‏کالمز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏کالمز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 29 ستمبر، 2025

بجلی کا موجد بلکہ تمام الیکٹریک اور الیکٹرانک کا ایجاد کرنے والے کے ساتھ فراڈ اور مبینہ موت کی تحقیقات نہیں ہوئے۔ سرمایہ داروں کا اس عظیم انسان کے ساتھ کی گئی دردناک داستان پیش خدمت ہے

 نیو یارک ہوٹل کی ملازمہ، ایلس موناگھن نے کمرہ نمبر 3327 میں 86 سالہ مرد کی لاش پائی! یہ مرد نیکولا ٹیسلا تھا، جسے "سب کچھ ایجاد کرنے والا" بھی کہا جاتا ہے۔




آئیے، آپ کو سب سے ذہین دماغ کی کہانی سناتے ہیں جو تاریخ نے دیکھا:


 

، سن (1856) میں ٹیسلا کروشیا میں پیدا ہوا، جہاں اس کی والدہ کا خاندان سائنسدانوں اور موجدوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی والدہ اپنی ذہانت اور مضبوط حافظے کے لیے مشہور تھی، جس نے اپنے بیٹے ٹیسلا کو یہ سب کچھ سکھایا۔ اپنی زبردست یادداشت کی بدولت، ٹیسلا نے نوجوانی میں 8 زبانیں بولنا سیکھ لیں: انگریزی، فرانسیسی، ہنگری، جرمن، چیک، اطالوی، لاطینی اور سربیائی-کروشین۔


یہ کہنا ضروری ہے کہ ٹیسلا نے آسٹریا کی گریٹس یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں پہلے سال میں اس نے ایک عام طالب علم سے دوگنا کارکردگی حاصل کی۔ اس کی یونیورسٹی کے پروفیسرز نے اس کے والد کو مطلع کیا کہ اگر اس کا بیٹا اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ تھکن کے باعث مر جائے گا۔


ٹیسلا نے ایڈیسن کمپنی میں فرانس میں ایک الیکٹریشن کے طور پر کام کیا۔ اس کی صلاحیت کی بدولت اسے امریکہ میں کمپنی کی شاخ میں منتقل کیا گیا۔ ایڈیسن نے اسے DC جنریٹرز کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کا کام دیا۔ ٹیسلا نے جواب دیا کہ وہ بجلی کو زیادہ مؤثر طریقے سے اور کم خرچ پر منتقل کر سکتا ہے۔ ایڈیسن نے اس پر یقین نہیں کیا اور اسے چیلنج کیا کہ اگر وہ ایسا کر سکے گا تو اسے 50 ہزار ڈالر دے گا، حالانکہ ٹیسلا کی ہفتہ وار تنخواہ صرف 18 ڈالر تھی۔ چند ماہ بعد، ٹیسلا نے واقعی اپنا ڈیزائن مکمل کیا لیکن ایڈیسن نے اسے ایک سینٹ بھی نہیں دیا اور کہنے لگا کہ وہ امریکی مزاح کو نہیں سمجھتا۔ اس پر ٹیسلا نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا اور جنگ کا آغاز ہوا۔


ٹیسلا نے 2 سرمایہ کاروں سے فنڈ حاصل کیا اور اپنی کمپنی قائم کی تاکہ وہ ایڈیسن کے ساتھ "کرنٹ وار" لڑ سکے۔ ایڈیسن DC کا استعمال کر رہا تھا جو طویل فاصلے پر منتقل کرنے کے لیے مہنگا تھا، جبکہ ٹیسلا AC کا استعمال کر رہا تھا جو زیادہ مؤثر اور کم خرچ تھا۔ ایڈیسن کے پاس ٹیسلا کے AC کو عوام میں خطرناک اور مہلک ثابت کرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا، لیکن یہ کوشش ناکام ہوگئی اور AC دنیا بھر میں سب سے زیادہ تسلیم شدہ کرنٹ بن گیا۔ آج آپ کے گھر میں جو کرنٹ آتا ہے، وہ ٹیسلا کا AC ہے۔


ٹیسلا کے اپنے کمپنی میں پہلا پیٹنٹ الیکٹریکل ڈائنامو انجن کے لیے درج کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ پیٹنٹ کمپنی کے نام پر درج کر دیا گیا اور سرمایہ کاروں نے اسے کمپنی سے نکال دیا، جس سے اس نے پیٹنٹس پر کنٹرول کھو دیا۔


اس دوران، ٹیسلا نے ٹیسلا کوائل ایجاد کیا، جو وائرلیس ٹیکنالوجی کی بنیاد تھی جو آج بھی ریڈیو میں استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ ٹیسلا پیٹنٹ رجسٹر کرنے اور صرف اپنے خیالات کو اپنے دماغ میں رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، اٹلی کے انجینئر مارکونی نے ریڈیو کا پیٹنٹ اپنے نام پر رجسٹر کیا اور اس ایجاد پر نوبل انعام جیتا۔ لیکن، حقیقت میں ریڈیو کی بنیاد ٹیسلا کے 18 پیٹنٹس پر تھی، جن کا کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔


1895 میں، ٹیسلا نے ایک ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ ڈیزائن کیا جو ایک سال بعد نیو یارک کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوا۔ اس نے پہلی وائرلیس ریموٹ کنٹرول کشتی بھی ایجاد کی جو اس وقت ایک سائنسی ترقی تھی۔ ٹیسلا نے اس وقت ایک عجیب وائرلیس آلہ پر پیغامات وصول کیے جنہیں دوسرے سیاروں پر بسنے والے مخلوق کے پیغامات سمجھا گیا۔ لیکن ایک صدی سے زیادہ بعد، ہم نے سیکھا کہ وہ پیغامات بلیک ہولز سے گزرنے والی گریویٹیشنل لہریں تھیں۔


ٹیسلا کی سب سے بڑی دلچسپی اس وقت یہ تھی کہ وہ بجلی کو ہوا کے ذریعے دنیا بھر میں مفت منتقل کر سکے۔ اس نے نیو یارک میں وارڈن کلف ٹاور کی تعمیر کے لیے کچھ سرمایہ کاروں سے فنڈ حاصل کیا، تاکہ اپنے سب سے بڑے پروجیکٹ یعنی وائرلیس انرجی ٹرانسفر پر عمل درآمد کر سکے، لیکن ٹاور کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے، سرمایہ کاروں نے دیکھا کہ یہ پروجیکٹ غیر مؤثر ہے اور فنڈنگ ختم کر دی۔ 1917 میں اسے منہدم کر دیا گیا اور ٹیسلا نے دیوالیہ پن کا اعلان کیا۔


آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ جب آئن اسٹائن سے پوچھا گیا: دنیا کے سب سے ہوش مند آدمی ہونے کا کیا احساس ہے؟ تو آئن اسٹائن نے کہا، نیکولا ٹیسلا سے پوچھو۔


ٹیسلا کو دنیا کی طرف سے اس کی موت کے بعد کئی سالوں تک سراہا نہیں گیا، اور یہ ایک بہت ہی افسوسناک بات ہے جس کا ہر ایک ہم سب پر قرض ہے۔ ٹیسلا ایک عظیم آدمی تھا جس نے خود کو سائنس کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے شادی نہیں کی اور نہ ہی کوئی اولاد چھوڑی، اور 3327 نمبر کے کمرے میں اکیلا مر گیا، جس کا نمبر اس کی زندگی بھر کی پسندیدہ تعداد 3 کو ظاہر کرتا ہے۔


آخر کار، ٹیسلا ایک عظیم آدمی تھا جس کی ذہانت کی کوئی حد نہیں ہے، اگر وہ نہ ہوتا تو ہم دور دراز جگہوں پر بجلی نہ پہنچا سکتے، نہ ہی ریڈار، موبائل، ریڈیو یا انٹرنیٹ کا استعمال کر پاتے۔

اس عظیم الیکٹریشین کو سلام!

پیر، 12 اپریل، 2021

لوگوں کو صرف کورونا سے نہیں، بیروزگاری سے بھی بچانا ہوگایہ کہنا ہے ملک کے وزیراعظم عمران خان نیازی کا ان کاکہنا تھا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے ترقی پذیر ملکوں کو زیادہ نقصان پہنچا، لوگوں کو صرف کورونا سے نہیں بلکہ بے روزگاری سے بھی بچانا ہے

یوسف علی نگر صحافی


تبصرہ و تحریر ; یوسف علی نگری



 لوگوں کو صرف کورونا سے نہیں، بیروزگاری سے بھی بچانا ہوگایہ کہنا ہے ملک کے وزیراعظم عمران خان نیازی کا 

ان کاکہنا تھا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے ترقی پذیر ملکوں کو زیادہ نقصان پہنچا، لوگوں کو صرف کورونا سے نہیں بلکہ بے روزگاری سے بھی بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار اور کروڑوں مقروض ہو گئے۔


 دنیا کے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ ڈی ایٹ فورم کو ثقافت، تعلیم اور زرعی شعبہ کے فروغ کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈی ایٹ پچھلے 4 سال سے موثر انداز میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو نئے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہوئے تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سکھانا ہوگا۔ 


انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے حوالہ سے ڈی ایٹ اور ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ڈی ایٹ فورم کو موثر انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس فورم کو ثقافت، تعلیم اور زراعت کے شعبہ کے فروغ کیلئے استعمال کرنا ہوگا۔ ڈی ایٹ تحفظ خوراک اورکھیلوں کے شعبہ میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 


انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ رکن ملکوں کو مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے بنانے چاہیں۔عمرانی.حکومت کو صرف اعلانات اور زبانی دعوں سے کام.نہیں چلانا چاہئے بلکہ عملی اقدامات کر کے غریبوں کوجینے کا حق دینا چاہئے رمضان المبارک میں غریبوں کے چولہے ٹھنڈے نہیں ہونی چاہئے جس کے لئے حکومت سنجیدگی سے غریبوں کے لئے خصوصی پیکج دے اور دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے لوگوں کی مدد کرے.


زبانی کلامی دعووں اور نعروں سے اب کام نہیں چلے گا .تین سال کا عرصہ.گزرنے کو ہے مہنگائی اپنے عروج کو ہے بے روزگاری عام اورشہریوں کا جینا دوبھر ہو چکا آئے روز  غربت سے تنگ آکر خودکشیاں اور عمارتوں سے چھلانگین لگا کے زندگیاں ختم کرنے کی خبریں زبان زد عام ہورہی ہیں .ایسے میں عمران خان حکومت سنجیدگی سے کام لے اور عام آدمی تک سبسڈیز پہنچانے میں کردار ادا کرے .بصورت دیگر غریبوں کی آہ ساتویں آسمان تک بھی پہنچ سکتا ہے .جو بڑا موثر ہتھیار ہ .

دوسری جانب 

  جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ذرائع کے  مطابق جہانگیر ترین کے جہاز پر یوسف رضا گیلانی کے سفر کے حوالے سے جہانگیر ترین کے قریبی ذرائع نے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہانگیر ترین اور مخدوم احمد محمود کے الگ الگ جہاز ہیں ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ پوری ایمانداری اور خلوص سے وزیر اعظم کا ساتھ دیا، مخدوم احمد محمود کا جہاز یوسف رضا گیلانی نے استعمال کیا تو میرا کیا قصور ہے، 

حکومت کو میرے جہاز کے بارے میں غلط رپورٹ دی گئی اور اس سارے معاملے کے پیچھے اعظم خان، شہزاد اکبر ہیں، وزیر اعظم کو نقصان پہنچانے کا تصور ہی نہیں کرسکتا، میرا دامن صاف ہے۔اس حوالے سے عمران خان کے ان دومشیروں کی چالاکی و ترین کی قربتوں کو.کم.کرنے کی کوشش لگتا ہے .اب عمران خان کوخوددیکھنا پڑےگا کہ حکومتی کشتی میں سوار کون لوگ ہیں جو بیج سمندر میں جاکے کشتی میں سوراخ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ایک دوسروں کونیچے دکھانے کے چکر میں کہیں کشتی کو ڈبو تو نہیں رہے ہیں ۔

اب کشتی کے کپتان کوسنجیدگی سے دیکھنا ہوگا.حکومتی کشتی ساحل کی جانب رواں دواں ہے .اس سفر کو کہیں کشتی ران خود ڈسٹرب تو نہیں کررہےہیں.


جبکہ وفاقی وزیر امورکشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیاسی سنجیدگی سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے عمل کو یقینی بنائینگے .اسلام.آباد میں  گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کا پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے   انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی سے اس صوبہ بنانے کی متفقہ قرارداد لاکھوں عوام کی آواز ہے جسے عملی شکل دینے میں ہم بھرپور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں  اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان  بیرسٹرخالد خورشید، وفاقی سیکرٹری اُمور کشمیر کے علاوہ وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہم حکام بھی شریک تھے۔

آزادی اور سزا و جزا کا قانون ۔ معاشرے کی تشکیل کے بنیادی اصول د نیا اسلام اور دیگر مذاہب میں آزادی کی تعریف

 اس موقعے پر وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عبوری صوبے کے قیام کے حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی کی متفقہ قرارداد یہاں کے عوام کی امنگوں کی عکاس اور حکومت اس وعدے کی تکمیل کو یقینی بنا رہی ہے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کی حیثیت دینے کے حوالے سے مختلف ماڈلز پر بھی  غور خوذکیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے قومی مفادات، عوام کی امنگوں اور سیاسی اتفاق رائے کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قومی نوعیت کے اس اہم ایشو پر جلد از جلد پیشرفت کو ممکن بنانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے-وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جس اعتماد کا اظہار تحریک انصاف کی حکومت پر کیا ہے، وفاقی حکومت اس اعتماد پر پورا اترنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

اس حوالے سے بھی بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے بعض لوگ بے جا تنقید و تبصرے کرتے ہیں کہ صوبہ بن نہیں سکتا ہے یہ اعلانات محض لولی پاپ و افسانوں کے سوا کچھ نہیں ہے .ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی گلگت بلتستان نے ماضی میں  ترقی نہیں کر سکا ہے .عمران خان کی حکومت اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو آنے والی نسلیں انہیں یاد رکھینگی اور موجودہعوام انہیں سرخ سلام پیش کرے گی گلگت بلتستان اسمبلی کے قائد حزب اختلاف امجد حسین ایڈوکیٹ نے اسمبلی میں صحیح کہا ہے کہ صوبہ مخالف پارٹیوں یا لوگوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے .گلگت بلتستان کو صوبہ بننے کے بعد نہ صرف لوگ خوشی کا اظہار کرینگے بلکہ دیگر صوبوں کی نسبت جو ہماری عوام میں احساس محرومی پائی جاتی اس کا خاتمہ ہوگا .جبکہ اقتصادی راہ داری منصوبے میں حائل رکاوٹیں بھی ختم ہوجائینگے اور نتیجے میں اس بابت اربوں ڈالر کے منصوبے گلگت بلتستان میں لگ جائینگے ہر طرف خوشحالی آئے گی اور ہمارا ازلی دشمن بھارت کی چالاکیوں کا خاتمہ ہوگا اور ہمسایہ ملک چین کا دیرینہ مطالبہ کہ گلگت بلتستان کو آئینی دائرے میں لایا جائے بھی پورا ہوگا.اور یہاں کی بائیس لاکھ عوام عمران خان حکومت کو دعائیں دیتے رہینگے .

