشاعت  میں موجود ہے کہ ووہان Wuhan  میں چار مریضوں کا ٹیسٹ منفی آیا تھا اور انہیں مریضوں کا دوبارہ 13 دن بعد  ٹیسٹ انہیں کٹس پر کیا گیا جو کہ مثبت تھا۔ اسی طرح پانچ مارچ کو New England journal of Medicine میں شائع ہوا کہ امریکہ کے ابتدائی مریض کی ناک سے نمونہ لیا گیا تو نتیجہ مثبت آیا  لیکن اسی مریض کے منہ سے جب نمونہ لیا گیا تو اس کا نتیجہ منفی آگیا۔  یعنی ایک ہی مریض کے دو مختلف نتائج۔ اسی طرح کے کئی اور ٹیسٹ بھی رپورٹ ہوئے۔
برطانیہ میں ایک پرائیویٹ ادارہ Cochrane Collaboration ہے۔ جس کی وجہ شہرت یہ ہے کہ یہ ادارہ کسی بھی فارما کمپنی سے کوئی مالی امداد نہیں لیتا اور نہ ہی ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرتا ہے  جن کا تعلق کسی فارما کمپنی سے ہو یا ان کا سابقہ ملازم رہ چکا ہو۔ اس ادارہ کے موجودہ سربراہ پیٹر گوڈزے ( Peter Gotzhe)  کا ایک مضمون "کیا ہم بڑے پیمانے پرخوف کا شکار ہیں" (Are We Victims Of Mass Panic) کے عنوان سے برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) کی 6 مارچ کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں  "کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی. عجیب بیماری ہے کہ بہت سارے لوگ بغیر کسی علامت کے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف کسی 80 سال بوڑھے شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے جس کو دل کی بیماری یا اور کوئی مہلک بیماری بھی ہے۔ اب ایسے شخص کی موت کے بارے یہ رائے قائم کرنا مشکل ہے کہ اس کی موت کرونا وائرس سے ہی ہوئی ہے یا دل کے عارضے سے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ چین نے اپنے مریضوں کا ٹیسٹ ہی نہ کرایا ہوتا یا اس بیماری کا کوئی ٹیسٹ ایجاد ہی نہ ہوا ہوتا۔ تو زندگی رواں دواں رہتی۔ ٹھیک ہے کچھ اموات ہوتیں لیکن غیر محسوس طریقے سے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق انفلوئنزا کی وجہ سے سالانہ ساڑھے چھ لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ جب کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کنفرم اموات کی شرح اس کے مقابلہ میں کافی کم ہے"
اسی طرح پروفیسر مائیکل لیویٹ Prof Michael Levitt جو کہ حیاتیاتی فزکس کے ماہر اور نو بل انعام یافتہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس Covid 19 عام نزلہ زکام سے زیادہ خطرناک مرض نہیں ہے۔ اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والی اموات ہر سال فلو سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہیں۔ درحقیقت کرونا سے صرف وہی لوگ مر رہے ہیں جو پہلے ہی مختلف بیماریوں سے مرنے کے قریب تھے انہوں نے مزید کہا کہ کرونا کو عالمی وباء قرار دینا  دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے ۔
امریکہ کے ایک اور ڈاکٹر سکاٹ جینسن Dr Scott Jenson جو کہ سینیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست مینیسوٹا کی سٹیٹ میڈیکل ہیلتھ کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک انٹرویو  میں کہا کہ ایک 88  سالہ  مریض جو فلو انفیکشن  کی وجہ سے ہلاک ہوا تو منسٹری آف ہیلتھ کی طرف سے ان پر دباؤ تھا کہ اس کی موت کی وجہ کرونا وائرس Covid 19 ظاہر کریں جب کہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ ان کے ایک تازہ انٹرویو کے مطابق حکومتی اداروں اور میڈیا نے جو خوف پھیلایا ہے اس کی وجہ سے مینیسوٹا اسٹیٹ میں خودکشی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