اللہ! کرے جلد سے جلد گلگت بلتستان ملک کا پانچواں صوبہ بنے .آمین

ہفتہ، 28 نومبر، 2020

دختر دیامر ۔ ثریا زمان ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے علاؤہ عربی۔ انگریزی ۔فرانسیسی ۔ ودیگر تین زبانوں میں عبور رکھتی ہے

 

دختر دیامر ۔ ثریا زمان ممبر گلگت بلتستان  قانون ساز اسمبلی اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے علاؤہ  عربی۔ انگریزی ۔فرانسیسی ۔ ودیگر تین زبانوں میں عبور رکھتی ہے ۔ ضلع دیامر کی زرخیز زمین کے لوگ جہنوں نے تعلیم کو اپنا راستہ بنایا انتہائی ذہین اور اپنے کو منوایا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ پہلے گلگت بلتستان کے پی ایچ ڈی سلیم صاحب داریل کے باسی ہیں ۔  دیامر کے قبائلی طرزِ معاشرہ میں خواتین کی تعلیم پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ڈاکٹر محمد زمان صاحب جو خود بھی ڈاکٹر ہیں اور کہی سالوں سے سعودی عرب میں پیشہ ڈاکٹر ی سے منسلک رہے ہیں


 اپنے بچوں بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں اپنا حقیقی کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج دختر دیامر داریل محترمہ ثریا زمان سب کے لیے قابل تقلید عملی مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔ ثریا زمان کی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ان کی قابلیت کردار کا بین ثبوت ہیں ۔ اگر جناب وزیراعظم پاکستان تھوڑی توجہ فرمائیں تو ثریا زمان کو وزیراعلی گلگت بلتستان نامزد کریں ۔ ایک خاتون وزیر اعلیٰ وہ بھی دیامر سے اور پورے گلگت بلتستان کے لیے اعلی مثال بن جاے گی ۔


 اور پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے لیے بھی اعزاز ہو گا ۔ بہرحال میری یہ تجویز ہے۔۔۔۔۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ محترمہ ثریا زمان کو وزارت تعلیم کا قلمدان دیا جاے تاکہ تعلیمی ادارے معیاری تعلیم سے بچوں بچیوں کو آراستہ کر سکیں ۔۔۔۔

جناب ڈاکٹر محمد زمان خود معروف سماجی وسیاسی شخصیت ہیں جو تحریک انصاف کے منشور پر پوری طرح کاربند ہیں اور دیامر گلگت بلتستان کے دوسرے عمران خان ہیں ۔ انہیں گلگت بلتستان حکومت کا حصہ بنایا جاے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

سرتاج خان صدر دیامر پریس کلب دیامر چلاس ۔۔۔۔۔



ثریا زمان ممبر جی بی آے 

جمعرات، 26 نومبر، 2020

اثریا زمان جی بی اسسمبلی میں خواتین کے مخصوص نشست کیلئے منتخب ہو کر کل باقاعدہ گلگت بلتستان کے صوبائی اسسمبلی میں حلف اٹھایا

ثریا زمان جی بی آے کی کم عمر ممبر جس کا تعلق دیامر سے ہے 

 

#ثریا_زمان_ضلع_دیامر_کیلئے_مثال_بن_گئی

#تحریر_عیسیٰ_خان_دانش 

گلگت بلتستان ضلع دیامر کا نواحی اور پسماندہ علاقہ وادی داریل سے تعلق رکھنے والے عظیم شخصیت ، نرم مزاج ، شائستہ زبان کا مالک ، رحم دل ، غریبوں کا مسیحا ، علم دوست اور معروف ڈاکٹر محمّد زمان کی بیٹی ثریا زمان گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد جی ۔  بی اسسمبلی میں خواتین کے مخصوص نشست ۔۔۔ جاری ہے

لباس گھر پر تشریف لاٸیے ایمپرس مارکیٹ ہسپتال روڈ علی آباد ہنزہ

کیلئے منتخب ہو کر کل باقاعدہ گلگت بلتستان کے صوبائی اسسمبلی میں حلف اٹھایا اور جی بی کے تاریخ میں کم عمر ترین ممبر ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی 

حلف اٹھانے کے بعد ثریا زمان نے اپنے والد محترم جناب ڈاکٹر محمّد زمان صاحب کے ہمراہ جی بی اسسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع دیامر کے اندر تعلیم کی شرح بہت کم ہے فیمیل ایجوکیشن انتہائی کم ہے شرح خواندگی صفر ہے اسلئے میں فیمیل ایجوکیشن کے بہتری کیلئے دن رات کوشش اور محنت  کرونگی اور انشاء اللہ ضلع دیامر بلخصوص وادی داریل کے تمام محرومیوں  کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرونگی


ثریا زمان کے بعد ڈاکٹر زمان صاحب نے بھی میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہے کہ میری بیٹی نے اس عزم ، ہمت اور حوصلے کے ساتھ حلف اٹھایا ہے کہ وہ گلگت بلتستان بلخصوص ضلع دیامر کا نام بھی روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی

یاد رہے کہ اس سے پہلے ضلع دیامر کے عوام اپنی بیٹیوں کو پڑھانا لکھانا یعنی تعلیم دینا معیوب سمجھتے تھے اسلئے گلگت بلتستان میں دوسرے اضلاع کے نسبت ضلع دیامر واحد ضلع ہے جہاں فیمیل ایجوکیشن صفر ہے 

لیکن کل ثریا زمان نے گلگت بلتستان کے صوبائی اسسمبلی میں حلف اٹھا کر ان لوگوں کے منہ میں تمانچہ مارا ہے جو کہتے تھے کہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو پڑھانا لکھانا نہیں ہے

 ثریا زمان نے ثابت کر دیا کہ ایک پڑھی لکھی لڑکی کی معاشرے میں کیا اہمیت ہے اور ایک پڑھی لکھی لڑکی معاشرے کے بہتری ، فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کیلئے کیا کردار ادا کر سکتی ہے یاد رہے کہ ثریا زمان نے انگلش میں ماسٹر کیا ہے اور کافی وقت اپنے والد محترم جناب ڈاکٹر زمان صاحب کے ہمراہ سعودیہ عرب میں بھی گزارا ہے

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم عورت کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اسلام انھیں دینے کا حکم دیتا ہے لیکن یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ کل تک ضلع دیامر میں جو لوگ فیمیل ایجوکیشن کے مخالفت کر رہے تھے وہی لوگ کل ثریا زمان کے حلف اٹھانے کے بعد سوشل میڈیا پر فیمیل ایجوکیشن کے حق میں پوسٹ کی بھرمار کر رہے تھے 

یہ ہمارا دوہرا معیار ہے ہمیں اس کو ختم کرنے کی اشد اور وقت کی ضرورت ہے اور اپنی سوچ بدلنا ہوگا اسلام ہمیں عورتوں کے بارے میں جو حکم دیتا ہے اس پر عمل کرنا ہوگا 

اللہ تعالٰی کے آخری رسول اور پیغمبر حضرت محمّدؐ کا ایک حدیث ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے تو پھر ہم ان کو تعلیم جیسے عظیم زیور سے کیسے محروم رکھ سکتے ہیں

وادی داریل سے ثریا زمان کا گلگت بلتستان اسسمبلی تک پہنچنا یقیناً ضلع دیامر بلضصوص وادی داریل کیلئے فخر اور اعزاز کی بات ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کے لوگ ضلع دیامر کے باسیوں کو طرح طرح کے القابات سے پکارتے تھے مثلاً یہاں کے لوگ انپڑھ ، جاہل اور دہشدگرد ہیں لیکن کل ضلع دیامر کے غیور عوام کی بیٹی  ثریا زمان کے اسسمبلی میں حلف لینے اور ایک کم عمر ترین لڑکی کے اعزاز بھی حاصل کرنے پر ضلع دیامر کو برے یادوں میں یاد کرنے والے یقیناً ورطیہ حیرت  میں ہونگے

میرے خیال میں ڈاکٹر زمان کی بیٹی ثریا زمان کی انتہائی کم عمر میں یہ کامیابی ان لوگوں کے زہنوں کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم جیسے عظیم زیور سے آراستہ کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں یہ آج ضلع دیامر کے لوگوں کو سوچنے کا مقام ہے کہ آج اگر ضلع دیامر میں فیمیل ایجوکیشن کی شرح خواندگی زیادہ ہوتی تو آج سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے میں گلگت بلتستان بلضصوص ضلع دیامر کی لڑکیاں اپنا لوہا منوا لیتی لیکن بدقسمتی ہے کہ عرصہ دراز سے انھیں ان کا تعلیم جیسا بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے

اہل علم کا خیال ہے کہ ڈاکٹر زمان صاحب کی بیٹی ثریا  زمان کی کامیابی کے بعد انشااللہ ضلع دیامر کے لوگ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے میں اہم کردار ادا كرینگے

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثریا زمان ضلع دیامر میں تعلیم دوست پالیسی لیکر آئے گی جس سے ہر کوئی تعلیم کی زیور سے آراستہ ہوگا 

امید ہے کہ انشاءاللہ  ثریا زمان اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ضلع دیامر کے اندر فیمیل ایجوکیشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی 

بلا شبہ ڈاکٹر زمان صاحب کی پاکستان تحریک انصاف کیلئے ناقابل فراموش اور بےپناہ قربانیاں ہیں جس کا اعتراف وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں لیکن آخر کار تحریک انصاف کے قیادت نے ڈاکٹر زمان صاحب کے قربانیوں اور ضلع دیامر بلخصوص وادی داریل کے محرومیوں کو مد نذر رکھتے ہوئے ڈاکٹر زمان صاحب سے مشاورت کے بعد ان کی بیٹی کو خواتین کے مخصوص نشست کیلئے منتخب کر دیا جس سے یقیناً ڈاکٹر زمان صاحب کے بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے 

آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالٰی ثریا زمان کو اپنے نیک مقاصد میں کامیاب کرے تاکہ یہ ضلع دیامر کے تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے اور میں ڈاکٹر زمان صاحب اور اس کی پوری فیملی سمیت اس کی بیٹی ثریا زمان کو بھی شاندار کامیابی پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔۔۔!

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

بدھ، 25 نومبر، 2020

گلگت بلتستان میں کشیدگی دشمن ملک خوش ۔حالیہ انتخابات میں حلقہ 2 میں پی پی کے جمیل احمدکو شکشت کے بعد فسادات نے پی پی کو ایک غدار پارٹی کے صف میں کھڑا کیا ہے

 

 سید اسد اللہ غازی صحافی کالم نگار 


تحریر سید اسد اللہ غازی 

گلگت بلتستان میں کشیدگی دشمن ملک خوش 

غازی کے قلم سے 

“کیا یہ ہے سیاست” 

گلگت ۔ سیاسی  اختلاف اور پر امن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے ۔ مگر اس کی آڑ میں شدت پسندی اور دیشتگری ریاست کو کھوکھلا کرتا ہے ۔ حالیہ انتخابات میں حلقہ 2 میں پی پی کے جمیل احمدکو شکشت کے بعد فسادات نے پی پی کو ایک غدار پارٹی کے صف میں کھڑا کیا ہے ۔

 ہو سکتا ہے جمیل احمد کے ساتھ نا انصافی ہوا ہوگا ۔ مگر اس کے بدلے دہشتگردی اور گلگت بلتستان کے امن کو خطرے میں ڈالا گیا میرا چھوٹا بھاٸی عبید اللہ پولیس میں ہیں وہ گلگت میں الیکشن ڈیوٹی پر معمور تھے ۔ انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا سوشل میڈیا میں گلگت کو جلتے ویڈیوز اور تصاویر سے حالات کے کشیدگی کا علم تھا ۔ صحافی برادری سے رابطے ہونے کی وجہ تماشائی  احوال سے آگاہ تھا مگر اس طرح منظم کارواٸی اور ملک دشمن اقدامات کا سوچا بھی نہیں تھا ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ اور آٸی ایس پی آر کے ڈی جے پہلے ہی عوام کو اس وبا کے بارے میں کہہ چکے تھے ۔ فیفتھ جرنیشن وار اور سی پیک کو روکنے کے لیے ہندوستان کی فنڈ ینگ  سے متعلق سکورٹی ایجنسیوں کے رپورٹ سے بھی باخبر تھا ۔  وہ بار بار گلگت بلتستان میں ہندوستانی فنڈینگ اور را کے الہ کاروں کا زکریا کرتے تو میں اس کو بکواس سمجھتا تھا میرے خیال سارے میری طرح محب وطن ہیں میں سمجھ رہا تھا کہ چند  پاکستانی سیاستدانوں اور چند بیروکریسٹس کا ہمارے ساتھ کا نارواسلوک سے ناراض ہونگے۔ جی بی میں کوٸی اینٹی پاکستانی نہیں ۔ مگر حالیہ واقع نے میری سوچ کو غلط ثابت کیا ۔

را کے ہاتھوں اسطرح کا کھیل کھیلنگے سوچا بھی نہیں تھا ۔ 

امجد ایڈوکیٹ صدر پاکستان پیلپلز پارٹی مشہور قانون دان ایسا غلطی کرینگے ۔ کون سوچ سکتا تھا ۔ گزشتہ روز انہوں نے جلاو گیراو کے بعد پر امن احتجاج کی کال دی ۔ اگر وہ یہو  سب کچھ ہونے سے پہلے پر امن احتجاج کرتے تو یقینا عوام میں وہ اور اسکی پارٹی بہت زیادہ مقبول ہوتے ۔ ویسے بھی علی امین گنڈا پور اپنی زبان کی وجہ سے یہاں نا پسندیدہ افراد میں شامل ہوچکے تھے ۔ اب میرا چھوڈا بھاٸی جو پولیس میں اس نے اپنے اوپرو ہونے والا قاتلانہ حملے کا احوال کچھ یوں بتایا ۔


سپاہی عبیداللہ ہنزہ سے حلقہ تین میں ڈیوٹی دینے گیے ہوٸے تھے ۔ وہ سی پیک کے پیک اپ کی انجن آٸل تبدیل کرنے خزانہ روڈ نغرل گلگت گٸے ۔ ایک ورکشاپ سے آٸل تبدیل کر کے روڈ پر نکلے تھے رینجرز چوکی سے سٹی پارک کی طرف گاڑی کو موڈا ہی تھا۔ دہشتگرد چہروں پر نقاب اوڈ کر گاڑی پر حملہ آور ہوٸے اس پر پتھراو کیا شیشے ٹوٹے گاڑی پر دہشتگر چھڑتے ہی اس نے گاڑی کو رانگ ساٸٹ سے بگایا ٹریفیک جام تھی مگر کمال مہارت سے وہ دہشتگردوں سے گاڑی اور اپنی جان کو پچانے میں کامیاب ہوا۔


 اس دن کٸی سرکاری گاڑیوں کو نظر آتش کیا گیا ۔ کیا یہ محب وطن ہیں یا را کے فنڈ سے علاقے میں شر پسندیدی کو فروغ دے رہے ہیں ۔ اس علاقے میں سی س

۔

لباس گھر (مینٹر کولیکشن تھری پیس )ہسپتال ایمپریس مارکیٹ  روڈ علی آباد ہنزہ

ی ٹی وی کیمرے بھی نصف ہیں آٸی جی پی کو بغیر کسی سیاسی دبا و میں آٸے ہوٸے ان کوٕ خلاف سخت قانونی عمل میں لالنی چاہیے ۔


ہو سکتا ہے ان کا تعلق پی پی پی سے نا ہو کشیدہ صورت حال سے فاٸدہ اٹھا کر ملک دشمن کیا خوشنودی کے لیے یہ سب کیا ہو ۔گزشتہ روز ہنزہ میں بھی پی پی نے پر امن 

احتجاج کیا تھا ۔ 



پی پی ہنزہ کے زمہ داروں نے سڑک پر ڈاٸر جلانے نہیں دیا کہا کہ اس سے ماحولياتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ شاہراہ قراقرم کو کچھ دیر کے لیے بند کیا مگر عوام سے ان تکلیف پر معافی مانگتے رہے ۔ 

احتجاج یہ تھا مگر پر امن اور باقصد اسطرح کے احتجاج سے سرکار پر دباو بڑھتا ہے ۔

جس احتجاج میں شدت پسندیدی ہو حکومت اس میں ان کے خلاف قانونی کا رواٸی عمل میں لاتی ہے اور اصل مدعا کہیں کھو جا تا ہے ۔

ہنزہ میں متاثریں کو اہلکاروں کی جانب سے اندھا دھن فاٸرنگ سے دو افراد جان بحق ہوٸے اس کے ردعمل میں کچھ افراد نے سرکاری املاک کو جلایا تو ان کو پچاس سے اسی سال تک سزا دی گٸی۔

 مگر گلگت میں کیوں خاموشی۔ رہا الیکشن میں دھاندلی ہوا ہے امجد ایڈوکیٹ ایک ماہر قانون ہیں اپنا کیس وہاں پیش کریں اسطرح شہر میں فسادات کسی کے حق میں بہتر نہیں جمیل احمد نے گزشتہ پانچ سالوں میں بہتریں اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا اس لیے عوام نے اس کو اچھا مینڈیٹ دیا تھا وہ قانونی راستہ اپناتے تو عوام میں اور زیادہ مقبول ہوتے مگر افسوس اس کو بھی ضایع کیا ۔



لباس گھر (مینٹر کولیکشن تھری پیس )ہسپتال ایمپریس مارکیٹ  روڈ علی آباد ہنزہ

منگل، 10 نومبر، 2020

الیکشن 2020 حلقہ 6 سے ۔ کچھ توڈ جوڈ میں مصروف ہیں ۔ تو پروپیکنڈہ کرنے میں ماہرانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔تو کچھ مال سمٹنے کی چکر میں مگن ہیں گو کہ موسم سرما کا ہے اود سیاسی ماحو ل خوب گرما ہے۔ ایسے میں کچھ آزاد امیدوار بھی ہیں ان کی جیت کے دور دور تک امکانات نہیں

 

سید اسد اللہ غازی , کالم نگار , چیف ایڈیٹر ہنزہ ٹی وی 

 گلگت بلتستان الیکشن  2020 

حلقہ 6  ہنزہ کا سیاسی پس منظر 

تحریر ۔سید اسد اللہ غازی

غازی کے قلم سے 

گو کہ ہر امیدوار اپنے انداز میں کمپین کرتا ہے وہ ہر فرد کو اپنی طرف ماٸل کرنے کی برپور کوش کرتا ہے او ر اس کے سپورٹر بھی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔کچھ سیاسی سپورٹر ایسے بھی ہیں جو دن کو ایک امیدوار کے ساتھ پیش پیش ہوتے تو رات کی تاریکی میں کسی اور کے لیے کمپین کرتے ہیں کچھ ادھر کی بات اُدھر تو کچھ اُدھر کی ادھر کرتے ہیں تو کسی امیدوار کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کے ووٹ بنک


خراب کرتےہیں ۔ 

کچھ توڈ جوڈ میں مصروف ہیں ۔ تو پروپیکنڈہ کرنے میں ماہرانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔تو کچھ مال سمٹنے کی چکر میں مگن ہیں گو کہ  موسم سرما کا ہے اود سیاسی ماحو ل خوب  گرما ہے۔ ایسے میں کچھ  آزاد امیدوار بھی ہیں ان کی جیت کے دور دور تک امکانات نہیں مگر وہ کسی امیدوار کے ووٹ کاٹے کا کام سر انجام دے رہے ہیں ۔ میں ایک واقعہ کے پہلے ذکر کرونگا جو میر ےسامنے رونما ہوا ۔

 دو دن پہلے علی آباد میں شیر غازی آزاد امیدوار حلقہ 6کے کمپین آفس میں بٹھا ہوا تھا ۔ ایکس یو سی چیر میں دینا ر خان اور ایکس سب ڈیوزن صدر پی پی امام داد وہاں آٸیے وہاں شیر غازی موجود نہیں تھے ان کے بڑے بھاٸی موجود تھے ایک ٹیبل پر وہ براجماں ہوٸیے ۔وہاں سیاسی گفتوشنید کر لیے الگ الگ ٹبلز لگے ہوٸیے ہیں ۔میں بھی وہا ں جا بیٹھا ۔ دونوں صاحباں نے اپنے خدمات گنوانے شروع کیے ۔ اتنے میں ان دونوں کا تکرار بڑھتا گیا ۔ 

میں لطف اٹھا رہا تھا ۔ ایک کی بات ایک کٹتا تو دونوں کا پارہ ہاٸی ہو تا جا رہاتھا ۔ میں نے کیمرہ آن کرکے ان دونوں سے ریکارڈینگ کی اجازت مانگا ۔ بغیر اجازت کسی کی سیاسی گفتگو میڈیا ایتھیک کے خلاف ہے گو کہ بغیر پشگی اعطلاع کے ریکارڈنگ کافی دلچسپ بنتی ہے مگر میرا پیشہ اسکی اجازت نہیں دیتا ہے 

باہرحال ریکارڈنگ شروع کیا تو دونوں نے ایک دوسرے کے تعریفوں کے پل باندھ لیے اور دنوں نے ہی پی پی کی خوب براٸی کی حالانکہ دونوں کا سابقہ ریکارڈ اس پارٹی کے پیدوار بتا تا ہے ۔ اس ویڈیو کو میں نے ہنزہ ٹی وی کے یوب ٹیوب پر کہا ہے لنک   

https://youtu.be/LdYcdUV790s

 

کیمرہ آف کرنے کے بعد وہاں آنے کا مقصد کچھ یو ں پوچھا میں نے " کیا آپ دونوں شیر غازی کی ہمایت کے لیے یہاں آٸیے ہیں تو دینا خان نے بتایا کہ میں ہر ایک کو خوش کرتا ہوں آج کل اپنی اولاد ووٹ ہمارے کہنےپر نہیں دیتے ہماری ہمایت سے کیا ہوگا ۔

 میر ے ساتھ میر ے بچوں نے سیاست کیا میر ے نومینٹر کو اکسا کر آر او کے سامنے اپنے شناختی کارڈ ز کے کمشدگی کا بہانہ بنا کر پیش نہیں ہوٸیے میرے کاغذاد مسترد کرایا تو میں نے ہنزہ کی بیٹیوں کے لیے ہاسٹل کے لیے اپنے زمین سٹیڈیم روڈ والی وقف کا اعلان کیا اور سکردو میں بھی مسافروں کے لیے تین گسٹ ہاوسسز کے لیے زمین دینے کا اعلان کیا ۔ میری ہمایت میر غضنفر کے لیے تھا۔

 اس کو کال کر کے مشورہ لیا تو نے خاص جواب نہیں دیا کہہ کہ خو د سمجھدار ہو ویسے حکومت وقت کے ساتھ چلنا عقل مندی ہے اس لیے عبید کو ووٹ باقی کو سپوٹ دے رہا ہوں ۔ امام داد سے پوچھا تو کہنے لگا شیر غازی اور رحمت علی دونوں میرے قبلیہ خروکز ہیں میں ان دونوں کو ساتھ بٹھا کر ڈیبٹ کروانا چاہتا ہوں ۔ ان سے جو بہتر بیانیہ دیگا اس کو تما م قبیلہ کا ووٹ ملے گا ۔ تو میں نے سوال کیا کہ یہ فیصلہ کون کریگا کہ کس کا بیانیہ اچھا ہے قبیلہ خروکز کا تیسرا امیدوار سر وفی بھی تو جواب دیا کہ وفی کسی بھی قیمت پر الیکن لڑے گا اب ان دونوں میں سے کسی ایک کو بیٹھا چاہیے تاکہ ایک مضبوط ہو ۔

 اتنے میں دینار خان نے کہا کہ یہ غلط چال چل رہا ہے نور محمد کے گروپ میں ہے یہ ان دونوں کو اس کے حق میں بٹھانے کی چکر میں ہے چلاک آدمی ہے ۔ تو امام داد نے کہا بات ختم کر نے سے پہلے کیوں بیج میں ٹانگ لڑاتے ہو تمہاری یہ بری عادت ہے تو دینار خان نے کہا تمہاری فطرت سے میں خوب واقیف ہو ں  ۔ اتنے میں شیر غازی آیا ملاقات کی امام داد نے گلہ شکوہ کیا ۔

 شیر غازی کو کسی نے کارنر میٹینگ کے لیے کال کیا جانے کے لیےتیا ر ہوا تو میں نے امام داد کے بارے میں بتایا کہ آپ اود رحمت کے درمیاں قبیلے میں ڈیبیٹ کرنا چاہتا ہے اور جس کا بیانیہ بہتر ہوگا اس کے حق میں دوسرا بیٹھے گا ۔ تو شیر غازی نے کہا میں تیا رہوں امام داد نے کہا کہ رحمت بھی تیا ر ہے ۔ وہاں سے نشت برخاست ہوا مجھے کریم آباد جانا تھا شیر غازی بھی وہی جا رہے تھے ساتھ گاڑی میں ہم دونوں چلے ۔ راستے میں شیر غازی نے بتا یا کہ کچھ دن پہلے نور محمد صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا ان کے ساتھ اور بھی پندہ افراد تھے ایک ہوٹل میں بیٹھک ہوٸی ۔ 

وہ مجھے اپنے حق میں دستبردار کروانا چاہتے تھے ۔ وہ مجھے قاٸل نہیں کر سکے میں نے بھی اپنا بنا نیہ ان کے سامنے رکھا تو وہ بے بس ہوٸیے اور ریکوسٹ کی ہمارے اس پراٸیوٹ گفتگو کو میڈیا کی زینت مت بنا نا میں نے اعلی ظرف کا مظاہر ہ کیا مگر انہوں نے خود ہی اس بات کوسوشل میڈیا میں لایا رہا امام داد ان کے گروپ کا حصہ ہے

 اس کی سیاست کو میں سمجھ گیا ہو ں مگر اس کا سیاسی حق ہے وہ قبیلہ خروکز کو جمع کریں اس کا بر پور فاٸدہ اٹھا ونگا میں اپنا منشور پیش کرکے ان کو اپنے حق میں کرونگا ۔ گزشتہ روز شیر غازی کے کمپین آفس میں ڈیبیٹ ہوا امام داد کا سیاسی چال سب پر واضح ہوا دونوں نے اپنے اپنے منشور سے الیکشن میں خود اپنے جوہر دیکھانے کا عزم ظاہر کیا۔ نور محمد کے فیس بک پیج پی ٹی آٸی ہنزہ پر ایک پوسٹ دیا تھا کہ کل ایک گروپ ہمارے ساتھ ضم ہوگا ۔ وہ خوب شرمیندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔ 

دوسری طرف عبید اللہ بیگ پی ٹی آٸی کے ساتھ نہ دینے اور پارٹی کے کمزور ہونے کا خوب علم رکھتے ہیں اس لیے انہوں نے اپنا کمپین کو تیز کیا ہے اب ڈور ٹو ڈور کپین شروع کیا ہے ۔

 رشتہ داری یار دوستی ہر طریقے سے ووٹ حا صل کر نے کی تک و دو میں ہیں ۔ وہ برسراقتدار پارٹی کے ٹیکٹ کو عمران خان کی ہمایت کا ثبوت کے طور پر وٹرز کو قاٸل کر رہے ہیں۔

 سارھ ہی ساتھ صحت کا رڈ وسیلہ فنڈ اور دیگر ملامتوں کے حصول میں بر پور تعاون کی یقین دہانی کر وا رہے ہیں 

نور حمد اور ان کے ساتھی کچھ دن پہلے ہی التت میں اپنا طاقت دکھا چکےہیں اور وہ پی ٹی آٸی کو دیکھا نا چاہتے کہ حققی کارکنوں کو نظر انداز  کیا تو اس پارٹی کے اصل کارکن کیسے خود کو بہتر ثابت کر تے اس سلسلے ان کے تمام ساتھی پورےہنزہ میں کمین میں مصروف ہیں اب یہ بھی ہرفرد سےرابطہ کر رہےہیں اور باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا پی ٹی آٸی کے اہم رہنما وں کا ساتھ ہے ۔ کامیابی کی صورت میں مساٸل کا حل حکومت وقت سے ہم کروادینگے۔

۔ سر وفی اپنے انداز میں خاموشی سے ہر فرد سے رابطہ قاٸم کر رہے ہیں شیر غازی میڈیا کے زریعے اپنا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ کانر میٹنگ میں اپنا کمپین کر رہے ہیں کامل جان ایم کیوں ایم کے تجربے سے ہر یونٹ میں ووٹر کو قاٸل کر رہے ہیں ۔

ا ب وہ حیدر آباد میں جلسہ کرینگے او ر بارہ سو گاڑیوں پر خضیر آباد تا سسوست ریلی نکا ل کر اپنا پاور بھی شو کرینگیں ۔ رازق بھی ووٹر کو خوب اپنے طرف راغب کر نے کا فن جانتے ہیں سیاست کے منجے ہوٸیے کھیلاڑی ہیں ۔ان کا پا لیسی یہ ہے کہ وہ کسی کے خلاف بیا ن نہیں دیتے بس اپنا ہی منشور لیکر چلتے ہیں ۔ 

ظہور کریم نے دو جلسے کر کے اپنا پاور شو کیا ہے وہ بھی زیادہ سے زیادہ کار نر میٹنگ میں مصروف ہیں ۔

 رحمت علی زیادہ تر ڈیبیٹس یا دوسرے امیدوار کے کمپین میں جاکر اپنا منشور پیش کرتے ہیں اور اس کو سوشل میڈیا میں دیتے ہیں ۔ حاجت محمد نے کل سلینڈر کیا ۔ عوامی ورکر ز کے کا رکن بابا جان کے ووٹ اپنے حصے میں لانے کے خوب محنت کر رہے ہیں ۔ روز ان کا ایک ریلی نکلتا ہے اور اپنا پیغام پہنچاتے ہیں اور اب تک کے ہنزہ کے حالات اور ناقص پالیسیوں کو حدف تنقید بناتے ہیں یہ واحد جماعت جس کے نغمے میں دوسروں کو تنقید کا نشانہ بیا یا ہے مگر میٹھے اندا ز میں , شاعری اور الفاظ میں خوب لطف ہونے کے ساتھ ساتھ ساز اور تال بھی اچھا ہے ۔ 

ایڈوکیٹ احسان اور آصف سخی کے درمیاں ووٹ تقسیم ہو رہے ہیں کیونکہ دونوں ہی باٸیں بازو کی جماعتوں کا بیا نہ پیش کر رہے ہیں ۔

 گز شتہ ادوار میں جب احسان إڈوکیٹ الیکشن میں حصہ لیتے تو ان کے قبیلے کا ساتھ ہوتا تھا اب کی بار قبیلے کا ووٹ کامل جان کےہاں زیادہ ہے ۔حاجت کے غوط ہونے کا فاٸدہ ریحان شاہ او ر گوجال کے امیدوار ں کو زیادہ ہو گا