انسانی زندگی کے بچاؤ اور بقاء  کے نام سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات پر جو لاک ڈاؤن جاری ہے۔ وہ ایک طرف تو شدید خوف و ہراس  قائم کیے ہوئے ہے اور دوسری طرف  کمزور ملکوں کے معاشی اقتصادی نظاموں کو مزید قرضوں کی معیشت میں پھنسانے کا باعث بھی بن رہا ہے۔ کیا لاک ڈاؤن ہی واحد حل ہے؟ جی نہیں! ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ اس کمزور جراثیم کے خلاف لاک ڈاؤن کے علاوہ بھی حکمت عملی موجود ہے۔  جس کی مثال سویڈن اور جاپان ہیں۔انہوں نے بغیر لاک ڈاؤن کے ہی کامیابی حاصل کی۔ جاپان کا اگر ہم تجزیہ کریں تو  یہ وائرس جاپان میں 16 جنوری کو نمودار ہوا  جبکہ اٹلی میں31جنوری کو پہلا کیس سامنے آیا تھا۔جاپان نے نہ تو لاک ڈاؤن کیا اور نہ ہی خوف پھیلایا بلکہ جاپان نے کلسٹر ماڈل اپنایا۔ ابتدا میں انھوں نے کچھ ایسے لوگوں کے نمونے لیے جو کہ کسی بیمار شخص کے قریب رہ چکے تھے لیکن حیرت انگیز طور پر ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن میں وائرس پایا گیا اگر وہ کسی مریض شخص کے قریب رہے ہوں۔ اس انکشاف کو مد نظر رکھ کر انھوں نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ تمام مریضوں میں بیماری منتقل کرنے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس مفروضے کو بنیاد بنا جاپان کے شعبہ صحت نے ابتدا میں ان گروپوں کا پتا لگایا جو زیادہ بیماری پھیلانے کے مرتکب ہوئے اور ان کو آئسولیشن میں رکھا۔ جب کہ اسی کے ساتھ ساتھ عوام کو ماسک پہننے، کم ہوا دار بند جگہوں پر نہ جانے اور بہت زیادہ رش سے اجتناب کرنے کی تاکید کی۔ لیکن انڈسٹری، سکول اور کالجز اور دفاتر کو بند نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان میں آج کے دن تک کل 13000 کے لگ بھگ لوگ اس مرض کا شکار ہوئے اور کل 682 لوگوں کی اموات ہوئیں۔  اسی طرح سویڈن نے بھی بہت معمولی پابندیاں لگائیں لیکن لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ اور ہرڈ امیونٹی (Herd Immunity)  کی حکمت عملی کے ذریعے سے اس کا مقابلہ کیا۔ ہرڈ امیونٹی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایک نارمل انسان کی قوت مدافعت  اس قابل ہوتی ہے کہ وہ کسی قسم کی بیماری کا مقابلہ کرسکے۔ پھر ایسی بیماریاں جس کی وجہ سے شرح اموات کم ہوں اس میں یہ طریقہ کار زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اور جب معاشرے کی ایک مخصوص تعداد (٪60-٪70)  اس بیماری  کا شکار ہوجاتی ہے تو انسانی جسم میں اس جراثیم کے خلاف ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں کہ یا تو اس کا حملہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے یا پھر اس کی شدت اتنی کم ہوجاتی ہے کہ مزید نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہتا۔سٹاک ہوم جو کہ سویڈن کا دارالخلافہ ہے، ہرڈ ایمونٹی کے قریب ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہاں نئے مریضوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ شرح اموات میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے۔