 بنسبت پی پی کے رہا ریحان شاہ کاتو وہ ا س وقت کلک سے خضر آباد تک ووٹر کو منے میں لگے ہیں میر فملیی کا  اپنا ووٹ تھا وہ پارٹی کا نہیں تھا جیسے جمال اور فرمان ن لیگی سارے ریحان شاہ کےساتھ ہیں ۔گزشتہ کٸی سالوں سے ہنزہ کی خالی نشست ان کے لیے ووٹ کاٹنے کا باعث بنا ۔  شناکی سے ریاض ہیں وہ بھی وہاں خوب کمپین کر رہا ہے ۔

 مگر بات یہ طے ہے کہ 45ہزار ووٹر میں پچاس فصد ووٹ کاسٹ ہوجاٸیے 14امیدواروں میں کم از کم ووٹ 200 سے پانچ سو ماسواٸے مہناز ولی کے  لےسکتا ہے ۔ یا د رکھے الیکشن ایک ہی دن کے لیے ہوتا ہے۔

 ہم سب نے پھر سے ساتھ رہنا ہے ۔ کسی بھی امیدوار کے لیے کسی سے ضد اور دشمنی نا کر لیں ۔ ہم سب نے ساتھ رہنا ہے کسی ایک نے جیتنا ہے باقی سب نے ہار جا نا ہے  ۔ ہار جیت زندگی دو اہم واقعات ہیں ۔ دونوں میں ہی زندگی کا سبق پوشیدہ ہے ۔


جمعرات، 5 نومبر، 2020

ہنزہ ۔ الیکشن 2020 جی بی اے پی ٹی آٸی انفراد اور انقلابی کا فاٸد ہ کامل جان کو زیادہ اور کسی بھی امیدوار کو جیت کی نوید کا باعث ہے


سید اسد اللہ غازی کالم نگار صحافی  سوشل ایکٹیوسٹ


کیا یہ ہے سیاست 

غازی کے قلم سے 

سید اسد اللہ غازی ۔ 

جو ں جوں الیکشن کا آخری تاریخ نزیک آتا جارہا ہے الیکشن کے گہماگہمی بھی تیز ہوتی جارہی ہے ۔ لگتا ہے کہ پی ڈی ایم  گلگت بلتستان میں اپنے عہداروں سے ایک دوسرے کے خلاف محتاط انداز میں تنقید کرنے اور ووٹ حاصل کر کے مشترکہ حکومت بنانے کے لیے کہہ چکا ہے  پی پی پی کے امجد ایڈوکیٹ او ر حفیظ الرحمن کا ایک دوسرے کے قریب آنا اس بات کی گواہی ہے ۔

 ہر حلقے میں صورت حال روز بہ روز تبدیل ہو رہی ہے ۔ میں حلقہ 6 کو فوکس کر کے بات کرونگا ۔ یہاں 15 امیدوار ہیں کچھ جلسے جلوس سے طاقت دیکھا رہے تو کچھ ریلیاں نکا ل کر کچھ سوشل میڈیا میں اپنا بیانیہ دیکر اور کچھ آزاد امیدوار گھر گھر جا کر عوام کو اپنے حق میں قاٸل کر رہے ہیں ۔

 پی ٹی آٸی ہنزہ کے بکھر جانے کی وجہ سے بہت سے آزاد امیدواروں نے اس لیے قسمت آزماٸی کی کہ پی ٹی آٸی نے غیر مقبول اور نا پسندیدہ شخص کو ٹکیٹ دی  ۔ کر نل عبید اللہ بیگ کو گزشتہ الیکشن میں بہت سارے سیاسی ایکٹیوسٹ کا ساتھ عوام کو موبلاٸز کر کے 4500ووٹ دیلا ۔ الیکشن ہارنے پر انہوں عوام کو برا بلا کہا جس کی ویوڈیوز مجھ تک پہنچی ۔ میں نے کسی بھی فرد کے خلاف الیکشن کمپین کا حصہ نہ بنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اس لیے اس ویڈیو کو چلا کر دوسرے مد مقابل کو فاٸد ہ پہنچانے سے گریز کیا ہے ۔ 

اس کے علاو ہ اسیران کے کیس کے حوالے سے ایک کمیٹی حکومت نے 2012 میں بناٸی تھی جس میں کرنل عبید بھی شامل تھے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسیران کو عبرت ناک سزا دینے کی سفارش کی تھی ۔ گوکہ سوشل میڈیا میں ان سے منسوب لیٹر جا لی ہے  ۔اس کے علاوہ کامل جان ۔امتیاز گلگتی اور پی ٹی آٸی انقلابی اور مسلم لیگ ن کے ریحان شاہ جو کہ یہ سب عبید اللہ بیگ کے قریبی ساتھ تھے ان کے سخت مخالفین میں سے ہیں ۔ گو کہ ہنز ہ میں ایک سابقہ روایت ہے کہ برسراقتدار پارٹی کو ووٹ دیا جا تا ہے 

مگر وفاقی وزرا کے بیانات اور عمران خان کے ہنزہ دورے کے بارے میں کرنل عبید اللہ بیگ نے اعلان کیا تھا پھر کہا کہ وزیر اعظم نے ہنزہ کا دورہ منسوخی کے با رے کہا کہ  الچن گروپ کے میر ے ساتھ نہ دینے پر عمران خان خفا تھے اتفاق ہی نہیں تو ادھر کیوں آوں ؟  نورمحمد اور انکے انقلابی  

ساتھیوں کو مرکز سے پارٹی کے اہم رہنماوں کا ساتھ ہے ۔ دونوں نے برسر اقتدار پارٹی کے ووٹ تقسیم کیا بلکہ پورا ہنزہ پی ٹی آٸی کابینہ اور ان کے رفقا ایک طرف ہونے نے اب پی ٹی آٸی انفراد ہو کر رہ گیا ہے ۔ 

جس کا برپور فاٸدہ کامل جان کو مل رہا ۔ کامل جان کے بارے سوشل ورکر خطاب بھی سیاست میں کام آرہا ہے لوگ یہ سمجھتے ہیں جیتنے والے ممبر نے ویسے بھی ہنزہ کے لیے کچھ کرنا نہیں ہے ۔ کامل جان امیر آدمی ہے کسی بھی وقت ضرورت مالی امداد بھی کریگا اس کو ووٹ دو ۔ کامل جان نے شناکی سے لیکر گوجال تک ہر جگہ رابطہ قاٸم کیا ہوا ہے مظبوط تریں امیدوار ہیں اب تک اس کے علاوہ ظہور کریم ہر وقت ہر آدمی کو دستیاب ہونے کی وجہ عوام کی حمایت حاصل ہے ۔

گوجال سے حاجت محمد پی پی کا ووٹ کا ٹ رہا ہے اگر بلاول اس کو منوالیں اور شمشال روڈ اور سنٹر ہنزہ کے ڈی ایچ کیوں ہسپتال کو سندھ گورنمٹ کے زریعے سے بنالیں تو پی پی پہلے نمبر جمپ مار سکتی ہے ۔شیر غازی ۔پروفسر وفی احمد ۔رحمت علی او ر پروفیسر ریاض اس بڑے امیدواروں کی رسہ کشی میں سرپراٸیز جیت ان کی بھی مقدر میں آسکتا ہے ۔ ریحان شاہ گوجال میں عوام کو قاٸل کریں تو ن لیگ اب ایک پیج پر ہیں اگر اس دوران میر غضنفر ن لیگ کے کمپین کرے تو حالات تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ میر ی زاتی  تجزیہ کامل جان ۔ نور محمد اور شیر غازی میں سے کوٸی ایک جیت سکتا ہے 

منگل، 3 نومبر، 2020

صوبہ آئینی ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا یہ عبوری آئینی یہ صرف نظریہ ضرورت کی پیداوار اسے ایک نیا عمران معاہدہ ہی کہا جاسکتا ہے جس کی سضاحت ابھی تک حکمران طبقے کی جانب سے نہ ہی پیش کی گئی اور نہ ہی تحریر میں لائی گئی

شیر علی صحافی کالم نگار
تحریر شیر علی 


 مکالمہ 


عبوری آئینی صوبہ یا یکطرفہ ایک نیا عمرانی معاہدہ۔

صوبہ آئینی طور پر ہوتا ہے یا پھر ہوتا ہی نہیں 

گلگت بلتستان ائینی تشخص کے لئیے خطے کی تمام سیاسی مزہبی لسانی جغرافیائی علاقائی اکائیوں کو مل بیٹھ کر مشترکہ قومی بیانیہ کو فروغ دینا لازم ہے ایک ہی قومی بیانیہ کو اپنا کر جدوجہد کو اگر فروغ نہ دیا گیا تو وفاق میں شنوائی نہیں ہوگی اور اج اس اہم حساس معاملہ پر بھی مخصوص ایجنڈوں کو فروغ دیا گیا تو پھر یاد رکھیں اپ کے اس طرز عمل سے اپ کو وقتی فوائد تو مل سکتے ہیں مگر خطے کا مستقبل کا تعین مصلحتوں کے نظر ہوگا۔
قومی بیانیہ ہی وقت کی اہم ضرورت ہے سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہیکہ وہ اپنے قائدین کو قومی بیانیہ کے لئیے مجبور کریں وہی پر اہل قلم بھی اپنی تحریوں سے عوام میں قومی بیانیہ کو اپنانے کی اہمیت واضح کرے۔
خطے میں موجود سیاسی مزہبی سماجی اکائیوں سے میں مخاطب ہوں میں اپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وقت کا مئورخ نہ ہی مصلحتوں کا شکار رہتا ہے اور نہ ہی طاقتوروں کا ہمنوا آج اگر اپ نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف نہ کیا تو یہی وقت کا مئورخ اپ کے اج کے کردار سے اپ کی نسلوں کو شرمسار کریں گا 

صوبہ آئینی ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا
یہ  عبوری آئینی یہ صرف نظریہ ضرورت کی پیداوار اسے ایک نیا عمران معاہدہ ہی کہا جاسکتا ہے جس کی سضاحت ابھی تک حکمران طبقے کی جانب سے نہ ہی پیش کی گئی اور نہ ہی تحریر میں لائی گئی
اگر مکمل آئینی صوبہ نہیں بنایا جاسکتا ہے تو ہھر آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ یا اسی متنازعہ حیثیت میں بااختیار کیا جائے۔

علی شیر

جمعرات، 22 اکتوبر، 2020

عاشق_اللہ_کا_بونر_میں_امن_کی_جانب_ایک_اور_قدم



#عاشق_اللہ_کا_بونر_میں_امن_کی_جانب_ایک_اور_قدم

#تحریر_عیسیٰ_خان_دانش  

کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اُس وقت خوش حال ، پُرامن اور تیزی سے ترقی کر سکتا ہے جب وہاں مکمل امن اور سکون ہو 

لوگ اپنا گزر بسر بہترین طریقے سے کرتے ہوں ایسے میں وہاں امن کا ہونا بےحد ضروری سمجھا جاتا ہے 

میرے خیال میں گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کی نسبت ضلع دیامر بہت پسماندہ ضلع ہے شرح خواندگی انتہائی کم ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر سمجھا جاتا ہے 

ضلع دیامر کو ماضی کے حکمرانوں نے اپنی غلط پالیسیز کی وجہ سے ضلع دیامر کو بہت پیچھے دھکیل دیا جو کہ آنے والی نئی نسل کیلئے نیک شگون تصور نہیں کیا جاتا ہے 

مسّلم لیگ ق کے نامزد امیدوار مرحوم غلام اللہ کے فرزند عاشق اللہ نے چند مہینے پہلے علاقے کے محرومیوں کو دیکھ کر امن کے جانب ایک مثبت قدم اٹھاتے ہوئے بونر داس میں اپنی مدد آپ کے تحت ایک پولو گراؤنڈ کا سکیم رکھا 

یاد رہے کہ جس زمین پر آج پولو گراؤنڈ بنایا گیا ہے یہ زمین بھی عاشق اللہ کے اپنی ہی فیملی کے ملکیت میں تھیں لیکن بونر داس کے نوجوانوں کی مایوسی کو مد نظر رکھ کر اور علاقے کے بہتری کیلئے کچھ دن پہلے اُسی پولو گراؤنڈ کا عاشق اللہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ باقاعدہ اور باضابطہ طور پر فیتہ کاٹ کر افتتاح بھی کر دیا

پولو گراؤنڈ کے افتتاح کرنے کے بعد نوجوانوں اور بونر داس کے عوام کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے ق لیگ کے نامزد امیدوار عاشق اللہ نے کہا کہ آج بونر داس کے یہ حالت دیکھ کر مجھے دلی طور پر بہت افسوس ہوا ہے

یہاں کے مقامی لوگوں کو اندھیر نگری میں رکھا گیا ہے باریاں لینے  والے ماضی کے حکمرانوں نے بونر کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا بھرتاوُ کیا ہے جس پر بہت افسردہ ہوں یہاں نہ تعلیمی اداروں کی طرف توجہ دیا گیا اور نہ ہی یہاں کے لوگوں کو زندگی کے بنیادی سہولیات مہیا کیا گیا ہے اب انشااللہ ایسا ہر گز نہیں ہوگا اگر عوام نے مجھے منتخب کیا تو پھر حلقہ 1 کے اندر جو علاقے زیادہ پسماندہ ہیں ان کے طرف خصوصی توجہ دونگا

عاشق اللہ نے بونر داس کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر میں نے جو پولو گراؤنڈ کا افتتاح کیا ہے وہ آپ سب لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ یہ زمین میری فیملی کے اپنی ملکیت ہے اور دوسری بات یہاں مجھے کسی نے کوئی سکیم نہیں دیا ہے اور نا ہی پیسے بلکہ یہ سب کچھ میں اپنی طرف سے آپ لوگوں کیلئے کر رہا ہوں زمین بھی اپنی تھی اور سارے پیسے بھی اپنے لگائے ہیں 

تاکہ بونر داس ، گوہر آباد اور گیس سمیت تمام علاقے کے نوجوان اپنی صلاحتیوں کا بہترین مظاہرہ کریں اور پورے جی بی کے سطع پر ہر سال ہونے والے شیندور پولو ٹورنامنٹ کیلئے اپنے آپ کو تیار کر لیں 

افتتاحی تقریب سے عاشق اللہ نے مزید اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو شروعات ہیں انشااللہ اگر عوام نے مجھے منتخب کیا تو پھر حلقہ 1 کے اندر تعلیمی ادارے ، کھیل کے میدان ، نوجوانوں کیلئے روزگار ، غربت کا خاتمہ ، بجلی کے مسائل اور بھی زندگی کے تمام ضروریات سے آراستہ کرونگا

افتتاحی تقریب کے بعد عاشق اللہ نے میڈیا سے بھی غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج ضلع دیامر باقی تمام اضلاع کی نسبت بہت پیچھے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے عوام کی خدمت کے بجائے اپنے عزیز و قارب کو نوازتے رہے جس کی وجہ آج دیامر تعلیم سمیت تمام میدان میں بہت پیچھے ہے 

دوسرے اضلاع کے لوگ ہمیں طرح طرح کے طعنے دیتے ہیں کہ دیامر کے لوگ جاہل ہیں ، بدتمیز ہیں ، انپڑھ ہیں ، وحشی ہیں ، خون کے پیاسے ہیں وغیرہ وغیرہ  

ان تمام طعنوں کا ہم اُس وقت جواب دے سکتے ہیں جب ہم ضلع دیامر بلخصوص حلقہ 1 کے اندر تعلیمی اداروں کو عام کریں کیوں کہ تعلیم وہ واحد چیز ہے جس کی وجہ سے انسان آگے کھٹن منازل آرام و سکون سے پار کر سکتا ہے

اسلئے میری پوری کوشش ہے کہ عوام نے خدمت کا موقع فراہم کیا تو سب سے پہلے تعلیم کی طرف توجہ دوں 

عاشق اللہ نے مزید کہا کہ بونر داس میں پولو گراؤنڈ بنانے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ یہاں پر کسی قسم کا نہ کوئی پولو گراؤنڈ تھا اور نہ ہی کرکٹ کا گراؤنڈ جس کی وجہ سے نوجوان کافی پریشان اور مایوس تھے 

اس وجہ سے یہاں بونر داس میں اپنی زمین اور اپنے خرچے پر پولو گراؤنڈ بنایا اب نوجوان نسل اس کا فائدہ اٹھا کر دنیا کے سامنے اپنا لوہا منوا سکتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ ضلع دیامر بلخصوص حلقہ 1 کے عوام ، باشعور ، تعلیم یافتہ ، محب وطن اور امن پسند  

ہیں

دنیا کے نامور اور آسٹریلیا کے بہترین کرکٹر رکی پونٹنگ اپنی مشہور کتاب  ( Success ) میں لکھتا ہے کہ اپنی زندگی میں بہت کچھ پایا ، سیکھا اور دیکھا ہے اور دنیا کے ہر ممالک میں کرکٹ کے سلسلے کی وجہ سے جانا ہوتا تھا لیکن اپنے تجربے کے حساب سے یہ کہتا ہوں کہ کسی بھی ملک کیلئے  پیسہ ، دولت ، شہرت ، عزت معنی نہیں رکھتا جب تک اُس ملک کے اندر امن نہ ہو

اگر کسی ملک کے اندر امن ہے تو پھر وہی ملک دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے پھر اس ملک کے پاس خود بخود پیسہ ، دولت ، عزت اور شہرت آ جاتی ہے 

کسی بھی ملک میں امن قائم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھا جائے جب آدمی مصروف ہوتا ہے تو پھر شرپسند نہیں بن سکتا 

جس کی وجہ سے سارا ملک خوش حال بھی ہوتا ہے اور ترقی یافتہ ہونے میں بھی کوئی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتی 

عاشق اللہ نے بڑی سوچ سمجھ کے بعد عقلمندی سے کام لیتے ہوئے لوگوں کیلئے کھیل کے میدانوں کا آغاز کر دیا ہے جو کہ پورے حلقے کے لوگوں کیلئے خوشی اور مسرت کا باعث ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عاشق اللہ کا اپنی زمین اور اپنے پیسوں سے بونر داس سمیت گوہر آباد اور گیس کے نوجوانوں کیلئے بروقت اور فوری اتنا بڑا قدم اٹھانا یقیناً قابل تعریف ہے 

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ق لیگ کے نامزد امیدوار عاشق اللہ ضلع دیامر بلخصوص حلقہ 1 کے عوام کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں جو کہ بونر داس میں پولو گراؤنڈ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے 

عاشق اللہ اقتدار ملنے سے پہلے اگر ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام کے ساتھ اتنے مخلص ہیں تو پھر ذرا سوچیں کہ اقتدار ملنے کے بعد حلقہ 1 کے عوام کیلئے کیا کچھ نہیں کرینگے 

یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر عاشق اللہ کو عوام نے اس بار اپنی خدمت کا موقع فراہم کیا تو پھر انشااللہ ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام کی تقدیر بدل کر رکھ دینگے

ق لیگ کے نامزد امیدوار عاشق اللہ کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کے حکمران صرف اپنوں کو نوازنے کے بجائے عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرتے تو پھر کب کا حلقہ 1 کے تمام مسائل حل ہو جاتے 

لیکن اب ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام کو اس بات کا علم ہو چکا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے انھیں اندھیرے میں رکھا اور تمام فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کرتے رہے جس کا خمیازہ آج پورے ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام کو طرح طرح کے مصائب ، تکالیف ، دکھ ، درد ، رنج و غم جیسے مسائل سے بھگتنا پڑ رہا ہے لیکن اب اس طرح نہیں ہوگا اب عوام کا پیسہ صرف عوام پر مثبت طریقے سے خرچ ہوگا

مجھے عوام کے فیصلے سے بڑھ کر کوئی اور فیصلہ مقدّم نہیں عوام جو چاہے گی وہی ہوگا ان لوگوں کو کبھی مایوس ہونے نہیں دونگا 

عاشق اللہ نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کا عوام دشمنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ابھی تک بونر داس ، گوہر آباد سمیت گیس وغیرہ کے عوام اور نوجوانوں کیلئے ایک گراؤنڈ کا نہ ہونا افسوس ناک اور انتہائی شرمناک بات ہے 

کہا کہ آج وہی چہرے پھر عوام کے درمیان ووٹ مانگنے آ جاتے ہیں انھیں کسی قسم کا کوئی احساس دکھ ، درد نہیں ان لوگوں کو صرف کرسی سے مقصد ہے باقی عوام بھاڑ میں جائے ان کا کیا جاتا ہے 

اگر اس سے پہلے عوام کے پیسے عوام پر خرچ کیے جاتے تو آج اس طرح کے سینکڑوں پولو گراؤنڈ کرکٹ گراؤنڈ اور نہ جانے کتنے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا جھال بچھایا جاتا لیکن سب کچھ صرف ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام کی حسرت ہی رہی جس پر انتہائی رنجیدہ اور افسردہ ہوں

عاشق اللہ نے کہا کہ اب وقت آیا ہے عوام بہترین امیدوار کا انتخاب کریں گیند عوام کے کورٹ میں ہے دیکھنا ہے عوام کس کا انتخاب کرتی ہے کیا ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام دوبارہ ان کا انتخاب کرے گی جنھوں نے عوام کے ساتھ دھوکہ ، فراڈ اور سبز باغ دیکھا کر ووٹ حاصل کیے یا عوام ان کا انتخاب کرتی ہے جو ان کے آنے والی نئی نسل کا سوچتا ہو

عاشق اللہ نے کہا کہ اگر عوام نے میرے پر مکمل اعتماد ، بھروسہ اور یقین کر کے میرا انتخاب کیا تو انشااللہ اپنے حلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرونگا 

آج میں نے بونر داس میں اس پولو گراؤنڈ کیلئے اپنی زمین اور اپنے پیسے دیکر بنایا ہے لیکن یہ میں نے بونر داس والوں کے  ساتھ کوئی احسان نہیں کیا 

بلکہ یہ میرا فرض بنتا تھا کہ عوام کیلئے ہر وہ کام کروں جس سے میرے حلقے کے اندر خوش حالی اور امن آ جائے 

اور انشااللہ اس بار آمدہ الیکشن میں اگر عوام نے مجھ پر اعتماد کر کے میرا انتخاب کیا تو پھر اسی طرح کے اور بھی بہت سے  پولو گراؤنڈ اور کرکٹ کے گراؤنڈ  بناوُنگا

عاشق اللہ نے واضع کر دیا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس امید وار کے تھک ، نیاٹ اور بونر میں پوزیشن مستحکم ہوگی اُسی امیدوار کے کسی حد تک جیتنے کے چانسس نظر آتے ہیں لیکن بونر سمیت نیاٹ اور تھک کو مسائلستان بنانے والوں کو عوام مسترد کر دیگی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آخر میں عاشق اللہ نے عوام کو باخبر کیا کہ کچھ سیاسی مگرمچھ آمدہ الیکشن میں آپ کو نوکریوں کا جھانسہ دینگے 

تو چند نوسرباز آپ کو طرح طرح کے سبز باغ دکھائنگے آپ لوگوں نے ان سب کے باتوں پر عمل نہیں کرنا 

کیوں کہ وہ ہمیشہ کی طرح آپ کو ایک بار پھر دھوکہ دیکر اندھیر نگری میں ڈالنا چاہتے ہیں مزید یہ بھی کہا کہ خدشہ ہے چند شر پسند امیدوار ماضی کی طرح ایک بار پھر قومیت کو ہوا دینگے 

لیکن اس بار وہ اس کوشش میں بھی ناکام ہونگے عاشق اللہ نے کہا کہ قومیت اور نسل پرستی کی بات کرنے والے کبھی علاقے کیلئے خیر خواہ نہیں ہو سکتے قومیت اور نسل پرستی وہ ناسور ہے جس سے علاقے کا امن داؤ پر لگ جائیگا لوگوں کے اندر ایک دوسروں کیلئے نفرت اور ضد ، بغض پیدا ہوگا جس کی وجہ سے علاقے کے اندر نئی دشمنیاں جنم لینگی 

اُن سیاسی مگرمچھوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ قومیت اور نسل پرستی کو فروغ دیکر حقیقت میں آگ سے کھیل رہے ہوتے ہیں 

لہٰذا عوام کو ان کی مکاری ،  ہوشیاری ، اور چالاکی سے باخبر رہنا چاہیے اور علاقے کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر اپنا انتخاب کرنا چاہیے 

ق لیگ کے نامزد امیدوار عاشق اللہ نے کہا کہ اگر اس بار عوام نے مجھے خدمت کا موقع فراہم کیا تو انشااللہ اپنی تمام تر توانائی علاقے کے مفاد اور بہتری کیلئے صرف کرونگا۔۔۔

دعا گو ہوں کہ اللہ‎ تعالیٰ عاشق اللہ کو کامیاب کرے تاکہ وہ ضلع دیامر حلقہ 1 کے عوام کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرتے ہوئے محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔۔۔۔آمین

بدھ، 7 اکتوبر، 2020

گلگت بلتستان کیلئے مجوزہ سیٹ اپ اور آزاد کشمیر والوں کا احتجاج۔

 

گلگت بلتستان کیلئے مجوزہ سیٹ اپ اور آزاد کشمیر والوں کا احتجاج۔۔۔

تحریر۔۔۔ تحسین اللہ قریشی

گلگت 


آزاد کشمیر کے بھائیوں نے کبھی بھی اس بات پر اس طرح کا احتجاج نہیں کیا کہ گلگت بلتستان والے ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا حصہ ہیں۔ انھیں کم از کم اتنے حقوق تو دیں جتنا ہمیں دیا ہے۔ بجٹ ہی ہمارے برابر دیں۔ دہایوں تک جی بی ایف سی آر جیسے کالے قانون کے دلدل میں پھنس کر ترقی سے محروم رہا۔ آج بھی وہاں غربت کی شرح% 50 سے زیادہ ہے۔ اور تعلیم کی شرح بمشکل %55، وہ بھی برائے نام۔ لوگ بجلی، سڑک، تعلیم، صحت اور شعور جیسی سہولیات سے کوسوں دور ہیں۔ سیاسی حیثیت یہ کہ 2010 تک ایکزیکٹیو آرڈر کے تحت اس خطے کو چلایا جاتا رہا۔  جی بی کے ساتھ زیادتیوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ ان سب کے دوران آزاد کشمیر کے عوام اور حکمران بھنگ پی کے سوتے رہے۔ جب بھی جی بی کو با اختیار بنانے یا کوئی حق دینے کی بات آتی ہے تو سب احتجاج کرنے نکل پڑتے ہیں۔ اس طرح کا شور اس سے قبل 2010 میں سنا جب جی بی کو ایک تشخص دینے اور ایک مقامی اسمبلی بنانے کی بات کی گئی۔ حا لانکہ نہ اس سے کشمیر کاز کو کوئی نقصان ہونا تھا نہ ہی موجودہ تجویز سے ہو گا۔ یا تو وہاں کے لوگوں کو کوئی غلط پٹی پڑھائی جا رہی ہے یا وہ سیاسی اور قانون کے علم کو کتابوں کی حد تک رکھتے ہیں۔ عبوری صوبے کا مطلب اس کو مسلہ کشمیر سے مشروط کرنا ہے۔ یعنی جو فیصلہ مسلہ کشمیر پر ہو گا، اس کا طلاق جی بی پر بھی ہو گا۔

پھر آزاد کشمیر والوں کا موقف ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان فاصلے بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ایسا کرنے والے آپ خود ہیں۔ کون ہے جو عام دنوں میں جی بی کے عوام کے حق میں بات کرتے سے آپ کو روکتا ہے؟

کون ہے جو آپ کو جی بی کے ساتھ روابط بڑھانے سے روکتا ہے؟

کون ہے جو آپ کے حکمرانوں کو وہاں کے دورے کرنے اور ہر مشکل میں کھڑے ہونے سے روکتا ہے؟

کون ہے جو آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں جی بی کے طلبہ کیلئے وافر کوٹہ رکھنے سے روکتا ہے۔؟ فی سبجکٹ 2 اور 5 سیٹس کا کوٹہ ملک کے ہر صوبے میں ہے۔ ان میں اور آپ میں کیا فرق ہوا۔ الٹا 2010 کے بعد یہ کوٹہ مزید کم کر دیا گیا، جس پر وہاں پر موجود جی بی کے طلبہ نے احتجاج بھی کیا مگر شنوائی نہیں ہوئی۔


مندرجہ بالا وہ چند سوالات ہیں جن کی بنیاد آپ خود ہیں۔ آپ کے پاس ہماری نسبت توانا آواز تھی اور ہے، سیٹ اپ ہے، بجٹ ہے، نیشنل اور انٹرنیشنل ایکسپوجر ہے۔ ہم نے کبھی بھی آپ کی طرف سے اپنی طرف مدد کا ہاتھ بڑھتا ہوا نہیں پایا۔ جب بھی پایا تو حقوق ملتے وقت رکاوٹ ڈالنے کیلئے بڑھتا ہوا پایا۔ جب وہاں کے باسی مجوزہ تبدیلی کے حق میں ہیں، نہ صرف حق میں بلکہ ان کے دھائیوں کے جدوجہد کے نتیجے میں یہ ہو رہا ہے تو آپ کو وہاں بیٹھ کر احتجاج کا کیا حق بنتا ہے۔۔؟

آپ کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے جی بی کے عوام میں آپ کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔ ان دوریوں اور نفرتوں کا الزام کسی تیسری قوت پر مت دھرئیے۔ اپنے گریبان میں جھانکئے، جی بی کے عوام کی دوری سمجھ میں آئے گی۔

تحسین اللہ

گلگت

عاشق_اللہ_کے_کیریئر_کا_تیسرا_الیکشنتحریر_عیسیٰ_خان_دانش



#عاشق_اللہ_کے_کیریئر_کا_تیسرا_الیکشن 

#تحریر_عیسیٰ_خان_دانش 

 عاشق اللہ ولد غلام اللہ تھک علاقے کے پسماندہ گاوُں دیورے میں  ( آر بی کے ) خاندان کے ایک معتبر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں یوں تو عاشق اللہ کے والد غلام اللہ پورے گلگت بلتستان بلخصوص ضلع دیامر کے اندر لوگوں کیلئے خلوص ، اخلاص ، اخلاق ، ہمدردی ، ایثار ، جذبہ خیر سگالی ، اخوت ، بھائی چارگی ، اور لوگوں کے درمیان لین دین کے معاملات میں اپنی مثال آپ تھے غلام اللہ نے کبھی گلگت بلتستان اور ضلع دیامر کے اندر خاندانی تعصب ، نسل پرستی اور فرقہ واریت پہ بات نہیں کی اس کی بنا پر گلگت بلتستان اور ضلع دیامر میں ایک نامور شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے خداداد صلاحتیوں کے مالک ہونے کے بنا پر ضلع دیامر کے لوگوں نے غلام اللہ کو الیکشن میں حصہ لینے کیلئے زور دیا لوگوں کے اصرار اور بے پناہ محبت کو دیکھ کر خاندانی مشاورت کے بعد باقاعدہ طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا،