لاک ڈاؤن سے آپ صرف بیماری کو ملتوی کر سکتے ہیں لیکن ختم نہیں کر سکتے۔ لاک ڈاؤن صرف ایک محدود مدت کے لیے فاعدہ مند تو ہوسکتا ہے کہ بیماری کو تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کرکے آپ مطلوبہ تیاری کرلیں لیکن یہ مستقل حل ہر گز نہیں ہے بلکہ زیادہ نقصان کا باعث ہے۔ لیکن سرمایہ داری نظام اور اس کی پشت پر کھڑا میڈیا ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ ہرڈ امیونٹی کو موقع دیا جائے کیوں کہ پھر وہ خوف نہیں بیچا جا سکتا جو کہ وہ بیچنا چاہتا ہے اور اس کی آڑ میں وہ دنیا کو مزید غلام بنانا چاہتا ہے
ایک قابل ذکر نکتہ یہ  بھی ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے تک دنیا بھر کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ  کے ارد گرد ہی رہتی ہے لیکن جب عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے کرونا وائرس سے متأثرہ معیشتوں کے لیے امداد کا اعلان کیا جاتا ہے تو 15مارچ تک مریضوں کی تعداد اچانک 3 لاکھ اور پھر 9 لاکھ تک پہنچ جاتی ہےاور اب بھی بدستور یہ تعداد بڑھ رہی ہے یعنی وائرس اور امداد کے نام پر قرضوں کے جال کا کوئی نہ کوئی گٹھ جوڑ ضرور ہے
اب ہمارے سامنے عالمی آلہ کار میڈیا کے بجائے سائنسی ثبوت اور ڈیٹا موجود ہے تو یہ حقیقت واضح ہوتی  ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ بن کر کرونا وائرس کو کائنات کا دشمن نمبر ایک ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے  اور اس کے خاتمے کے لیے کثیر القومی فارما کمپنیوں کو امریکہ کی چھتری تلے ایسے تیار کر رہا ہے جیسے ماضی  میں اسلحہ ساز کمپنیوں کی پشت پناہی پر امریکہ ویتنام عراق لیبیا اور شام پر کیمیائی ہتھیار رکھنے یا استعمال کرنےکے جھوٹے الزامات لگا کر حملہ آور ہوا تھا ۔ اس مرتبہ میدان اور کمپنیاں مختلف ہیں۔ کبھی اگر اسلحہ ساز کمپنیوں کی پشت پناہی پر امریکی نظام عالمی سرمایہ دار اتحادیوں کے ذریعے حملہ آور ہوتا تھا۔ تو آج اس نے کثیر القومی فارما کمپنیوں کے ذریعے مختلف میدان کا انتخاب کیا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ امریکہ کی اسلحہ کی صنعت اور ٹیکنالوجی عالمی مارکیٹ میں چیلنج ہو چکی ہے اور اس کی اجارہ داری ختم ہوچکی ہے  اب دنیا کے بہت سارے ممالک اسلحہ بناتے اور فروخت کرتے ہیں اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے جو اسلحہ ایکسپورٹ کرتا ہے۔
اب اگر ہم عالمی فارما کمپنیوں کا نظام دیکھیں تو امریکہ اور اس کے یورپین اتحادیوں کے علاوہ عالمی سطح پر ان کا کوئی خاطر خواہ مد مقابل موجود نہیں ہے اور اس کی ایک وجہ سوشلسٹ بلاک کے ممالک کااپنے ابتدائی دور  میں صحت عامہ کے شعبے کو کمرشل بنیادوں پر استوار نہ کرنا ہے۔
تاہم یہ ماضی کی بات ہے اب تو کیوبا کے علاوہ ان ممالک میں بھی صحت کا شعبہ صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے بلکہ چین ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کا بہت بڑا ایکسپورٹر ہے۔ اب ان کے ہاں بھی علاج کافی مہنگا  ہے تاہم اپنے ابتدائی مزاج کی وجہ سے ان کی کمپنیوں کا کوئی خاطر خواہ عالمی نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔
لہذا اس میدان کے انتخاب کی ایک وجہ تو یہ بھی ہےاور اس کی ابتدائی اقساط 70 کی دہائی سے عالمی سرمایہ دار فارما کمپنیوں کی طرف سے شروع ہو چکی تھیں اور 80 کی دہائی سے انہوں نے یکے بعد دیگرے تسلسل کے ساتھ ایک سیریز میدان میں اتاری۔ مثلا ایڈز , زیکا(Zica)،اینتھراکس، H1N1  وغیرہ اور اب کرونا وائرس Covid 19 . برٹش میڈیکل جنرل (BMJ) کے مطابق سوائن فلو سے عالمی فارما کمپنیوں نے 7 ارب ڈالر کمائے اور سوائن فلو کی گائیڈ لائن بھی WHO نے جاری کی تھیں اور جن 3 سائنسدانوں نے اس کی ہدایات مرتب کی تھیں ان کو (Roche) اور (GSK)  فارما نے فنڈز فراہم کیے تھے بعد ازاں ان تینوں سائنسدانوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ سوائن فلو اتنا خطرناک نہیں تھا۔ جس طرح سے اسے پیش کیا گیا تھا۔ اور اب Covid 19 کی تیاری  پچھلی دہائی سے جاری ہے۔ بل گیٹس نے 2015 میں اپنی ایک پریزنٹیشن میں ایک کروڑ انسانوں کی ہلاکت کی تنبیہ کی تھی اور پھر اس وائرس کی پروڈکشن پر گیٹس فاؤنڈیشن کے مالی تعاون سے کام شروع ہوا ۔
اکتوبر 2019 کو نیویارک میں ایونٹ (Event 201) کے نام سے سے  ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں حیاتیاتی  جنگ کا ایک نقشہ بنایا گیا اور پھر اس سے نمٹنے کی باقاعدہ ٹریننگ دی گئی اور پھر دو ماہ بعد ہی یہ وائرس مارکیٹ میں آگیا۔
اب اس لاک ڈاؤن کا فاعدہ ایک طرف جہاں عالمی فارما کمپنیاں اٹھائیں گی تو دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے بھی اس سے مستفید ہوں گے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا چکا ہے اور اس کے لیے مطلوبہ فنڈنگ بھی ہو چکی ہے ۔
اس سلسلے میں مین سٹریم میڈیا کے ذریعے خوف کو بڑی سطح پر  بیچا جا چکا ہے اور مزید بھی بیچا جارہا ہے تاکہ دنیا کی اربوں کی آبادی ویکسین کو آب حیات سمجھ کر خریدنے کے لیے بے تاب ہو جائے اور دنیا بھر کے ملکوں کے وسائل اور بجٹ میں باقاعدہ کرونا وائرس کے لیے فنڈز متعین ہو جائیں اور عالمی سطح پر ایسے قوانین متعارف کرائے جائیں کہ مختلف سروسز اور بین الاقوامی سفر کے لیے ویکسین کی شرط کو  لازمی قرار دیا جائے
اب رہا یہ سوال کہ سائنسی میڈیکل جریدوں اور ڈاکومنٹس کے حوالہ جات ، نوبل انعام یافتہ پروفیسروں کی دوٹوک رائے،جاپان اور سویڈن کی کامیابی پر مین سٹریم میڈیا میں خاموشی کیوں ہے؟ اور WHO ان حقائق پر خاموش کیوں ہے؟ تو بات یہ ہے کہ WHO اور آلہ کارمیڈیا کی ان حقائق پر خاموشی اس کے پس پشت سرمایہ پرستانہ استحصال کو بے نقاب کر رہی ہے۔
لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہر شعبہ زندگی سے سرمایہ پرستی اور سرمایہ داریت کے نظام کا خاتمہ ہو اور عالمگیر انسانی فطرت  کے فلسفہ کے تحت قومی بنیادوں پر آزاد اور مستحکم نظام تشکیل دیے جائیں تاکہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی فارما کمپنیوں اور اقوام متحدہ کی چھتری تلے قائم اس استحصالی نظام  سے نجات مل سکے جن کے ہر خوبصورت نعرے اور عمل کے پیچھے صرف سرمایہ کمانے اور استحصال کرنے کا ہی  مقصد کارفرما ہوتا ہے۔