اعلان ہوتے ہی ضلع دیامر کے اندر ماضی کے امیدوار اور نفرتوں کے بیج بونے والے مگرمچوں کی نیندیں حرام ہونے لگیں جب الیکشن کا وقت قریب آیا تو غریبوں سمیت لاچار ، بےبس ، بےسہارہ اور  بےکس لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھرپور کمپین کا آغاز کیا لیکن پولنگ کے دن کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر غلام اللہ کے بھاری اکثریت کو دیکھ کر مخالفین نے لڑائی جھگڑوں کے مشن کو اپنایا جس کی وجہ سےانتظامیہ کو بعد میں کچھ پولنگ اسٹیشنوں کو بند کرنا پڑا اس وجہ سے غلام اللہ کی یقینی جیت ہار میں تبدیل ہو گئی

 لیکن مضبوط اعصاب کے مالک ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑوں میں پڑنے کے بجائے اپنی ہار کو سرے عام تسلیم کیا اور سیٹ کو اپنے علاقے میں لانے کیلئے مخالف امید وار حاجی شاہ بیگ کا بھرپور ساتھ دیکر سیٹ کو علاقے میں لیکر لازوال اور ناقابل فراموش قربانی پیش کیا جو کہ سالہاسال گزرنے کے باوُجود غلام اللہ کے مخالفین اور علاقے کے لوگ آج بھی اس قربانی کو چاہ کر بھی فراموش نہیں کر سکتے لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا ہوا کچھ یوں کہ الیکشن کے چند سال بعد غلام اللہ اس دار فانی سے کوچ کر چلے گئے غلام اللہ کے موت کے خبر سن کر گلگت بلتستان ضلع دیامر کے اندر کہرام مچ گیا اچانک موت کے خبر سن کر ہر غریب کی آنکھ اشکبار تھی کیوں کہ غریبوں کا سہارا ، یتیموں کا والی اور لاچاروں اور بےبسوں کے ترجمانی کرنے والا  مسیحا دنیا سے رخصت ہو گیا تھا

 غلام اللہ کے موت کے المناک سانحے کے بعد ( آر بی کے ) خاندان اور علاقے کے معتبر لوگوں سمیت غریب لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے غلام اللہ کے بیٹے عاشق اللہ کو والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علاقے کی خدمت اور غریبوں کی ترجمانی کرنے  کیلئے الیکشن میں بھرپور حصہ لینے کیلئے کہا اس وقت عاشق اللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی لیکن اپنے خاندان اور علاقے کے غریب اور معتبر لوگوں کے خلوص اور والد کے مشن اور خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے باقاعدہ طور پر الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا

 لیکن کم عمری ، ناتجربہ کاری ، اور لاعلمی کی وجہ سے اپنے کیریئر کے سب سے پہلے الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا پر اس کے بعد بھی اپنی کوشش ، محنت اور لگن کو جاری و ساری رکھا اسی طرح پانچ سال گزرنے کے بعد کیریئر کے دوسرے الیکشن میں خاندانی مشاورت کے بعد حصہ لینے کا اعلان کیا

 اعلان کرنے کے کچھ عرصے بعد حاجی محمّد امین جو کہ جی بی ایل اے 15 حلقہ نمبر 1 سے الیکشن لڑ رہے تھے اپنے خاندان سے تفصیلی اور طویل ملاقات کے بعد عوام الناس کے ایک بھری محفل میں عاشق اللہ کے حق میں دستبردار ہونے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا 

حاجی محمّد امین کے دستبرداری کے کچھ وجوحات تھیں جس میں سب سے بڑی اور واضع وجہ یہی تھی کہ عاشق اللہ اور محمّد امین کے درمیان پانچ سالہ معاہدہ طے ہوا تھا معاہدے میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ معاہدے کا پہلا الیکشن عاشق اللہ لڑے گا پانچ سال بعد معاہدے کا دوسرا الیکشن حاجی محمّد امین لڑینگے

 معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے حاجی محمّد امین نے صرف اپنے خاندان کے چند عناصر کے ووٹ عاشق اللہ کو دیے حالانکہ یہ سب کچھ معاہدہ کے برعکس ثابت ہوا اور ( آر بی کے ) خاندان کو بائیس خاندانوں کا الگ لیبل سے پکارا جانے لگا باہرحال اسی طرح کیریئر کے دوسرے الیکشن میں بھی عاشق اللہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا

 اس سال معاہدے کی مکمل پاسداری اور حمایت کرتے ہوئے عاشق اللہ نے اپنے ( آر بی کے ) خاندان کے ساتھ حاجی محمّد امین کے مکمل جانی و معالی تعاون کے ساتھ کمپین کا اعلان کیا 

لیکن حاجی محمّد امین نے ناساز صحت کی وجہ سے سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اب تک معاہدے کی مکمل پاسداری کرنے اور تعاون پر عاشق اللہ اور اس کے آر بی کے خاندان  کا دلی شکریہ بھی ادا کیا

 حاجی محمّد امین کے سیاست سے دستبرداری کے بعد ایک بار پھر عاشق اللہ کو الیکشن میں حصہ لینے کا روشن موقع ملا موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندانی مشاورت اور علاقے کے غریبوں کا آواز بننے کیلئے عاشق اللہ نے کیریئر کے تیسرا الیکشن لڑنے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے

 عاشق اللہ کے اعلان کے بعد سیاسی مخالفین کے ایک بار پھر نیندیں حرام ہونے لگی ہیں کیوں کہ اس بار بھاری اکثیریت سے اپنے سیاسی مخالفین کو مات  دینے کیلئے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں کیوں کہ اس بار مفتی ولی ارحمان کے تھک سے اور حاجی نوشیر کے نیاٹ سے پوزیشن کافی مستحکم دکھائی دیتی ہے ان دونوں کے مستحکم ہونے سے کسی اور امیدوار کو بڑا دہچکہ پہنچا ہے اور یہ عام تاثر دیا جاتا ہے کہ اس سے پہلے الیکشنز میں مفتی ولی ارحمان اور اس کے خاندان حاجی شاہ بیگ کیلئے ریڈھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے تھے لیکن ہوا کچھ یوں کہ وہی ریڈھ کی ہڈی حاجی شاہ بیگ کیلئے راستے میں رکاوٹ بن چکا ہے اور مخالف الیکشن میں بھرپور حصہ لے رہا ہے 

 اس سب کچھ کے ہونے کے بعد عاشق اللہ کیلئے جیت کی  راہیں ہموار ہو چکی ہیں اور علاقے کے سیاسی تجزیاکاروں پر نگاہ ڈالی جائے تو ان کے طرف سے یہی سننے میں آ رہا ہے کہ اس سال عاشق اللہ کی پوزیشن بانسبت حلقے کے دوسرے امیدواروں کی مضبوط دکھائی دے رہی ہے اور آئے روز عاشق اللہ کی انتھک محنت ، کوشش اور لگن کی وجہ سے حلقے میں لوگوں کے دلوں کے اندر اپنے لیے محبت کی فضا قائم کر رہے ہیں اور اپنی جیت کو مزید مستحکم کر رہے ہیں کیوں کہ عاشق اللہ کے اپنے ( آر بی کے ) خاندان کا نوسو ووٹ ہے اور یہی بات سیاسی مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی۔۔۔!

ہم اللہ‎ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ اللہ‎ تعالیٰ اس سال عاشق اللہ کو بھاری اکثیریت سے جتوا دے تاکہ گلگت بلتستان اور ضلع دیامر بلخصوص اپنے حلقے کے اندر تعلیمی نظام کو عام کرنے اور مزید محرومیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔۔۔

آمین

جمعرات، 1 اکتوبر، 2020

کیا_آزاد_امیدوار_عاشق_اللہ_کم_بیک_کر_سکتاہےتحریر_عیسیٰ_خان_دانش ۔

 



#کیا_آزاد_امیدوار_عاشق_اللہ_کم_بیک_کر_سکتا_ہے؟

#تحریر_عیسیٰ_خان_دانش

کہا جاتا ہے کہ نوح علیہ السلام کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی اور جب نوح علیہ السلام کو نبوت ملی اس وقت سے لیکر آخر تک دین اسلام کی اشاعت کیلئے دن رات محنت ، کوشش اور جہدو جہد کرتے رہے لیکن لوگ دین اسلام کی روشنی سے غافل تھے اور اللہ‎ اور اس کے نبی کو ماننے سے صاف انکار کرتے تھے

 جب نوح علیہ السلام کو اللہ‎ کی طرف سے حکم آیا کہ جو لوگ آپ کو مانتے ہیں اور اللہ‎ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں ان کو اپنی کشتی میں سوار کر کے جودی پہاڑ کی طرف نکلنے کا حکم دیا 

علما کرام کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کی اتنی عمر اور اتنی دین اسلام کی تبلیغ اور کوشش کے باوجود کم و بیش 70 یا 80 لوگوں نے اسلام کو قبول کیا اور وہی 70 یا 80 لوگ کشتی میں سوار ہوئے جوکہ اللہ‎ تعالیٰ نے انھیں اپنے عذاب عظیم سے بچایا 

علما کرام یہ بھی کہتے ہیں کہ ان 70 یا 80 لوگوں میں جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار تھے وہی سب نوح علیہ السلام کی اپنی اولاد تھی ان سب میں کوئی دوسرا غیر آدمی نہیں تھا اور نہ ہی کسی غیر آدمی نے اسلام کو قبول کیا تھا لیکن ان سب کے باوجود نوح علیہ السلام نے دین اسلام کی بھرپور اشاعت کی اور اللہ‎ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے

کہنے کا مقصد یہی ہے کہ انسان مشکلات سے جب گھبرا جاتا ہے تو مستقبل میں آنے والے بڑے چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتا 

مشکلات اور ناکامیاں ہی انسان کو خوبصورت بنا دیتی ہے اور انسان کو انہی ناکامیوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے 

انسان جتنا ناکامی سے سیکھتا ہے اتنا زیادہ کامیابی سے کبھی نہیں سیکھ سکتا 

عاشق اللہ نے اس سے پہلے دو الیکشنز میں حصہ لیا لیکن دونوں الیکشنز میں عاشق اللہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا

 لیکن عاشق اللہ نے ماضی کے تمام الیکشنز سے بہت کچھ سیکھا اور ہمیشہ آنے والے الیکشنز کی تیاری کرتے رہے

اب اس بار عاشق اللہ نے اپنے خاندانی مشاورت کے بعد اپنے کیریئر کا تیسرا الیکشن لڑنے کیلئے باقاعدہ آزاد امید وار کی حثیت سے جی بی ایل اے 15 دیامر 1 سے کاغزات نامزدگی بھی جمع کروا دیا ہے 

حلقے کے دوسرے امیدواروں کی نسبت عاشق اللہ اسلئے مضبوط دکھائی دے رہے ہیں کیوں کہ عاشق اللہ کا اپنا خاندانی لگ بھگ 900 کے قریب ووٹ ہیں اور یہی بات سیاسی مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی

علاقے کے معتبر ، بااثر اور معروف و نامور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جو صورت حال اس وقت حلقے کے اندر ہے اگر 15 نومبر تک یہی صورتحال برقرار رہی تو پھر عاشق اللہ ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئنگے اور آخر وقت میں حالات بلکل بدل بھی سکتے ہیں 

کیوں کہ اس وقت حلقے کے اندر کافی نئے و پرانے چہرے سامنے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے عاشق اللہ کے اپنا بینک ووٹ اور خاندانی اکثریتی ووٹ کی وجہ سے سب پہ بھاری دکھائی دے رہے ہیں 

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عاشق اللہ کو پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے نوشاد عالَم کافی مضبوط دکھائی دے رہے ہیں میں ان لوگوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ٹکٹ سے سیٹ مل جاتی تو پھر اس سے پہلے الیکشن میں حاجی غندل شاہ کو سیٹ مل جاتی کیوں کہ اُس وقت وفاق میں مسّلم لیگ کی حکومت تھی اور حاجی غندل شاہ کے پاس مسّلم لیگ کا ٹکٹ بھی تھا 

پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ ٹکٹ سے کبھی بھی سیٹ نہیں ملتی بلکہ عوامی منڈیٹ سے سیٹ جیتا جاتا ہے 

اسلئے عاشق اللہ مایوسی کے بجائے کافی پرجوش اور پر امید دکھائی دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انشااللہ 15 نومبر کو بھاری عوامی منڈیٹ سے سیٹ جیت کر سارے  مخالفین کو حیران و پریشان کر دینگے 

عاشق اللہ کو ہمیشہ یہی فکر ہوتی ہے کہ گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کی طرح دیامر میں بھی تعلیم عام ہو اور دیامر کے طلبا بھی دنیا کے ہر فورم پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہو سکیں

 اسلئے عاشق اللہ چاہتے ہیں کہ انشااللہ اس بار عوامی مینڈیٹ سے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے حلقے کے اندر تعلیمی اداروں کو عام کریں اور لوگوں کو کلاشنکوف کلچر سے نکال کر قلم کلچر کو فروغ دیں 

عاشق اللہ کی یہ ایک مثبت سوچ ہے کیوں کہ جب تک دیامر کے اندر تعلیم عام نا ہوں تب تک دیامر کبھی بھی دوسرے اضلاع کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا کیوں کہ تعلیم ہی انسان کو جینے کے طور طریقے سکھاتی ہے اور لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر امن پسند بھی ہوتے ہیں

عاشق اللہ نے ہمیشہ نیاٹ کے لوگوں کیلئے اپنی بساط کے مطابق امداد ، مدد اور ساتھ میں ان کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے کوششیں بھی کی ہیں 

لیکن عاشق اللہ کا خیال ہے کہ جتنا انسان اقتدار میں آ کر لوگوں کی خدمت کر سکتا ہے اتنا ہی بغیر اقتدار کے ناممکن ہے 

عاشق اللہ کا کہنا تھا کہ اس بار اللہ‎ نے عوام کی خدمت کا موقع دیا تو سب سے پہلے نیاٹ کے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرونگا کیوں کہ اس سے پہلے اقتدار میں آنے والوں نے نیاٹ کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا بھرتاو کیا اب اس طرح نہیں ہوگا انشااللہ نیاٹ کے عوام کو زندگی کے تمام ضروریات سے آراستہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرونگا

عاشق اللہ کی کوشش ہوتی ہے کہ دیامر کے اندر امن ہو کیوں کہ امن ہی واحد چیز ہے جس کے زرئعے سے ہم ترقی کے راہوں پر قدم رکھ سکتے ہیں اسلئے عاشق اللہ نے ہمیشہ اپنے حلقے کے اندر ذاتی دشمنیوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور انشااللہ آئندہ بھی اس عمل کو جاری و ساری رکھیں گے 

سادہ اور منفرد شخصیت ہونے کی وجہ سے عاشق اللہ پورے گلگت بلتستان بلخصوص ضلع دیامر کے اندر اپنی ایک نمایا پہچان رکھتے ہیں

خوش مزاج اور خوش طبع ہونے کی وجہ سے نوجوانوں اور بزرگوں میں بھی کافی مقبول ہیں 

آخر میں ہم اللہ‎ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ‎ تعالیٰ عاشق اللہ کو دیامر اور اپنے حلقے کے لوگوں کی خدمت اور محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے ایک بار موقع دے دیں۔۔۔

آمین

بدھ، 30 ستمبر، 2020

ہنزہ ۔خدمت سیاست سے مراد ریاست کا علم ہے بعض مصنفین علم سیاسیات کو ریاست اور حکومت دونوں کا علم قرار دیتے ہیں.


 

تحریر غلام عباس 

سیاست ایک خدمت.غلا

سیاست سے مراد ریاست کا علم ہے بعض مصنفین علم سیاسیات کو ریاست اور حکومت دونوں کا علم قرار دیتے ہیں.

 عملی طور پر سیاسیات کی تین اقسام ہیں

نظریاتی, مصالحتی, اور مفاداتی. 

ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست میں پہلا نظریاتی سیاست دان تھے انہوں نے اسلام ھمارا دین,جمہوریت ہماری سیاست, سوشلزم ( اشتراکیت ) ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام,  کا نعرہ دیا - جو ان کا نظریہ تھا روٹی, کپڑا,  مکان, اور تعلیم  و صحت  کو انسان کی بنیادی ضروریات قرار دیا  اور ان ضروریات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری  قرار دی. 

دور حاضر میں سیاست کچھ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ  سے اس کا اصل مفہوم اور مقصدیت پامال ہو گیا ہے جس کی وجہ  سے لوگ نفرت کرنے لگے ہیں اور وہ ہر اچھے شخص کو سیاست سے دور دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست فقط جھوٹ, خیانت, بددیانتی, لوٹ مار  اور دھوکا دہی کا نام ہے جبکہ سیاست ایسی چیز نہیں, بلکہ سیاست رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر  پاکیزہ انسانی  و معاشرتی خدمت کرنے کا نام ہے. تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا آج کے دور میں پڑھے لکھے باشعوراور باکردار نوجوانوں کو سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ  سیاسی بصیرت بنیادی عنصر ہے جس کے ذریعے ایک تعمیری سوچ رکھنے والا اور ترقی پسند معاشرہ معرض وجود میں آتا ہے جب ہمارے لوگ ہر شعبہ ہائے زندگی  و مکتب ہاے فکر میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں  کے ساتھ  معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں تو سیاست میں کیوں نہیں  جبکہ سیاست کا محور ہی اعلی معیار زندگی و معاشرتی انصاف اور پاکیزہ انسانی خدمت ہے اگر ایسا ہے تو آئے کیوں نہ ہم تاریخ رقم کردے اور بحیثیت باشعور پڑھی لکھی قوم گلگت بلتستان نہ صرف پاکستان  کو بلکہ تمام انسانیت کو پوری دنیا کو پیغام دےاور سیاست کی دنیا میں انقلاب برپا کر دے کیونکہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے. اور تعلیم و تربیت میں  اپنی خاص پہچان رکھتا ہے اور بلخصوص ہنزہ  گلگت بلتستان کا چہرہ ہے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ثقافتی و سیاحتی اور تعلیم و ہنر کے اعتبار سے ہنزہ اپنا منفرد مقام رکھتا ہے.اس لئے گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے اور  باشعور نوجوان صوبے میں  سیاسی و شہری حقوق سے نابلد اور ایسے لوگ جو حکومت و ریاست میں فرق نہیں سمجھتے ہیں ان تمام لوگوں کو ان  کے حقوق کے تحفظ اور استعمال کا شعور دیں اور ایک باشعور قوم کی طرح ملک و قوم اور دستور و آئین کی بالادستی قائم رکھنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں. 

غلام عباس ہنزائی 

ghulamabbas923@gmail.com

ہفتہ، 26 ستمبر، 2020

کوٸی بھی صوبہ آئینی طور پر ہوتا ہے یا پھر ہوتا ہی نہیں



شیر علی      

صوبہ آئینی طور پر ہوتا ہے یا پھر ہوتا ہی نہیں 


گلگت بلتستان ائینی تشخص کے لئیے خطے کی تمام سیاسی مزہبی لسانی جغرافیائی علاقائی اکائیوں کو مل بیٹھ کر مشترکہ قومی بیانیہ کو فروغ دینا لازم ہے ایک ہی قومی بیانیہ کو اپنا کر جدوجہد کو اگر فروغ نہ دیا گیا تو وفاق میں شنوائی نہیں ہوگی اور اج اس اہم حساس معاملہ پر بھی مخصوص ایجنڈوں کو فروغ دیا گیا تو پھر یاد رکھیں اپ کے اس طرز عمل سے اپ کو وقتی فوائد تو مل سکتے ہیں مگر خطے کا مستقبل کا تعین مصلحتوں کے نظر ہوگا۔

قومی بیانیہ ہی وقت کی اہم ضرورت ہے سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہیکہ وہ اپنے قائدین کو قومی بیانیہ کے لئیے مجبور کریں وہی پر اہل قلم بھی اپنی تحریوں سے عوام میں قومی بیانیہ کو اپنانے کی اہمیت واضح کرے۔


صوبہ یا ہوتا ہے یا پھر نہیں 

یہ مشروط عبوری یہ صرف نظریہ ضرورت کی پیداوار ہے 

اگر مکمل آئینی صوبہ نہیں بنایا جاسکتا ہے تو ہھر آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ یا اسی متنازعہ حیثیت میں بااختیار کیا جائے۔

علی شیر

جمعرات، 24 ستمبر، 2020

وفاق ۔ مریم نواز کا بیانیہ بھارتی جبکہ گلگت بلتستان میں بھارت فرقہ واریت اور لثانی فسادات کرانا چاہ رہا تھا فوجی کمانڈ اور عمران خان نے احساس محرومیوں کی دوری کے لیے صوبہ بنایا

تحریر احمد حسن  

حساس اداروں نے کچھ دن پہلے وزیراعظم عمران خان کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی ایجنسیوں نے گلگت بلتستان میں فرقہ ورانہ فسادات،احساس محرومی کا ڈرامہ، نسلی فسادات اور سی پیک کو بری طرح متاثر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے 


جس کے فورا بعد وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف نے تمام سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ گلگت بلتستان کو ایک صوبے کی حیثیت دی جائے جس میں انکے بنیادی مسائل کا بآسانی ہو سکے


اس اعلان کے فوراً بعد بھارت سیخ پا ہوگیا اور "فری گلگت" کا راگ الاپنے لگا اور اپنے سلیپر سیل کے ذریعے گلگت میں فرقہ ورانہ فسادات اور منفی ذہن سازی کرنے لگا...


جب بھارت کی وہان سے دال نا گلی تو اس نے پاکستان میں موجود اپنے چہیتوں سے وہی کام لینا شروع کردیا جسکا ثبوت آج ھائ کورٹ کے باہر مریم صفدر کا وہی بھارتی بیانیہ دہرانا ہے اب آپ فیصلہ کریں کہ یہ پاکستان کے خیر خواہ ہیںیا دشمنوں کی گود میں کھیلتے وطن فرو ش    

بدھ، 23 ستمبر، 2020

کراچی غریب کی ماں ۔ جلد کراچی کی رونقیں بحال ہونگی فوجی کمانڈ اور عمران خان قیادت کا اہم کردارہے ۔ تحریر یوسف علی نگری


 

*تحریر ! یوسف علی** **نگری_* 

 *غریبوں کی ماں* *کراچی*

کراچی کی روشنیاں بہت جلد بحال ہونگی اعسکری حکام نے زمہ دارایاں سر لی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی .کراچی کی ساڈھے تین کروڈ لوگ پچھلے دس پندرہ سالوں سے پریشان اور زیادہ تر کاروباری طبقہ و مڈل کلاس لوگ انتہائی پریشان اور دیگر شہروں و ملکوں کا رخ کرنے لگے تھے اب ان میں بھی سکون بحال اور انہیں امید کی کرن نظر آرہی ہے اور بہت جلدشہر کراچی کی ماند پڈی رونقیں پھر سے بحال ہونگی اور ہونے جارہی ہیں .اس کا سہرا نہ صرف عمران خان اور اس کی مخلص ٹیم کوجاتا ہے بلکہ اعسکری قیادت بھی خراج تحسین کی مستحق ہے .جس نے کمرکس لی ہے کہ اب ہمارے بغیر کراچی نے ٹھیک نہیں ہونا ہے اس حوالے سے بریگیڈئر شہزاد سلیم اور اس کی ٹیم کرنل و میجر رینک کے حاضرسروس آفیسروں نے عزم کی ہے اور باقائدہ ڈپٹی میئر کراچی سیکرٹریٹ میں باقائدہ دفتر بھی قائم کر کے عملی کام کا آغاز کی ہے. اس سلسلے میں نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے کراچی کے بلدیاتی اور شہری اداروں کی نگرانی اور عملدآمد کے کام کا آغاز کرتے ہوئے بلدیہ عظمی! کراچی کے 22اداروں سمیت36دیگرشعبہ جات کو چار انتظامی یونٹس میں تقسیم کردیا ہے، انتظامیہ، مالیات، لینڈ ریونیو انفورسمنٹ اور میونسپل تمام شعبہ جات کا کرنل رینک کا افسر نگران ہوگا۔ مزید برآں کچھ اداروں میں ایک سے پانچ گریڈ کے ملازمین کی فہرست کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے جبکہ 38بڑے نالوں کے علاوہ 514دیگر برساتی اور سیوریج نالوں کی تفصیلات مرتب کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئندہ ایک دو روز میں پہلے جنگی بنیاد پر پہلے مرحلے میں برساتی اور سیوریج نالوں کی صفائی کے کام کا آغاز ہونے کی توقع ہے، بعدازں شہر سے کچرا اُٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے کاموں کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا کراچی کو صاف اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کراچی کے بلدیاتی اور شہری اداروں کے سربراہان کی مشاورت کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، چھ کنٹونمنٹ بورڈز کے چیف ایگز یکٹوز، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز،کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی، سند ھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی، چھ ضلعی میونسپل کارپوریشن، کمشنر و ڈپٹی کمشنرز سمیت انتظامی امور کے علاوہ تمام ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے متعلقہ افسران سے ایک اجلاس میں مشاورت کے ساتھ نئے منصوبے سے سب کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ صفائی کے ساتھ گوجر نالے اور محمود آباد نالے سے تجاوزات ہٹانے کے بعد نالے اور سڑک کے ایک ارب 78کروڑ روپے سے منظور شدہ منصوبہ پر عملدرآمد کیا جائیگا، 13.5کلو میٹر طویل گوجر نالے کی تعمیرات پر 89کروڑ روپے خرچ ہوں گے ،23کلومیٹر طویل منظور کالونی و محمود آباد نالے پر 98کروڑ روپے خرچ کیا جائے گا، دونوں منصوبوں کے لیے سندھ حکومت نے 30کروڑ روپے جاری کیے تھے۔ منصوبہ کو دسمبر 2018ء میں مکمل کیا جانا تھا۔ منصوبہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر میونسپل کمشنر بلدیہ عظمی کراچی ڈاکٹر سیف الرحمان ہیں، تاخیر سے منصوبہ کے اخراجات میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ نالوں پر ورلڈ بینک سے ملنے والے اربوں روپے فنڈز خرچ منتقل ہونے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ بریگیڈئیر شہزاد سلیم کی سربراہی میں چار کرنل اور چار میجرز کی سطح پر حاضرسروس افسران نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، ڈپٹی میئر سیکریٹریٹ میں بریگیڈئیر شہزاد سلیم نے سندھ کوارڈینیشن کمیٹی کا دفتر قائم کرلیا ہے۔ افسران کو بھی ہدایت کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ ہر افسر اور عملہ اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے انجام دے گا کسی قسم کی کوتاہی اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سندھ حکومت کے رویہ، بدنیتی کی وجہ سے کراچی سمیت ملک بھر میں یہ تاثر زور پکڑ رہا تھا کہ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے ، سندھ حکومت نہ تو کراچی کے بلدیاتی اداروں کو اختیار دینے پر تیار ہے نہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈز کے تحت ان کا جائز حصہ دینا چاہتی ہے ، کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ اداروں کے اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ کراچی دنیا کا اپنی نوعیت کا واحدمیگا سٹی ہے جہا ں ایک شہر میں 17لینڈ کنٹرول ادارے ،21میونسپل ادارے بیک وقت کام کر رہے ہیں، کراچی ساڑھے تین کروڑ سے زائد آبادی کا شہر بن چکا ہے جس کا کوئی ماسٹر پلان نہیں، کراچی میں 12سال سے ٹرانسپورٹ کے نام پر دھوکا اور فراڈ جاری ہے۔ 50 سال سے زائد عرصے سے کچی آبادی، گوٹھ آباد، بورڈ آف ریونیو کی غیر قانونی زمینوں پر قبضہ جاری ہے اور بجلی کے بحران سمیت ٹرانسپورٹ، سیوریج، پانی اور کچرے کے مسائل جوں کے توں ہیں۔اس حوالے سے شہر کراچی کی کروڈوں عوام کے اندر خوشی کی لہر دیدنی ہے اور انہوں نے تبدیلی سرکار کاگیارہ سو ارب کا خطیر رقم کا کراچی منصوبے کو کراچی کی رونقوں کی بحالی کے لئے امید کی کرن سمجھا ہے اور تبدیلی سرکار سے انہوں نے استدعا بھی کی ہے کہ ہمارے نام اس سے سابق کئی سالوں سے کھربوں کی رقوم میں خوردبورد کا بھی عمران خان حساب لے گا .تب ہی کراچی سدھر جائیگی اور.یہاں کی عوام سکھ کا سانس لے گی.

ہفتہ، 19 ستمبر، 2020

گلگت ۔ ایکزیکٹیو آرڑر کے بجاٸیے جی بی کو مکمل اختیارات دٸیے جاٸیے احسان علی ایڈوکیٹ





گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اور محنت کش طبقے کا          نقطہ نظر                 

-----------------------------------------------------------------------------

تحریر ایڈوکیٹ احسان علی        ------- 

             گلگت بلتستان میں جی بی آرڈر 2018ء کے تحت اگست کے وسط میں منعقد ھونے والے انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کئیے گئے ہیں مگر موجودہ اور سابقہ حکمران پارٹیوں پی ٹی آئی ، نون لیگ اور پی پی پی کے متوقع امیدواروں کی انتخابی مہم جاری ھے یہ حقیقت اب  جی بی کے عوام پر آشکارا ھو چکا ھے کہ یہ ایک کنٹرولڈ اسمبلی ھے عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی ھوئی ایک آئین کے بجائے اسلام آباد کی سرمایہ دار ریاست کی طرف سے  ٹھونسی گئی ایک ایگزیکٹیو آرڈر کی بنیادوں پہ قائم اسمبلی محض ایک بے بس اور بے اختیار اسمبلی ہی ھو سکتی ھے مگر دوسرے روایتی پارٹیوں سے بڑھ کر پی ٹی آئی  جھوٹے اعلانات اور بلند بانگ وعدوں کے زریعے جی بی کے عوام کو سہانے خواب دکھا کر اور دوسرے پارٹیوں سے نام نہاد الیکٹبلز جمع کرکے الیکشن جیتنے کی جتن کر رہی ھے تاکہ محنت کش عوام کو سرمایہ دارانہ نظام کی اس گہرے دلدل میں پھنستا کر رکھا جا سکے مگر گزشتہ دو سالوں سے ملک کے اندر تباہ کن مہنگائی، بڑھتی ھوئی  بےروزگاری اور 90 فیصد سے زیادہ غریب عوام کو غربت  کی چکی میں پیسنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے خلاف جی بی عوام میں بھی سخت نفرت پھیل رہی ھے 

           جس طرح پاکستان میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں  مختلف مافیاز اور مراعات یافتہ طبقے کے ہاتھوں یرغمال ہیں بالکل اسی طرح جی بی میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے اسمبلی میں یہاں کے موقع پرست بد دیانت اور  سرمایہ دار ریاست کے سہولت کاروں کا قبضہ رہا ھے یہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں 90 فیصد سے زیادہ کچلے ھوئے عوام کے بنیادی معاشی، سماجی، تعلیمی، علاج معالجہ، صاف پانی، روزگار اور سستا انصاف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ثابت ھو چکے ہیں اب تو یہ محض ڈبیٹنگ کلب بن چکے ہیں جہاں محنت کش عوام کے مسائل پہ بحث کرنے کی  بھی اجازت  نہیں۔جبکہ ملک کی تمام تر پالیسیاں کہیں اور  تیار ھوتی ہیں اسی طرح جی بی اسمبلی بھی عوامی مسائل و مشکلات ، غربت و بےروزگاری کے خاتمے، سستا انصاف،  تعلیم اور علاج معالجہ بجلی جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی میں مکمل طور پہ ناکام ھو چکی ھے۔ 

           اس گھمبیر صورت حال سے نکلنے کا بہترین حل تو یہ ھے کہ ان بھانچھ اسمبلیوں کے بے معنی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے  محنت کش عوام اپنی مزاحمتی جدوجہد کے زریعے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرکے انقلاب برپا کیا جائے اور ملک کے سارے وسائل دولت اور پیداوار کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیکر مساوی تقسیم کیا جائے مگر محنت کش عوام کو ان اصلاح پسند پارٹیوں اور سرمایہ داروں کی ان اسمبلیوں سے شاید اب بھی کچھ نہ کچھ امیدیں ہیں اس لئے وہ بائیکاٹ کیلئے تیار نظر نہیں آتے پھر ایسی صورت حال میں گلگت بلتستان کے محکوم محنت کش عوام کے سامنے متبادل حل یہ ھے کہ ان انتخابات کے سیاسی عمل سے فایدہ اٹھاتے ھوئے گراس روٹ سطح پہ گاؤں گاؤں قصبہ یونین کونسل تحصیل شہر سطح پہ  مزدوروں غریب کسانوں چھوٹے دکانداروں طالب علموں ٹیچروں، ڈاکٹروں انجینئروں اور دوسرے پروفیشنلز پہ مشتمل عوامی کونسلیں منتخب کیا جائے اور ان کونسلوں کے زریعے حلقہ یا ڈسٹرکٹ عوامی کونسلیں  منتخب کی جائیں ان کونسلوں کے سالانہ انتخابات ھوں ماہانہ اجلاس ھو اور کمزور کارکردگی والے ممبران کو واپس بلوا کر نئے ممبران کونسل منتخب کرنے کا میکنزم ھو نیز حلقے کا یا ڈسٹرکٹ کے منتخب  ممبران اسمبلی اس ڈسٹرکٹ عوامی اسمبلی کے سامنے جوابدہ ھوں اور کسی ممبر اسمبلی کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ھونے کی صورت میں  ڈسٹرکٹ عوامی کونسل کو یہ اختیار ھو کہ وہ اس ممبر اسمبلی کو واپس بلوا کر اسکی جگہ نیا ممبر اسمبلی منتخب کرے اسی طرح  ڈسٹرکٹ عوامی کونسلیں ملکے جی بی کی سطح پہ گلگت بلتستان عوامی اسمبلی قائم کی جا سکتی ھے جو جی بی عوام کی حقیقی عوامی منتخب اسمبلی ھو گی جس کی لگامیں حکمرانوں کے پاس نہیں بلکہ محنت کش عوام کے پاس ھو گی ڈسٹرکٹ انتظامیہ پولیس اور مختلف محکموں کے افسران بھی اس ڈسٹرکٹ عوامی کونسل کے سامنے جوابدہ ھوں اور افسران اور عملے کی ناقص کارکردگی کی بنیاد پہ ایسے افسران کے خلاف انکوائری کرنے اور انہیں معطل کرنے کا اختیار ھو یہی سلسلہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاح اور حلقوں تک پھیلایا جائے تو مقامی عوام بے بس اور یرغمال اسمبلیوں کے زریعے نہیں بلکہ عوام کی طرف سے جمہوری طریقے سے منتخب کردہ ان عوامی کونسلوں کے گراس روٹ لیول سے انقلابی بنیادوں پہ جدوجہد کے ذریعے مسلسل دباؤ ڈال کر ہی ریاستی وسائل دولت کو افسر شاہی کے بجائے عوام کی بنیادی سہولیات اور اجتماعی ترقی پہ خرچ کرایا جا سکتا ھے اور بیوروکریسی پہ عوامی راج قائم کیا جا سکتا ھے یہی منتخب عوامی کونسلیں آگے چل کر انقلاب کے بعد حقیقی مزدور جمہوریت کی بنیاد ڈالنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ 

جمعہ، 18 ستمبر، 2020

گجر پورہ موٹر وے واقعے پر ۔ باتیں قانون والوں کی تحریر روہیل اکبر کی

 



باتیں قانون والوں کی

میری بات/روہیل اکبر

گجر پورہ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے بعد اگر ہماری ایجنسیاں پولیس کی مدد نہ کرتی تو شائد ابھی تک کوئی ایک مجرم بھی نہ پکڑا جاسکتا یہ تو بھلا ہو آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا جنکی کاوشوں سے ملزمان پکڑے جارہے ہیں جو خود کسی بھی قسم کاکریڈٹ لینے کی بجائے پولیس اور دوسرے اداروں کو دے رہے ہیں پولیس افسران میڈیا کے سامنے سینہ پھیلائے جب اپنے کارنامے گنوا رہے ہوتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ کیسی ڈھٹائی ہے ان کے اندر کسی اور کی محنت کو اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں یہ لوگ اپنی ناک کے نیچے منشیات فروشوں،جواریوں اور نوسربازوں کو تو گرفتار نہیں کرسکتے اور لگے ہیں بڑے بڑے دعوے کرنے پورے ملک کو چھوڑیں آپ صرف اسلام آباد،لاہور،کراچی،پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کو دیکھ لیں یہ وہ شہر ہیں جنہیں شہر اقتدار کہا جاتا ہیں جہاں عوام کے منتخب وزیراعظم،منتخب وزرائے اعلی،وزیروں کی فوج چیف سیکریٹری اور آئی جی سے لیکر ہر اعلی عہدیدار موجود ہے ان شہروں کی کونسی گلی،کونسا محلہ اور کونسا علاقہ منشیات فروشوں سے محفوظ ہے چرس سے لیکر آئس تک ہر چیز سرے عام فروخت ہورہی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن کی دیوار وں کے سائے میں منشیات فروخت ہوتی ہے اور پی بھی جاتی ہے یہ شہر اقتدار ہیں اور ہمارے پسماندہ علاقوں کی کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ آپ لوگ خود ہی لگا لیں آجکل چونکہ گجر پورہ بہت مشہور ہوچکا ہے کچھ اسی علاقے کی بات بھی ہوجائے کہ جرائم کی دنیا میں اس علاقے کی اپنی ایک الگ ہی پہچان ہے جعل سازی یہاں عام ہے کسی بھی برانڈ کی دو نمبر چیز یہاں سے باآسانی مل جاتی ہے جعلی موبل آئل،جعلی شراب،جعلی چرس،جعلی کاسمیٹکس،جعلی اشیاء خردونوش،جعلی ادویات،قبضہ گروپ،ڈکیت گینگ،بھتہ مافیا اور ناجانے کیا کیا اس علاقے میں ہورہا ہے اور یہ سب کچھ پولیس تھانہ گجر پورہ کو معلوم نہیں کیوں؟ کیونکہ پولیس کو سوائے رشوت خوری کے اور کوئی کام آتا ہی نہیں اپنی تعیناتیوں کے لیے سفارش اور شوت سے کام لیتے ہیں سیاستدانوں کی خوش آمد میں مصروف رہتے ہیں اور شریف شہریوں کو تنگ کرنے کے سوا کوئی اور کام انہیں آتاہی نہیں اگر کوئی کام پولیس والوں کے لیے درد سر بن جائے تو پھر انکی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے فریقین کے درمیان راضی نامہ کروادیں یا پھر مثل میں ایسی  باتیں لکھ دیں جس سے کیس کمزور ہوجائے کیس کمزور کیوں نہ ہو تفتیشی افسران لکھ نہیں سکتے اس کام کے لیے انہوں نے کرایہ پر بندے رکھے ہوئے ہیں انکی مرضی ہے جو چاہیں لکھ دیں اور وہی پولیس کے لیے ٹاؤٹ کا کام بھی کرتے ہیں موٹروے پر خاتون کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ میڈیا پر زندہ ہے اگر ہائی لائٹ نہ ہوتا تو پولیس نے اس ایشو پر ہر روز لاکھوں کی دیہاڑیاں لگانا تھی درجنوں افراد شک وشبہ میں پکڑے جانے تھے اور پھر مک مکا کے بعد چھوڑ دیے جاتے اس نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے قانون بنانے والوں اور قانون نافذ کرنے والوں کے ذہنوں کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ہم باتوں سے نکل ہر عمل کی طرف آئیں اور خاص کر جنسی زیادتی کے مجرموں  کے لئے  نہ راضی نامہ ہونا چاہیے نہ جرگہ ہونا چاہئے،ایک ایسی مربوط قسم کی قانون سازی کی جائے کہ اس طرح کا گھناؤنا فعل کرنے والا کوئی مجرم نہ بچ سکے، حکومت کومدعی بننا چاہیئے یہ سیاسی ایشو نہیں یہ معاشرے کا ایشو ہے،موٹروے  واقعہ نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا، وزیر اعظم چاروں چیف منسٹرز کو بلائیں، سی سی آئی کے فورم پر اس معاملے کو  لے کر جائیں کہ ان واقعات کو روکنے کے لیئے صوبے اور وفاق  مل کر کیا قانون سازی کر سکتے ہیں اور کیا قانون سازی فوری طور پر ہونی چاہیئے؟   اگر پھانسیاں دینے سے معاملہ حل ہوتا تویہ معاملہ آسان تھا، حل صرف یہ ہے کہ نظام انصاف میں اصلاحات کی جائیں،ایسے واقعات پے درپے ہو رہے ہیں، ایک مہینہ ہم ان واقعات کا ماتم کرتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں، ہر سال اوسطا پاکستان میں 5 ہزار ریپ کے واقعات ہوتے ہیں، یہ وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے، بے شمار لوگ یہ کیسز رجسٹر ہی نہیں کراتے،اس واقعہ کو بھی حسب سابق سیاسی جماعتوں نے سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کیا گذشتہ روز قومی اسمبلی  اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فو اد چوہدری نے کہا کہ جو سانحہ ہوا، بلاشبہ اس نے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، ایسے واقعات پے در  پے ہو رہے ہیں  عابد ملزم کے بارے میں کہا رہا ہے کہ وہ پہلے بھی ریپ کیس میں پکڑا گیا مگر صلح ہو گئی، اگر پھانسیاں دینے سے معاملہ حل ہوتا تویہ معاملہ آسان تھا، زینب کے کیس میں کیس دو ہفتے  بھی نہیں چلا مجرم کو پھانسی ہوئی  حل صرف یہ ہے کہ نظام انصاف میں اصلاحات کی جائیں، اصلاحات کی ضرورت ہے، عورتوں کا دکھ عورت ہی سمجھ سکتی ہے،جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ قرآن و سنت کے مطابق قانون  رجم بنایا جائے اور اس کے مطابق عمل کیا جائے، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایک ایسی مربوط قسم کی قانون سازی کریں کہ کہ اس ملک میں اس طرح کا گھناؤنا فعل کرنے والا کوئی مجرم نہ بچ سکے، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ اتنا تکلیف دہ واقعہ ہوا ہے،اس واقعہ کو بھی سیاسی جماعتوں نے سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کیا، کہا گیا کہ یہ جس موٹروے پر یہ واقعہ ہوا ہے   وہ  ہمارے لیڈر نے بنایا تھا، زرتاج گل نے کہا کہ خواتین کا برابرا کا حق ہے کہ ان کو یہاں بولنے دیاجائے، ہمیں  قومی آگاہی  مہم چلانی چاہیئے، خواتین کی ملازمت کی سکیورٹی کا مسئلہ ہوتا ہے، عوامی  نیشنل پارٹی کے رہنماء امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ لوگ تنگ آجاتے ہیں عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے غریب لوگ ہوتے ہیں دباؤ میں آجاتے ہیں، مجبورا  راضی نامہ کر لیتے ہیں،   ان حیوانوں کے لیئے نہ راضی نامہ ہونا چاہیئے نہ جرگہ ہونا چاہیئے، رکن اسمبلی غوث بخش خان مہر نے کہا کہ پولیس پیٹرولنگ رات کو بھی سڑکوں پر ہونی چاہیے، شرعی سزا دینی چاہیئے، رکن اسمبلی مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ حکومت کومدعی بننا چاہیئے یہ سیاسی ایشو نہیں یہ معاشرے کا ایشو ہے، سب کو سر جوڑ کر ون پوائنٹ ایجنڈا پربیٹھنا ہو گاقانون میں ترمیم کرنی ہو گی، ہم ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہزاروں ریپ کیس ہوتے ہیں،ہمیں اپنے قانون کو مضبوط کرنا ہے، رکن اسمبلی  صابر حسین قائم خانی نے کہا کہ ان واقعات کو روکنے کے لیئے کب اقدامات کریں گے، ایسی سزائیں تجویز کریں کہ مجرم عبرت کا نشان بن کر رہے،  جو بھی قانون بنے اس پر عملدرآمد ہوتا نظر آنا چاہیئے، اب وقت سیاست کا نہیں ہے،رکن اسمبلی حنا ربانی کھر نے کہا کہ واقعہ نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا،رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہاکہ جو واقعہ ہوا موٹروے پر اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، قوانین موجود ہیں،کنوکشن ریٹ کوبڑھانا ہو گا۔ یہ تو تھیں عوامی نمائندوں کی باتیں جو سب کچھ کرنے کے باوجود کچھ نہیں کرتے اگر کچھ کرتے ہیں تو صرف باتیں اور انہی باتوں کی بدولت وہ عوام کو سبز باغ دکھا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں یہ نگہبان ہیں عوام کے مگرعوام کو بے یارو مددگار چھوڑا ہوا ہے ہماری پولیس اور ہمارے ادارے لوٹ مار میں ملوث ہیں تھانوں کا نظام بدمعاش،رسہ گیر،منشیات فروش اور جواری چلا رہے ہیں اور ان سب نوسربازوں کی سرپرستی ہمارے سیاستدان کرتے ہیں اس لیے فواد چوہدری کی باتوں کو سنجیدہ لیں اور سوچیں )